Damesha Basit Turning Writer's Blocks Into Stepping Stones

Do not know of which piece is this translation>
It was repeatedly asked and individually emailed that file name be not changed write original headline in source language, so it can be checked
pls do not send repeated email, if necessary, in should be mentioned in subject line, file name and also in text file 
Do not send again unless asked 
Will be checked

Damesha Basit Khan                            دمیشاہ باسط خان
MC-172-2K18                                   ۱۷۲ - ۲k۱۸          
       



                                                              مصنف کے راستے کو پتھر میں تبدیل کرنا   
 
 
کئ برس قابل یو-سی-ایل-اے میں ہونے والی پیش کش، توسیع مصنف لائحہ کار/پروگرام میں عوام سے عہد کرتا ہوں کے میں انہیں اس حیوان اور سب پہ غالب آنا سکھاؤں گا، کچھہ ریر بعد ایک اور استاد مجھہ تک پہنچا اور کہا " تم نے یہ ان لوگوں/عوام سے یہ کیوں کہا ؟ یہ ممکن نہیں ہے "

بیچاری عورتیں\خوا‍تین۔ وہ کہہ رہیں تھیں کہ وہ مصنف لاۂحہ کار کو توڑ یا پیچھے چھڑ نہیں سکتیں، جو مجھے یہ بتاتا تھا، کہ مجھے ان کے مست‍‍‍قبل کے  بارے میں جاننا چاہیۓ اس سب میں بھروسہ اور وعدہ مند آغاز میں شاید ایک انعام فتحہ نظم یا کتاب۔۔۔اور پھر درد ہوں۔

صرف یہ ممکن نہیں کہ مصنف بلاک\ لاۂحہ کار کو ہمیشہ کہ لیے ختم کیا جاسکے، مگر/لیکن آپ اس کو اپنے مفاد کہ لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

سب سے پہلے ہم اسے چند کارآمد تریقوں سے واضح کریں گے: مصنف لاہحہ کار عاجزی بھی ہے:

1) اجادات نئ لکھائ
2) ترمیم و نفاست موجودہ متن
3)منصوبوں کی آخیر معقول جدول پر
4)ان منصوبوں کو باہر بھیجنا اداریہ فیصلہ کہ لیے
5) مستقل جب تک وہ فروخت نہ ہوں ان کو بھیجنا جاری رکھیں

ان سب کو مدد نظر رکھتے ہوۓ، مصنف لاہہ کار کی تعاریف بیان کرتا ہوں، جو آپ کو زندگی کہ ہر میدان میں مدد کرے گا

"لئحہ کار کچھ بھی نہیں سواۓ، زہن کی دو الگ الگ حالتوں/حصوں کے الجھاؤ کہ: بہاؤ کی حالت، حہاں نئ لکھائ کی اجادات ہوتی ہیں، اور ترمیم حالت، جہاں آپ اس کا اندازہ اور نفاست کرتے ہوں اپنی لکھائ کی۔"

اصل وجہ لئحہ کار کہ سوچنے سمجھنے کے قاتل ہونے کی یہ ہے کہ ہم مصنف خانے کو پڑھنے کہ لیے کہیں زیادہ استعمال کرتے ہیں حتتہ کہ لکھنے کے اور کہیں زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ تنفیدی تجزیہ میں جو ماہراستادزہ کہ مکمل اور نفاست زدہ کام ہوتے ہیں۔ بجاۓ اپنے خود کہ ابتدائ تجربے سے سیکھنے اور مسودہ کرنے کہ، تو جب ہم کوئ نئ لکھائ یا کچھ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو اسے    ہم اپنے پہلے سے لکھے یا مسودہ شدہ لکھائ سے دنیا کہ قابل ترین مصنف کہ مکمل اور نفاست شدہا کام سے مقابل کرتے ہیں یا کر رہے ہوتے ہیں، تو فوری طور پہ زہن میں آواز آتی ہے " یہ کچرا ہے! " اور آپ کہ پاس خود بلاک ہوتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جب کوئ اناڑی مصنف کچھہ لکھنا شروع کرتا ہے تو وہ ضرور لاکھوں بیکار الفاظ استعمال کرتا ہے اپنی اصل آواز تک پہنچنے کے لیۓ۔ لیکن اس سب سے کیسے باہر نکلو گے اگر ہر الفاظ کو ٹھکراتے جاؤ گے ؟ اور اگر اس آواز کو بند کرو گے، تو تم بہت بڑا اور اہم سبق سیکھہ جاؤ گے انسانی نفسیات کی ساخت کے بارے میں جان جاؤں گے۔

پر جو پلکل یقینی اود ظاہر ہے وہ ہے "بہاؤ" ؟ یہ نفسیاتی حالت ہے جہاں وقت لگتا ہے معدوم یا غاۂب ہونے میں، جہاں آپ "گرے ہوں صفے میں"، جیسے ساری   
دنیا تیر کر دور چلی گئ ہوں جیسے جیسے آپ توجہ دیتے ہیں، یہ تکریبا hypnogogic \ نیند آور ہوتا ہے، جو نیند سے اور صبح سب سے پہہلے ہوتا ہے۔ اس کا تجربہ فاصلہ، دوڑ اور ڈانس/ناچ میں ہوتا ہے ( جو گانے کے بول سے فلعش ڈانس تک یاد رہتا ہے ) اور وہ خطرے کے زون میں چلی گئ،  ( جہاں رقاصہ خود رقص بن جاتی ہے ) اور وہ بالکل بے تکلف ہو جاتی ہے۔ یہ تجربہ جنسی تعلقات شہوت/بدمستی سے زرا پہلے محسوس کیا جاتا ہے۔ یہ تحلیل ہے فاعل - چیز کہ تعلقات کی، جس کی طلب کئ بے شمار مراقبہ کے اسکولوں کو ہے۔

1) متبادل دن ( یا دوران کام ) بہاؤ اور ترمیم کے بیچ، کیا یہ ضروری ہے کہ مختلف ٹوپیاں پہنے یا ہر کوئ مختلف کرسیوں پر بیٹھیں۔ کبھی بھی دونوں ایک وقت  میں نہیں کرنا 

2) اپنے آپ کو محنت کا ماحاصل بناؤں اور یہ تمہیں تمہارے مقصد میں پورا اتارے گا " دس لاکھہ الفاظ پانچ سال سے کم میں، اور ایک ہزار الفاظ روزانہ کے اسے 3 سال میں مکمل کر سکتے ہیں۔ جو تقریبآ موازنہ کر سکتے ہیں AA ڈگری کمانے کا۔ جو بہت بدحال نہیں ہے!۔

3) خاص طور پر دریافت یافتہ/شدہ مطالعہ کہ متابق "بہاؤ کی حالت" ایسی ہی ہے جیسے نظم و ضبط، کیا آپ کا انٹرنیٹ دریافت کر سکتا ہے، بیرونی اور اندرونی سرگرمی مثل( دوڑ، ڈانس/ناچ، مراقبہ/غور و فکر، ورزش، یوگا وغیرہ) جو اس اندرونی دنیا کا راستہ کھولتا ہوں۔

4) دھیمے سے تال/ترنم کو سنتے ہوۓ،  ساٹھہ/ہر منٹ پر موسیقی،"اسٹرنگ میوسک" مثل جو کسی تیز موسیقی کے آلہ سے بجایا جاۓ۔"ویولدی" اس کے لیے بہترین ہے، اور تعارف کرواتا ہے "الفا" سے مطلب (بہاؤ) پہلی حالت سے جو اثر اندیر اور تیزی سے ہوتی ہے۔ ایسی موسیقی جو گانے کہ بول کے ساتھہ ہوں اس سے دور رہیں، لیکن/مگر نرم و دھیما شور و غل لاجواب ہے۔

5) عملی تور پر زہن میں تصویریں بنانا، اور پھر اسے اپنی لکھائ اور الفاظوں میں اتارنا بنا کسی غور و فکر اور فیصلے کے بیان کرنا۔ آپ کو اپنے شعور اور لکھائ کے تعلقات کو آپس میں بڑہانا چاہیے۔

6) اگر آپ کو کوئ سہی راستہ نہ مل رہا ہوں ایک اچھے مسلسل غور و فکر فن کا، تو سکون سے بیٹھہ کر اپنے دل کی دھڑکن سنیں روزانہ 15-30 منٹ کے لیۓ۔

اسی طرح سے اور بہت تریقے ہیں۔ لیکن یہ سب آپ کو شروعات میں مدد کریں گے۔ جو سب سے اہم چیز آپ سکھیں گے۔ وہ یہ کہ "بند کرنا" یا نظرانداز کرنا اپنے زہن کی منفی آوازو کو، اور ایک فنکار جو یہ کرنا سیکھہ جاۓ مطالبے پر وہ اس راستے پر اتنا گھول مل جاتا ہے اپنے گہرے سطح میں جو بے ہوشی کے مقابل ہوں۔۔۔اور بہت زیادہ خوشی پاتا ہے تخلیق کے عمل میں۔

   مصنف لئحہ کا کار/ مصنف خانہ شکست دو: اپنے اندر کی آواز سنو

جب میں چھوٹا تھا، میں اپنے آپ سے باتیں کیا کرتا تھا۔ لمبی،تویل، ایک ترفہ گفتگو۔ میرے پاس کوئ تصوری دوست نہیں ہوتا تھا، میں صرف اپنے آپ سے باتیں کیا کرتا تھا۔ میری ماں کہتی ہیں، اس ہی لیۓ میں مصنف بنا: میری ضرورت سے زیادہ تخیل اور ذہنی تصورات سے، میں مانتا ہوں، وہ شاید سہی ہیں۔ وہ گفتگو موجودہ دور میں مجھے بدترین ثابت ہوئ۔ مصنف خانہ/ رائٹرس بلاک میں۔

مجھے ہنسی آتی ہے جب میں آرٹیکل پڑہتا ہوں جس میں مصنف کی تحریری کمی اسے توڑنے پر کافی ہوں۔ وہ ہمیشہ ایسی ہی تجاویز دیتے ہیں جیسے کے: کہ کسی مال جاکے وہاں کے لوگوں کو دیکھتے ہوۓ کوئ کہانی بناۓ۔۔۔یا۔۔۔اپنا خواب لکھو جو تم ایک رات پہلے یا دوسری رات کو دیکھہ چکے/ دیکھنے والے ہوں۔۔۔یا۔۔۔اپنے بچپن کے سب سے خوشگوار لمہے کو سوچتے ہوۓ۔ اس کے بارے میں لکھو۔آپ روزانہ اپنا اکاؤنٹ کھول کر فوری طور پر لکھائ کا کوئ میل حاصل کرتے ہوں اور جس میں میں مدد نہيں کرسکتا لیکن سوچ سکتا ہوں، کیا یہ کام کرے گا کسی کے لیے ؟ مطلب، سچ میں ؟ میں یہ دریافت کرنا چہتا ہوں کے میں باقی مصنف کی طرح نہیں ہوں۔ جو عام طریقہ ہے مصنف خانے میں ایک دوسرے کے مقابلے کا وہ مجھہ پے آزمایا نہیں جاۓ۔ جب لکھنے کا دل ہوں، تو میں ایک وقت میں ایک ہی ناول پے توجہ دے سکتا ہوں۔ میں آسانی سے مشغول یا توجہ پھیر سکتا ہوں، تو کچھہ لکھنا مکھی/ہوا پر مجھے راستے سے نیچے اتار سکتا ہے:۔

وہ-ارے-میں-صرف-یہاں-آیا تھا- ایک اور-زبردست-سوچ/خیال کے ساتھہ-ایک-اور-نئ-کتاب-کے لیے-تو-ایک-یہاں-بتانے-والا ہوں- میں موجودہ دور-بہت احساس خوف میں ہوں-شروعات کرنا چاہتا ہوں-ایک-نۓ-ناول کی۔

یقین کریں میرا، یہ پہلے ہوتا تھا۔ جب میں چھوٹا تھا (ساتھہ ویں جماعت میں)، صرف شروعات تھی، اور میں کچھہ بہتر نہیں جانتا تھا۔

اب میں خود ناول کو دور کرتا ہوں۔۔۔اور انتظار کرتا ہوں۔ یہ انتظار پچھلے چھہ (6) مہینے سے ایک سال تک چلا، اور کبھی کبھی کسی کا انتظار اس سے بھی لمبا ہو جاتا ہے،وقت کی حد بہلے ہی کم ہوں، لیکن آخر کار آہی جاتا ہے۔ اندرونی آواز، میرا مطلب ہے۔ میں اب اپنے آپ سے ایک ترفہ لمبی گفتگو نہیں کرتا۔ میرے اندر کا کردار مجھے مجھسے ایک ترفا گفتگو کرتا ہے۔۔۔ میرے زہن میں جب وہ مجھہ سے باتیں کرتا ہے، گفتگو اور منصوبہ/ اس کی شکل کے بارے میں، تو وہ مجھے یہ بتا رہے ہوتے ہیں۔ یہ وقت ہے ناول سے باہر نکل کر اس میں واپس چھلانگ لگانے کا۔

تو،جاؤ، تم کوشش کرو: اپنا زہن کھولوں اور اپنے اندر کی آواز سنوں۔ اگر ہم کسی مزاکرہ/اجلاس یا کسی کتاب کی نمائش میں دستخط کرتے ہوۓ ملے اور تم نے یہ کہا کہ تم اپنے اندر کی آواز سنتے ہوں، میں یہ نہیں سوچوگا کے تم پاگل/خبتی ہوں۔ میرا وعدہ ہے۔

               مصنف خانہ-تلاش/ڈھونڈتا ہے علاج

تو تم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ تمہیں مصنف بننا ہے اور سب کچھہ سوچ لیا ہے اپنی کامیابی کے لیے اس راستہ پر، پھر چاہے تمہیں آرٹیکل لکھنے پڑہیں، کتاب یا ناول، ہر مصنف کی زندگی میں ایسا وقت آتا ہے۔ جب آپ ایک خوفزداہ بد دعا سے مارے جاتے ہوں، مصنف خانہ

یہ موازنہ کر سکتا ہے ایک لمبی دوڑ میں دوڑنے والے شخص کا، جو دوڑ کی حد کو دوڑ سے پہلے ہی پار کر لیتا ہے۔ ٹینس کا کھلاڑی جسے اچانک یاد آجاۓ کہ اسے ابھی دو سیٹ اور کرنے ہیں اس سے دور بھاگیں۔ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب ہمارا زہن ضرورت سے زیادہ معلومات سے بھر گیا ہوتا ہے اور بند ہوجاتا ہے۔ مصنف اس معاملے میں خوش قسمت ہیں، کہ وہ ایسے حالات میں کچھہ کرسکتا ہے، لیکن ایک کھلاڑی کو اس سب کو پکڑے رکھنا ہوتا ہے۔

ہر شخص مختلف ہے: ہم سب کے پاس بہت سے راستے ہیں مصنف خانے پر غالب آنے کے۔ میں ایسے دوستوں کو جانتا ہوں جو کہتے ہیں کہ وہ اگر کہیں کسی ایک مقررہ کام میں پھنس جاۓ، وہ چیزوں کو گھوما دیتے ہیں اور کچھہ اور کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ میرا اپنا تجربا ہے اگر میرا زہن کسی ایک طرف چلا جاتا ہے، تو میں شاپنگ لسٹ بھی پوری نہیں کر پاتا! میں اپنے لیے سب سے بہترتن یہ کرتا ہوں کہ؛ میں کمپیوٹر کو بند کر کے ٹھیلنے کے لیے کہیں دور چلا جاتا ہوں اور کتوں کو بھی باہر ساتھہ لے جاتا ہوں۔ میں سکون و اطمینان پاتا ہوں دیہتی علاقوں میں جو بہت پر امن ہوتے ہیں، حتتہ کہ عام دن میں، میں اپنی سوچوں میں ہی گوم ٹھیل تا ہوں۔ میرے بہت سے آرٹیکل تب کے لکھۓ ہوۓ ہیں جب میں باہر ہوتا ہوں، میں کبھی بھی اپنے گھر کو چھوٹے سے کیسٹ ریکارڈر کے بغیر نہیں چھوڑ تا۔

انٹرنیٹ کے تعارف اور موجودہ دور کی صحولیات مصنفوں کے لیۓ گھر بیٹھے لکھنے کی، یہ کافی صدمہ ثابت ہوا مصنف خانے کے لیۓ۔ جو اچانک سے مصنف کو کام سے روکتا ہے۔ یہ یقینن ہر مصنف کے ساتھہ ہوتا ہے، کوئ بھی اس سے محفوظ نہیں، یہاں تک کہ دنیا کا ٹاپ ناولسٹ بھی ایک وقت پے کہیں آکے خشک پڑ جاتا ہے۔

دوسروں سے راۓ لینا مدد گار ثابت ہوسکتا ہے: اون لائن کھیل کھیلنا، کچھہ وقت موسیقی سننا یا کوکیز بنانا۔ یہاں سارے اشارے یفظوں میں بیان ہیں؛ اپنا زہن اپنی لکھائ سے ہٹاؤ۔ ان چھوٹے چھوٹے وقفوں کو استعمال کر کے آپ اپنے حواسوں کو فراز دے سکتے ہیں، اور آپ کے زہن میں الفاظ دوبارہ دوڑنا شروع ہوجاۓ گے۔

اگلی بار مصنف خانہ جب آپ کو مات دے گا، اور مجھے یہ کہتے ہوۓ مایوسی ہوتی ہے، لیکن یہ اس کا پیشہ وار خطرہ ہے۔ آپ اس سب کے آخر میں یہ تلاش کرو کے جو آپ کو کرنا ہے وہ شروعات ہے لکھنے کی۔ الفاظ کو چنیں، الگ لفظ کے لیے اور کسی مختلف آلہ کے بارے میں سوچنے کی کوشش کریں، جس کے بارے میں لکھہ سکیں۔ اپنے خیال کی لکھائ ایک طرف جماع کریں اور اس پے فخر محسوس کریں جو کچھہ بھی آپ کے پاس ہے، آنے والے کل کا حوالہ رینے کے لیۓ۔

اب آپ کو اس بات کا یقین آگیا ہوں گا کہ مصنف خانہ اتنا خطرناک بھی نہیں جیسا آپ نے پہلی بار میں سوچا تھا، جب آپ نے اپنے سامنے سفید خالی کاغز کو دیکھا تھا۔ بلکہ یہ ایک نعمت بھی ہوسکتی ہے

اگر یہ اپنے وقت کو اور لکھائ کے طور طریقوں کو انتظام سے چلا سکتے ہیں، پھر بھی بہت سے مصنف ایسے وقت کا سامنا کرسکتے ہیں جب ایک ساتھہ الفاظ نا مل رہے ہوں، جب وہ کہیں پھنس گۓ ہوں اور کچھہ بھی سوچ نا پارہے ہوں لکھنے کے بارے میں، یہ ہی مصنف خانہ ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے، کچھہ مدد گار فن اسے مصنف خانے پر غالب آنا ممکن بنا دیتے ہیں۔

تجربہ: کوشش کریں الگ الگ جگہ پے لکھنے کی، الگ الگ وقتوں میں الگ الگ قلم سے۔

آزادی سے لکھنا: ایک جملا چننا پورے حصہ تحریر/ پیرا سے اور اس کے بارے میں پورا حصہ تحریر/پیرا لکھنا، اور پھر اس میں سے ایک جملا چننا اور وہی سب دوہرآنا۔

یکجا کرنا: الفاظ اور خیالات کا چناؤ؛ اور لکھو منسلک خیال اور الفاظ ان کو ارد گرد سے یکجا کرکے۔ یہ طریقہ اکثر نۓ خیالات ایجاد کرتا ہے۔

حالات کے مطابق: یا تو اس حصہ کو باہر نکال دو خط/لکھائ سے جو مثلوں کی وجہ بن رہے ہیں اور یا تو لکھنا چھوڑ دو۔

ایک معمول پر عمل کریں: ایک معمول پر عمل کریں لکھائ کا من/دل بنانے کو، جیسے کے آرامدہ کپڑے پہننا، چند ہی قلم سے لکھنا یا کوئ خاص سی-ڈی سننا یا گانے/موسیقی وغیرہ سننا۔

اقدام: ارد گرد گھومنا، ہلکی ورزش یا ٹیھل نا۔

وقفہ لینا: کوئ کہانے پینے کی چیز ساتھہ رکھنا، کسی سے بات کرنا یا صرف 5 منٹ کے لیے سکون کرنا دوبارہ لکھنے سے پہلے۔

توجہ: توجہ دینا مختلف حصوں پر سواۓ اپنے کاغز کے۔ یہ کبھی سربراہی کرتا ہے نۓ نظریے کی مشکلات کے حصوں میں، جب کے آپ کو اجازت دیتا ہے دوسرے حصے میں کام کرنے کی۔

دوبارہ پڑھنا: کاغز پے لکھی ہوئ لکھائ کو پڑھنا اور مختصر خیال لکھتے جاؤ پڑھتے ہوۓ۔

سکون: جتنا آپ پریشان ہوں گے، اتنا ہی مشکل ہوگا اس کے بارے میں سوچنا

                مصنف خانہ، مصنف تششویش

مصنف بہت سی مختلف حالات کا سامنا کرتا ہے لکھتے ہوۓ اور لکھنے سے پہلے، اس کا نتیجہ اکثر مصنف کے لیے تشویش ناک ہوتا ہے، اور یہ بناتا ہے مصنف خانہ۔ اس کو حل کرنے کے بہت سے طریقے ہیں مگر اصل میں اس کے بارے میں مصنفوں کے استاد کے استاد سے پوچھا جاۓ یا مصنفوں کے طور طریقوں سے مدد لی جاۓ۔ چند اصل وجاہیں جن میں مصنف خانہ بنا مندرجہ ذیل ہیں۔ بہت سے حالات میں، مصنف سوچتا ہے کے اسے مضمون لکھنا چاہیۓ، لیکن اتفاق سے وہ الفاظوں اور خیالوں سے خالی ہوتا ہے؛ اس کا نتیجہ مصنف کے لیۓ تشویش ناک ہوتا ہے۔

اسکا حل یہ ہے کے تدبیری ایجادات؛ چھوٹے سے ہی جو بھی خیال اور الفاظ زہن میں آرہے ہوں اسے ایک طرف ایک کاغز پے لکھتے جاؤں اس معاملے میں یہ بہترین ہے کہ ایک اؤٹ لائن یا تھیسس بیان کیا جاۓ کچھہ بھی لکھنے سے پہلے۔ دوسرے معملات مصنف خانے میں واقع بنتے ہیں بیزار مضمون کی وجہ سے جو مصنف کے سامنے ضاہر ہوتا ہے۔ ضاہر ہے جب مضمون دلچسپ نہیں ہوگا بو مصنف بھی اس کو بہت اچھے سے لکھنے کا خواہش مند نہیں ہوگا۔ سب سے بہترین ہے کے کسی استاد سے پوچھا جاۓ کے اس کے بارے میں کیسے لکھنا ہے۔ اپنے کام کو وقفہ دو اور اپنے زہن کو سکون دو جب آپ کو محسوس ہو رہا ہوں کے یہ مضمون آپ کے سرپے سے گزار رہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Season Of Silence Bushra Fatima چُپ کا موسم

Traffic Congestion in Main Qasimabad Komal Qureshi

Waseem Akram Viral memes- Eng