Jawed Panhwar سندھی صحافت 1 Urdu

 

1660 words

 Do not send again unless asked

Sindhi journalism  1

سنڌي صحافت ۽ اخبار نويسي پس منظر ۽ تاريخ

JAWED PANWAR 2K18/MC/72

صحافت کا علم اور عمل جو پہلے لکھائی اور چھائی تک محدود تھا سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ترقی کی نہ صرف الیکٹرانک میڈیا ریڈیو اور ٹی وی کے دور میں داخل ہواپر اب تو انٹرنیٹ کی ایجاد نے اسکی اہمیت تصور اور رفتار اب اور بھی بڑھا دی ہے.سندھی اخبارات اور رسالے اب آنلائن آگئے ہیں ویب ریڈیو منعقد ہو چکے ہیں اور تو شوشلمیڈیا پہ سندھی میں لکھنے کا سلسلہ جاری ہے. صحافت کی رفتار کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے کسی جگہ تک پہنچے میں کئی دن اور ہفتے بھی لگ جاتے تھے مثال کے طور پر۱۸۰۵ع  میں ایڈمرل لارڈ نیلسن ٹریفلگر کی جنگ میں ایک بحری جہاز پے مارہ گئے تھے وہ خبر لندن تک پہنچنے میں دو ہفتے لگ گئے تھے.رائل نیوی کا ایک لیفٹیننٹ وہی خبر لیکر خود ایک بحری جہاز میں سفر کرتا لندن پہنچا تھا لندن کے علاوہ انگلینڈ کے دوسرے شہروں میں تو وہ خبر اور بھی دیر سے پہنچی تھی.

اسکے بعد ایک سو سال تک مواصلاتی ذریعے ذیادتر نہیں بڑہے سوائے اس کے کہ ریل گاڑیاں چلنے لگی تہیں.صحافت کو زیادہ ترقی تب ملی جب ۱۹۲۰ع کو ریڈیو ایجاد ہوا ۱۹۳۹ع سے ۱۹۴۵ع تک دوسری مھاپاری جنگ کے دوران بی بی سی کی خبروں نے تو دھوم مچادی تھی  اور اخباروں کو ریڈیو نشریات کی وجہ سے بہت خطرہ ہونے لگا تھا اور پھر ۱۹۵۶ع میں ٹیلیویزن وجود میں آگئی نومبر ۱۹۶۳ع میں جب آمریکی صدر جان ایف کینیڈی ڈلاس میں قتل ہوا تو خبر کچھ ہی سیکنڈوں  میں پوری دنیا میں پھیل گئی جس کا سبب ریڈیو اور ٹیلیویزن تھے.بی بی سی ریڈیو کی نشریات اتنی طاقتور تہیں کے سند میں بہی سننے میں آتی تہی.

سورھیہ بادشاہ  پیر صبغتہ اللہ کے پاس بھی ایک ریڈیو تھا جس سی وہ بی بی سی کی خبریں سنتا تھا اور برطانوی  فوجؤں کی چرپر اور پیش قدمی کے بارے میں نا صرف خد باخبر رہتا تھا بلکے اپنے حر مجاہدوں کو معلومات دے  کے خالتون کے مطابق تیار رہنے کی ہدایت کرتا تھا. سندھ میں مواصلاتی ذریعوں کی زیادہ ترقی نہ ہونے کے باعث کراچی سے چھپنے والے اخباریں بیسویں صدی کے ۱۹۷۰ع والے دہاکے تک بہی دور دراز والے علاقوں تک سورج ڈوبنے کے وقت یا دوسرے دن پہنچتی تھیں.اخباروں  کے بنڈل ٹرینوں اور بسوں میں  ڈہیر کیئے جاتے تھے اور اخباروں کی تقسیم بھی اس گاڑیوں کے مختلف شہروں میں پہنچنے کے وقت پے دارومدار رکھتی تھیں.ایکیسوی صدی کی شروعات سے ایک یے  فرق پڑا  کے اخباری اداروں  نے وہی اخبار  ایک جگہ سے زیادہ جگہؤں سے شائع کراکے بانٹنے لگے،اس حکمت عملی سے اخباریں بنا دیر کیئے کر جگہ کو پہنچنے لگی.اس وقت کچہ اخباریں ایک ہی وقت،کراچی،حیدرآباد اور سکہر سے چہپتی ہیں.

صحافت کی اہمیت کی وجہ سے دنیا کی یونیورسٹیوں کی اندر صحافت کے علم کا نہ صرف شعبا قائم کیا گیا پر جیسے کے صحافت خبروں تک محدود نہیں تھی جسکی وجہ سے اسکا نام تبدیل کر کے ماس کمیونیکیشن رکھا گیاجس میں پرنٹ میڈیا الیکڑانک میڈیا اور ایڈور ٹائزنگ کا علم سکھایا جاتا ہے اس طرح پبلک ریلیشنز (تعلقاتِ عامہ) بھی ماس کمیونیکیشن کا حصہ ہے جس میں سرکاری اور خانگی اداروں کے پبلک ریلیشن والے شعبوں میں جانے کیلئے ہینڈآئون اور پریس رلیز بنانا سکحھائی جاتی ہے .سندھ میں شہید ذولفقار علی بھٹو کی حکومت کے دنوں ۱۹۷۰ع کی دہائی کے اوائل میں کراچی یونیورسٹی میں صحافت کا شعبہ قائم ہوا جس کے بعد ۱۹۷۵ع  کے دوران سندھ یونیورسٹی جامشورو میں ایسا شعبہ قائم ہوا جہا سے ماسٹرس کی ڈگری دی جاتی ہے.کتنے ہی شاگرد ان یونیورسٹیوں سے ماس کمیونیکیشن کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں.

سندھ میں چھپائی کی شروعات

سندھی زبان میں چہپائی ۱۸۴۸ع سے شروع ہوئی اور پہلا سندھی کتاب ۱۸۵۸ع  میں شائع ہوا،'ہسٹری آف انڈین لٹریچر'(والیم ۹ حصہ ۱ اور ۲ ).موجب سب سے پہلے سندھی ٹائپ کا استعمال ۱۸۵۸ع لنڈن میں ہوا جب ارنیست ٹرمپ کا سندھی ریڈنگ بک شائع ہوا.اسکامیابیکےبعد۱۸۶۳ع  میں 'سسئ پھنوں' کا داستان شائع کیا گیا ارنیسٹ ٹرمپ کا "شاھ جورسالو"لیپزگ جرمنی میں ۱۸۶۶ع میں شائع ہوا جو کہ نا مکمل تھا.جس میں باب ترتیب سے نہیں تھے تین سال کے بعد کراچی میں پہلی لیٹرپریس قائم ہوئی جھاں سے پہلی سندھی اخبار شائع کی گئی.انگریزوں نے  یہاں پہ کرسچن اسکول قائم  کیئے تھے جہاں پڑھانے کیلئے بائبل کا سندھی ترجمہ شایع کیا گیا جس سے سندھی نثر لکھنے اور شایع ہونے کی شروعات ہوئی جو کہ اس وقت کے چھپائی کے طریقے کار سے سندھی چھپائی کا دور ۱۸۴۸ع  بتایا جاتا ہے  پر تاریخ کی حقیقتیں بتاتی نہیں کے سندھی چھپائی کی شکلیں  اس سے  پہلے بھی ہوئی تھیں.

انسٹیٹیوٹ آف شندالاجی سندھ یونیورسٹی جام شورو میں  قرآن ،حدیث، تفسیر،  شاعری، تاریخ،طب وغیرہ کے موضوع  پے ۱۸۸۴ع کے زمانے کے تین سو سے زیادہ ہاتھ سے لکھے گئی کتاب اور اخباروں کے نسخے پڑے ہیں،  اس کے علاوہ تاریخی اخبار 'الوحید'( ۱۹۲۰ سے ۱۹۵۰) انگریزی اخبار 'سندھ قاصد'( ۱۸۵۴ سے ۱۸۵۷)'سندھ سدار'(۱۸۷۸) اور انگریزی اخبار ڈیلی گیزٹ (۱۹۲۱ سے ۱۹۳۱)  کے شمار رکھے گئے ہیں.

سندھمیںصحافتکیقدامت کا جائزہ

  سندھ میں صحافت کا سلسلہ دسویں صدی سے بھی پہلے کا معلوم ہوتا ہے  دسویں صدی سے لیکر انیسویں صدی تک یعنی انگریزوں کی آمد تک سندھ میں فارسی زبان متعارف ہوئی اگرچہ دسویں صدی کے دوران سندھی زبان کے مالا مال ہونے کی تصدیق مشہور سیاحوں اور مؤرخوں  استخری ابن حوقل اور مقدسی نے کی تھی پر ادبی اور سرکاری زبان زیادہ تر فارسی تھی .ظاہر ہے کہ اس صورتحال میں اخبار نویسی ( بعد میں وہ جس بھی شکل میں تھی ) فارسی زبان میں ہی چلتی ہوگی حکیم محمد سیوھانی کے مطابق مغلوں کے دور میں کم از کم تین روزانی اخباریں ایک بکرسرکار دوسری سیوستان سرکار اور تیسری ٺٹہ سرکار ذریعے نکلتی تھیں. جس میں اکثریت اعلٰی طبقے کی مصروفیات, مشغلے, شکار, تقرری اور تبادلوں کے احاطے شایع ہوتے تھے.  انہیں اس وقت کے سرکاری ہینڈآئوٹ کہہ سکتے ہیں جس سے آج کل کی حکومتوں کے سرکاری ہینڈآئوٹ روزانہ جاری ہوتے ہیں وہ اخباریں یا ہینڈآئوٹ فلم نگاروں سے لکھواکے بڑے لوگوں میں تقسیم کئیے جاتے تھے.

حکیم صاحب کے مطابق مشہور  سرکار سیوستان کے نام سے نکلنے والی روزنامہ اخبار کی آفس سیوہن میں  اڑل کئینال کے قریب تھی. مغلوں کے دور میں سید عبدالجلیل بلگرامی اور سید غلام علی آزاد بلگرامی سیوہن میں کافی وقت گزارا اور ان کے ذمہ پے کام تھا کی یہاں کی حالتوں سے دہلی کی حکومت کو باخبر رکیں.  یہ دونوں  بڑے تاریخدان تھے  واقع نگاروں اور واقعات کو بھیجنے  کے ان دنوں میں بندوبست سیوہن کے  علاوہ بکر اور ٹھٹھہ میں  بھی تھا آزاد بلگرامی بڑے محدث اور عالم محمد حیات سندھ کا شاگرد اور سیوہن میں اکبر بادشاہ کی حکومت کے وقائع سرکار سیوستان اخبار کے ایڈیٹر تھے. ڈاکٹر عبدالمجیید میمن کے مطابق مغلوں کے زمانے میں اخبار نویسی اور وقائع نویسی نے بڑی ترقی کی ابوالفضل آئین اکبری میں وقائع نگاری کی اہمیت کے بارے میں لکھتے ہیں سلطان کے واقعات کو قلمبند کرنا نہ صر ف حکومت کی ترقی اور انتظام کیلئے ضروری ہے جیسا کہ قدیم زمانے کا بھی پتا چلتا ہے ہر اس اصل حقیقت سےاہل زمانے کو اس مبارک عہد (اکبر دور) میں آگاہی ملی کے اس دور میں دراصل وقائع نویسی نے اخبار نویسی کی بنیاد کا کام کیا اس دور میں خبروں کو پپھیلانےکے بارے میں ڈاکٹر عبدالسلام خورشید اپنی  تصنیف میں لکھتے ہیں کے اب ہم کو دیکھنا پڑیگا کے سلامطین دہلی اور مغل حکمرانوں کے دور میں  خبروں کو کیسے عام لوگوں تک پہنچایا جاتا تھا آج کے دور کا مقابلہ چندسوسال پہلے سے کرینگےتو معلوم ہوگا کے اس وقت اب سے بھی کم لوگوں کو خبروں سے دلچسپی تھی. عوام صرف بڑی بڑی فتوحات کی خبروں میں دلچسپی لیتا تھا خبر پھلانے کا اس وقت طریقہ نغارہ بجا کے شھر میں اس کا اعلان ہوتا تھا کبھی کبھی مسجدوں میں بھی اعلان ہوتے تھے اور خبروں میں دلچسپی کا سامان صرف امیروں اور سرداروں کے لئیے موجود تھا اس وقت میں بھی اندرونی امن اور بیرونی حملوں سے  بچنے کیلئے اخبار تنظیم زیادہ مدد دیتی تھی."اخباری تنظیم" عوامی شکایتوں کے ازالے کیلئے بہترین ذریعہ تھا اخبار نویس کو معاشرے میں اعلٰی مقام حاصل تھا اور وہ خبروں کی فراہمی اور پہنچ میں مکمل آزاد تھا  جو خبریں معاشرے کے جس حلقے تک پہنچانا ضروری تھیں وہ پہنچائی جاتی تھیں سندھ میں ڈھول بجا کے  اعلان کرنے کا رواج قدیمی ہے جو کے پیغام  یا خبر کی رسائی کا ایک طریقہ تھا.

دنیا میں اخبار نویسی کے پہلے دور کی باقاعدہ مرتب کی گئی تاریخ نہیں ہے،پر تحقیق سے معلوم ہوتا ہے عوام تک خبریں پہچانے کا آغاز چین ملک میں ہوا اور پہلی اخبار کا نام 'سنگ پا' تہا،جو لکڑو کے ٹکڑوں سے چہپی ہوئی تہی.کچہ لوگوں کا رایہ ہے کے  پہلی اخبار 'ایکٹا ڈیورانا' تہی. جو روم میں جولیسس سیزر کے زمانے میں رومن زبان میں نکلتی تہی. 'ایکٹا ڈیورانا' کی معنئ ہے 'دروز نے واقعات' . اس کے دو حصے ہوتے تہے ایک ' ایکٹا سنٹا' اوے دوسرا ' ایکٹا پبلیکا'. پہلا حصا مختصر سرکاری اطوعات کا مجموعا ہوتا تہا، جس میں جنگوں کے احوال،چنائو کے نتیجے، تفریحی پروگرام کے اعلان،مذہبی رسموں کے اطلاع اور دی گئی سزائوں کے بارے میں خبریں ہدتی تہیں.دوسرے حصے 'ایکٹا پبلیکا' میں عوام سے وابسطہ خبریں چہپتی تہیں.یے اخبار سرکار کی مدد سے شایع کی جاتی تہی.جس میں پیدا ہونے اور موت کے عدد و شمار،خزانوں میں جمع کی گئی رقمیں،صوبوں کے خانے پینے کے تفصیل اور،اس سے منسلک دوسری خبریں، شاھی سفر اور قافلوں کے پروگرام،کورٹ سرکیولر اور پرلیامینٹ میں کی گئی تقریریں شائع ہوت تہیں.صبح کے ناشتے کے وقت روم کے سردار اور جن کی عورتیں قدیم تریم 'ٹچائو'،گزیٹ نہایت شوق سے پڑہتے تہے.کچہ رویتوں کے مطابق چین کو اخبار 'ٹچائو' اخباروں میں سے تصور کی جاتی ہے. اس اخبا کو ' پیکنگ گیزٹ'  کہا جاتا ہے. اس اخبار میں ۲۰ سے ۴۰ صفحے ہوتے تہے اور ان کی سرکاری گزیٹ کی حیثیت ہوتی تہی. یے اخبار(۶۱۸ سے ۹۰۵)  تک نکلتی تہی.یورپ میں تحریری صحافت کی شروعات سترہویں صدی سے ہوئی.

 


Comments

Popular posts from this blog

Season Of Silence Bushra Fatima چُپ کا موسم

Traffic Congestion in Main Qasimabad Komal Qureshi

Waseem Akram Viral memes- Eng