Javeed Ali Sindhi journalists 4 Urdu


Javeed Ali
2k18/mc/70
Assignment: Translation Sindhi to Urdu


سندہی صحافی 4                

ابڑو بدر

ابڑو بدر: سندہی کے مشہور کہانیکار جمال ابڑو کے پوتے نامیار منصف، صحافی، لغت نویس اور محقق تہے. بدر ابڑو کی پیدائش 19 ڈسمبر 1953 لاڑکانہ میں ہوئی. انہوں نے شروعاتی تعلیم لاڑکانہ، خیرپور، ٹنڈوالہیار اور سجاول سے حاصل کی. میٹرک ماڈل اسکول حیدرآباد میں 1969ع میں حاصل کی اور انٹر کے بعد کراچی میں سے بی کام کی ڈگری حاصل کی.ادبی گہرانے کی تعلق کی وجہ سے 1973ع سے مختصر کہانیاں لکہنے کا آغاز کیا، سندہی ادبی سنگت کراچی کی میٹنگس میں دلچسپی سے شریک ہوتے تہے. اس دؤر میں انور پیرزادو، فقیر محمد لاشاری، عبدالرحمان نقاش، مشتاق باگانی، بیدل مسرور، ہدایت بلوچ اور کئی اور دوست ساتہیوں میں بہت سرگرم تہے، تاج بلوچ، شمشیرالحیدری، بدر قریشی اور تاجل بیوس ان کے سینیئر ساتہی تہے.
1980ع میں ضیاءالحق کی مارشل لا والے عرصے میں کمیونسٹ پارٹی کے خلاف کاروائی کی گئی تو بدر ابڑو اپنے دوستوں پروفیسر جمال نقوی، کامریڈ امر لال، سہیل سانگی، شبیر شر اور کمال وارثی کے ساتھ گرفتار کئے گئے. کمیونسٹ پارٹی کے دوستوں پر خاص فوجی عدالت میں کیس چلا، جو "جام ساقی کے نام سے کیس"مشہور ہوا، اس کیس میں پاکستان کے اہم ترین سیاستدان محترمہ بینظیر بھٹو، خان ولی خان، میر غوث بخش بزنجو، مولانا شاھ محمد امروٹی اورکئی اور شاہدوں کے طور پر پیش ہوئے. بدر ابڑو چار سالوں تک جیل میں قید رہا. ان کو ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے 'ضمیر کا قیدی' قرار دیا گیا تہا. اس بعد انہوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا. 1985ع میں حلال پاکستان کراچی میں کام کرنا شروع کیا، 1990ع میں روزانہ "پکار" سکہر کا ایڈیٹر ہوا. بعد میں "پکار" کراچی میں سے شعایہ ہونا شروع ہوئی وہیں بہی وہ ایڈیٹر رہے. 1993ع میں انہوں نے ادبی، سیاسی، اور سماجی "روح رھان" جاری کی،جس کے (9)پرچے آسکے. 1997ع میں آپ "بارش" کا ایڈیٹر مقرر ہوا. اس وقت تک بدر ابڑو کے کئی کتاب شایع ہو چکے ہیں، جس میں "تنقیدنگاری"(1985ع)، "رنی کوٹ"(1989)،"ھنگلاج اور لاھوت" (تحقیق:1992ع)،میں "ریاست جھنگل کی کپائی" (کہانیاں:1992)،جیل کی ڈائری"(1994)،"سندھو کا سفر"( 1994)،بگوانوں کا (نیپال کا سفر نامہ) 1996،رنی کوٹ (اردو میں:1997ع)،"آدمی"( 1998)،"سندھ کا شاھ"( 2000ع)شامل ہیں. اس کے بعد ان کے تحقیقی سفر نامے بھی شائع ہوئے جو نیچے ہیں جس میں "کیر تہر کا سفر" کے پانچ جلد،"کوھستان کا سفر"،  "سندھ میں پتھروں پر قدیم نقاشی"،"منچھر گاج دنیا""کتے کی قبر کی طرف"،اور "سہیون کی تاریخ"شامل ہیں. اس کے بعد اس موضوع وار انسائیکلوپیڈیا کی اہم معلومات کے لیے مبنی کتاب تیار کئے ہیں، جن میں سے "سندھ جھنگلی جیوت" اس بابت کتاب سندھی لینگویج اتھارٹی کی طرف سے(2009ع)میں شائع ہوا ہے. اس کے بعد اس طرف کے ادارے کی طرف انسائیکلوپیڈیا سندیانا کے عنوان سے تیار کئے انسائیکلوپیڈیا کی پہلی جلد کی تیاری میں بہی اہم کردار ہے.جب کے نا چہپے ہوئی کتاب 'خواب اور خیال"(شاعری) اور صوفیانہ فلسفے پر تحریروں کا مجموعہ"پیہے جان آپ میں" شامل ہیں. بدر ابڑو نے مختلف اخباروں میں کتنے ہی کالم، ایڈیٹوریل اور مضمون بہی لکھے جس میں "یے سین"کی سریھیٹ ھلالپاکستان میں "زندگی جدوجھد، اٹتھک سفر"(ھلال پاکستان)."سندھ باد"(ھلال پاکستان)"وتایو فقیر سوچتا ہے"،(بارش)،"آئینہ". (سندھ، کاوش اور خبریں اخباروں میں). دلچسپی والی بات کی اس نے فرضی ناموں سے خود کالم لکھے جس میں کبھی "شھبان لطیف" کبھی"مترش"،"احسان اللہ"،"بشیر عباسی"،"آدیسی تمر لاھوتی" اور 'سند باد' جیسے نام استعمال کئے.ان کو ماننے کے طور پرAPNS اوارڈ1987ع میں ملا.آرٹس کائونسل میں مجسمے سازی کا کورس کیا جس سال اس نے پوری کراچی میں پہلی پوزیشن حاصل کی تہی. 1986عبدر ابڑو شاھ لطیف کا خیالی مجسمہبہیبنایا.ان کی زندگی کا اہم پہلومھم جوئی ہے. اس نے 1989ع میں کابل ندی سے کراچی تک کشتیوں کے سندھ کا سفر کیا.
بدر ابڑو نے قریبی ماضی سے آکسفورڈ یونورسٹی پریس کراچی میں فرض نبھائے ہیں، جہاں پروجیکٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے اہم انگلش- سندھی ڈکشنری کی تیاری میں کردار ادا کیا ہے. بدر ابڑو تحقیقی اور آرکیالاجی سےدلچسپی سبب مختلف جگہوں کا سفر کرتا رہا اس وقت ان کی رہائش کراچی میں ہے.



حمید سندھی

حمید سندھی:سندھی بولی کے نامیار ادیب، مصنف حمید سندھی کا پورا نام عبدالحمید والد کا نام محمّد اسماعیل میمن ہے. اس نے 12 اکتوبر 1939 میں نوشھروفیروز میں جنم لیا.پرائمری اور سیکنڈری تعلیم نوشھروفیروز میں سے حاصل کی. گریجوئیشن کرنے کے بعد زرعی اقتصادیات کے مضمون میں ایم. اے اور ایل. ایل. بی کی.1960-61ع دارے ولیج ایڈ کھاتے میں پبلسٹی آفیسر مقرر ہوا، جس کے بعد مختلف کوآپریٹو اور قمرشل بینک میں 1966ع تک آفیسر اور مینیجر بن کر کام کیا. 1966ع سے 1970ع والے عرصے میں وکالت کی. بعد میں انہوں نے سندھ یونیورسٹی میں امتحانی کنٹرولر، رجسٹرار اور ایڈیشنل ڈائریکٹر (سندھ لاجی) بن کر خدمت سرانجام دی. کچھ عرصہ تعلیم ادارے میں ڈائریکٹر کالیجز پبلک اسکول حیدراباد کے پرنسپل بن کر ذمیواریاں سنبھالیں.ملازمت کے دوراں علمی ادبی کام بھی جاری رکھا اور کھانیاں لکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی قائم کی ہوئی 'بزم روح ریحان'کے پلیٹ فورم سے ادبی بیٹہکیں، مشاعرہ وغیرہ منعقد کرتا تہا ادبی مخزن "روح رھان"جاری کی اس کے ساتھ 'مارئی' اور 'لطیف ڈائیجیسٹ' کا ایڈیٹر اور'نئی زندگی' مخزن کا صلاحکار بھی رہا ہے. اس آانتظامی تجربے نے سامنے رکھ کر حکومت کی طرف سے سندھ زرعی یونیورسٹی تندوجام اور شاہ عبدللطیف یونیورسٹی خیرپور کا وائیس چانسلر مقرر ہوا. اپنے اسی بلبودے پر 1995ع تک رہا 1996ع میں ڈائریکٹر، بیورو آف کریکیولم؛ 1997ع سے 1998ع تک سندھ ٹیکسٹ بورڈ کا چیئرمیناور 1997ع سے 1998ع تک سندھی لینگویج اتھارٹی کے چیئرمین رہا. حمید سندھی سندھ یونیورسٹی کے سینیٹ، مالیاتی کمیٹی اور بھٹ شاھ ثقافتی مرکز کا میمبر بھی رہا. تعلیمی بورڈ سکر:؛حیدراباد؛سندھی ادبی بورڈ،جامشورو؛ پبلک اسکول سکر؛فیڈرل سوشل ایکشن پرگرام اسلام آباد؛سندھ کائونسل آف اسکائوڈ وغیرہ کی انتظامی بورڈوں کا میمبر اور سچل اکیڈمی خیرپور کا چیئرمین بھی رہا. حمید سندھی علمی ادبی خدمات کے بدلے کتنے ہی ایوارڈ/اعزاز ملے جس میں: کہانیوں کی مجموئی 'ویرون' پے پاکستان اکیڈمی آف لیٹرس،  پاکستان رائیٹس گلڈ اور سندالاجی جامشورو کی طرف سے ایوارڈ(1981)، بھٹ شاھ مرکز کی طرف سے 'شاھ عبداللطیف اوارڈ'؛ نیشنل بوک فائونڈیشن کی طرف سے کتاب 'رانا کی رجپوت' پے اوارڈ(1995)،پاکستان سرکار کی طرف سے 23 مارچ 1990ع پے 'تمغہ امتیاز'ایوارڈ، اور 28 آگسٹ 1993ع پے صدارتی 'اعزاز فضیلت' شامل ہے حمید سندھی کی چھپائی ہوئی کتابوں میں:(1) سیمی (کہانیوں کامجموعا) ، (2) اداس وادیاں (کہانیوں کے: دو چہاپے) ،(3) ویرون (کہانیوں کے تین چہاپے) ،(4) رانا کی اجپوت (کہانیوں:دو چہاپے) ، (5) جاگ بہی تمہارے جی سے (کہانیاں) ،(6) سونی زنجیر (جاپانی لوک کہانیاں)،(8) آری آئیں شال (سچل سرمست پے تحقیقی مقالا،ترتیب) ،مھران کی چنی ہوئی کہانیاں (ترتیب)  شامل ہیں اس کے علاوہ ہر سال شاھ عباللطیف بھٹائی کے عرس کے موقعے پر ادبی کانفرنس میں مختلف سروں پے پیش کی ہوئی تحقیقی مقالے کے مرتب رہے ہیں، اسی سلسلے میں:(1) سر لیلا چنیسر،  (2) سر گھاتو،  (3) سر کاموڈ،  (4) سر مارئی، (5) سر کاھوڑی،  (9) سر کارایل، (10) سر بروو،  (11) سر سارنگوغیرہ کتابی صورت میں چھپی ہیں. حمید سندھی کچھ عرصہ پبلک اسکول حیدراباد کے بورڈ آف گورنرس کا چیئرمین بہی رہا 'روح رھان' مخزن جاری کرنے کے بعد 'بزم روح رھان' کی محفلیں منعقد کرتا رہتا ہے.ہے اس وقتقاسم آباد،  حیدراباد میں رہائش پزیر ہےنوٹ: سندھی بولی کے نامیارے ادیب،  کہانیکار حمید سندھی 3جنوری 2020ع پے وفات پاگئے.




جامی چانڈیو

   داشور،  کالم نگار،  نقاد جامی چانڈیو 11 مارچ 1969ع پے گائوں ٹوڑھی بجار،  تعلقہ قمبر،  ضلع قمبر شھدادکوٹ میں نامور تعلیمدان اور فارسی کے صاحب کتاب شاعر،  پروفیسر عبدالحئی چانڈیے کے علمی گہرانے میں پیدا ہوا. پرائمری تعلیم گورنمینٹ پرائمری اسکول علی خان، قمبر میں حاصل کرنے کے بعد چہٹی اور ساتویں جماعت قمبر ھاء اسکول میں پڑھا.1981ع میں کیڈٹ کالیج پٹیاری میں داخل ہوا. 1986ع میں کیڈٹ کالیج میں انٹرمیڈئیٹ کی. 1993ع میان سندھ یونیورسٹی میں ایم. ایس. سی (فزکس)  کی. سندھی شاگرد تحریک کے رہنما کی حیثیت میں شاگرد سیاست میں سندھ،  ملکی اور ایشیاائی شاگردوں کی عالمی کانفرنسوں میں شریک ہوا. 1995ع میں عبرت گروپ آف پبلیکیشن کی ادبی رسالے ماہوار بختاور کا ایڈیٹر رہا.1997ع میں سندھی ادبی بورڈ میں ایڈٹنگ اور ٹرانسلیشن بیورو کا انچرج ڈائریکٹر مقرر ہوا، لیکن جلد ئی استعیفا دیا، 1998ع سے 2002ع تک روزانہ عبرت حیدراباد کا انچارج ایڈیٹر رہا.روزانہ کاوش،  کے ٹی این اور سندھ ٹی وی سے ایک کالم نگار اور میزبان بطور رہے مختلف ملکی اور بینالاقوامی اداروں اور یونیورسٹیوں میں مہمان استاد اور تربیت کار بطور لیکچر دینے کے اساتھ ایشیا، امریکااور یورپ کے پندرہ سے زیادہ ملکوں کے تعلیمی، مطالعاتی اور سیاسی دورے کر چکا ہے.ای. پی. این. ایس کی طرف سے 2مرتبہ (2000-1999ع  اور (2002-2001ع)  سندھی بولی کے بہترین کالم نگار اور مضمون نگار بطور اوارڈ مل چکا ہے. 2004ع سے پاکستان کے چاروں صوبوں میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے کتنے مرکزی،  صوبائی اور مقامی رہنمائوں کو سیاسی ترجیع دے چکا ہے،جس مہں صوبے کے ایم. پی. ای اور ایم. این. اے شامل ہوئے.سیاست اور سیاسی مئنیجمنٹ کے ایک ماہر بطور سندھ اور پاکستان میں اس کا اعتراف جرم ہے جامی چانڈیو،سول سوسائٹی کے ملکی سطع کے کتنے اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹس کا میمبر اور کچھ عالمی اور دکنایشیائی تھنک ٹینکس کا سرگرم  میمبر اور مہمان اسکالر بھی رہا ہے اس کا مندرجہ ذیل کتابیں چھپی ہوئی ہیں:
(1) پاکستان میں وفاقیت جھموریت کا بحران اور قومی خودمختیاری (اکٹوبر 2009)، (2) تبدیلی کا محرک اور سندھ کا آئینا، (3) ایم. کیو.ایم کی سیاست اور سندھ (جون2007)، (4)اس پانے کے بنا دن، (5) کچھ لوگ تاریخ بنتے ہیں، (اگسٹ2007)، (6) ادب، سیاست اور سندھی سماج (اپریل2007ع) ،(7) سندھی ادب میں تنقید - شیخ ایاز (تربیت) ، (8) سندھی ادب میں تنقید -افسانوی اور فکری ادب (ترتیب) ، (9) لبرلازم:ایک ایک مطالعہ،(10) سندھی ادب میں تنقید - کلاسیکی اور جدید سندھی شاعری،  (11) سندھ کیس (1- اکٹوبر 2009ع)، 11- نومبر 2009ع،  (12) جھموریت،صحافتی اخلاقیات اور میڈیا اور (13) رسول بخش پلیجو کی مکمل تحریریں - سیاسی ادب (3جلد: ترتیب) اور دوسرے شامل ہیں،جبکہ ان کا 400 سے زیادہ ادبی،فکری اور سیاسی،مضمون کالم اور دوسری ادبی اور تخلیقی لکھنیاں مختلف اخباروں اور رسالوں میں چھپ چکی ہیں. فلسفہ،ادب اور سیاست ان کا پسندیدہ موضوع ہے. تازہ اسے ایک عالمی تھنک ٹینک کی طرف سے ریسرچ اسکالر بطور واشنگٹن، امریکا میںفیلوشپ دی گئی،جس دورانیہ میں اس نے 'پاکستان میں وفاقیت کے بحران اور قومی خودمختیاری' کے موضوع ہے انگریزی میں ایک تحقیقی کتاب لکھی.
یے اس وقت ایک تحقیقی،علمی اور تربیتی ادارے 'سی پی ایس سی' (سینٹر فار پیس اینڈ سول سوسائٹی)  کا ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر ہے اور اس ادارے کی طرف سے انگریزی اور سندھی میں شائع ہوا تحقیقی اور فکری جنرل ٹہ ماھی 'فریڈم' کا ایڈیٹر ہے.



Comments

Popular posts from this blog

Season Of Silence Bushra Fatima چُپ کا موسم

Traffic Congestion in Main Qasimabad Komal Qureshi

Waseem Akram Viral memes- Eng