Sonia Shaikh Who Control Media Urdu

2370 words
Translation
 Sonia Shaikh
Roll No:2K18/MC/144
Who Control Media 
کارپوریٹ ملکیت
یونائیٹڈ اسٹیٹ میں ایک بڑے ناظرین تک پہچنے والے تقریباً تمام ذرائع ابلاغ غیر منافع بخش کارپوریشنز کی ملکیت ہیں۔ وہ قانون کے تحت اپنے رضاکاروں کو تمام سوچ ویچار سے بالاتر ہوکران کو معاوضہ دینے کے پابند ہیں۔ منافع کو زیادہ سے زیادہ کرنے کا مقصد اکثر ذمہ دار صحافت کے عمل سے متصادم ہوتا ہے۔
کارپوریشنز کی ملکیت صرف تمام اہم میڈیا نہیں ہیں، یہ کمپنیاں تعداد میں بڑہ اور کم  ہو رہی ہیں جیسے کہ سب سے بڑی کمپنی اپنے حریفوں کو اپنے ساتھ ملا دیتی ہیں۔ ایسی مالکیت کی توجہ کا رجحان میڈیا کے مختلف أوازوں کوکم کرنا اور کچھ کمپنیز کے ذمے میں تمام اختیارات دینا ہے۔ جیسا کہ نیوز کمپنیز بڑی أرگنائیزیشن کے ماتحت ہیں جن کے اختیار میں کئی ضنعتیں ہیں،نیوز جمع کرتے وقت منافع کے تنازعات ناگریز طور پر مداخلت کرتے ہیں۔
ایف اے أئی أر FAIR کا یقین ہے کہ جمہوری ریاست کے لیے أزاد میڈیا ضروری ہے، اور اجارہ دار ذرائع ابلاغ کے اجتماع کو توڑنے کے لیے جارحانہ عدم اعتماد کے اقدامات اٹھائے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، غیر کارپوریٹ،متبادل میڈیا آؤٹ لیٹس کو حکومت اور غیرمنافع بخش شعبے دونوں کے ذریعے فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
مشتہر  اثر
منافع بخش ذرائع ابلاغ کی زیادہ تر أمدنی ان کے ناظرین سے نہیں بلکہ کمرشل ایڈورٹائیزر سے حاصل ہوتی ہے جو ان ناظرین تک پراڈکٹ فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ حالانکہ لوگ بعض اوقات یہ دلیل دے کر کمرشل میڈیا کا دفاع کرتے ہیں کہ مارکیٹ لوگوں کو وہی کچھ فراہم کرتا ہے جو وہ چاہتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ لین دین میڈیا مارکیٹ پلیس میں سب سے اہم ہے --ایک ہی ٹراسکشن،براڈکاسٹ کی صورت میں ٹیلی وژن اور ریڈیو -- میڈیا کمپنیز میں شامل نہیں کیا جاتا جو ناظرین تک مواد فروخت کرتے ہیں،بلکہ میڈیا کمپنیز کو اسپانسر کرنے کے لیے فروخت کرتے ہیں۔
اس سے کارپوریٹ اسپانسرز کو غیر متناسب اثرپڑتا ہے کہ لوگوں کو کیا دیکھنے یا پڑھنے کو ملتا ہے۔ واضح طور پر، وہ اس میڈیا کی حمایت نہیں کرنا چاہتے جو باقاعدگی سے ان کی پراڈکٹ پر تنقیدکریں یاکارپوریٹ کی غلطی پر بحث کریں۔ عام طور پر، یہ اس میڈیا کی حمایت کرتے ہیں جو ناظرین کے ذہن کو غیر جانبدار، غیر تنقیدی بناتے ہیں جو چیزیں فروخت کرنے میں أسانی دیتی ہے۔ ایڈورٹائیزرز کو مخصوص طور پرغریبوں سے زیادہ دولت مند پرکشش لگتے ہیں، اور نوجوان، سفید،مرد صارفین کے عوامل کے لیے ایک منافع ادا کرتے ہیں جو عوام کو پیش کردہ مواد کی حد کو ختم کرتے ہیں۔
اشتہار کے مبلغانہ اثرات سے بچنا مشکل سے مشکل بنتا جا رہا ہے۔ بہت سے طالب علم اسکول میں چینل ون کی کمرشلز دیکھنے پر مجبور کیے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ  ”غیر تجارتی“ أؤٹ لیٹس جیسے کہ پی بی ایسPBSاور ایس این پیSNP اشتہارات کو خوشکلامی سے”انڈررائٹ اعلانات“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایف اے أئی أر FAIR کا مانناہے کہ کمرشل اشتہارات پر ٹیکس لگایا جائے، جو واقعی غیرکمرشل میڈیا کو فنڈ دینے کے نام سے شروع ہو۔
سرکاری لائحہ عمل(ایجنڈے)
ان دعوؤں کے باوجود کہ پریس کا حکومت کے ساتھ ایک منفی تعلق ہے،حقیقت میں امریکی میڈیا عام طور پر واشنگٹن کی سرکاری لائین پر عمل کرتا ہے۔ یہ بات خاص طور پر جنگ کے وقت اور خارجہ پالیسی کی کوریج میں واضح ہے، لیکن گھریلو تنازعات کے باوجود بھی بحث کا دائرہ عام طور پر جمہوری اور ری پبلکن پارٹیوں کی قیادت کے درمیان نسبتا تنگ حد میں أتا ہے۔
غالب ذرائع ابلاغ کے مالکان اور مینجر عام طور پر سیاسی اشرفیہ کے پس منظر، عالمی نظارے اور انکم بریکٹ کا اشتراک کرتے ہیں۔ اعلیٰ خبروں کے ایگزیکٹو اور مشہور شخصیات کے رپورٹرز اکثر سرکاری عہدیداروں کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ میڈیا کی سب سے طاقتور کمپنیاں معمول کے مطابق دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے بڑی شراکت میں حصہ لیتی ہیں،جبکہ سیاسی اشتہارات چلانے کی ادائیگی کی صورت میں لاکھوں ڈالر وصول کرتے ہیں۔
اس غیر اخلاقی ثقافت میں،’نیوز‘ کی بنیادی طور پر معنی اقتدار میں لوگوں کے اعمال اور بیانات سے کی جاتی ہے۔ رپورٹرز، سرکاری ذرائع کے ذریعے فراہم کردہ”رسائی“ اور لیک پر مشتمل ہیں، نہ چاہتے ہوئے بھی اکثر پیچیدہ کوریج کے ساتھ ان ذرایع کو الگ کرنے کا خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔ نہ ہی کارپوریٹ میڈیا ذرائع ابلاغ کے منتخبہ اور بیوروکریٹس افسر کو ناراض کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو ان کے کاروبار کو منظم کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
) حکومت اور دیگر سرکاری دباؤ
پریس اور حکومت کے مابین تعلقات کو، نظریے کے مطابق، کسی حد تک تصادم ہونا چاہیے۔ جب کہانیاں یہ منظرعام پر أتی ہیں کہ مقامی حکومتیں بعض رپورٹرز یا میڈیا ابلاغ سے بات کرنے سے انکار کریں، تو کوئی یہ امید کر سکتا ہے کہ اس کا مطلب میڈیا زیر بحث اپنا کام انجام دے رہا ہے، اور سیاست دان اس پر ناراض ہیں۔
سرکاری افسر بھی جانتے ہیں کہ میڈیا پر تھوڑا سا بھی دباؤ ڈالنا بہت أگے نکل سکتا ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ وہی میڈیا کمپنیاں ہیں جو اکثر اعلیٰ داؤ پر لابنگ میں مصروف رہتی ہیں، وفاقی یا ریاستی ریگیولیٹرز سے معافضہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں،اگر ان پر دباؤ نہ بھی ڈالا جائے تو بھی وہ اس کو پورا کرنے کی پابند ہیں، اکثر وہ اس کا اطلاق کرنے والے اہلکاروں کو شرمندہ کرنے کے لیے بے چین نہیں ہوتے۔
کبھی کبھار، اگرچہ، حکومتی دباؤ کی کوششوں کی کچھ مثالیں عام کی جاتی ہیں۔ مشہور شخصیت کے رپورٹر کٹی کیلی جب بش فیملی کے بارے میں اپنے تنقیدی کتاب کی تشہیر کر رہی تھیں تووائیٹ ہاؤس کے عہدیدار نے این بی سیNBC نیوز کے صدر نیل شیپریو کو فون کیا کہ وہ ان کے ساتھ لینے والے انٹرویو نیٹ ورک روک دیں (نیویارک ٹائمز،9/9/04)۔
یہاں تک کہ کچھ مشہور صحافت بھی حکومتی دباؤ سے متاثر ہے۔ سی بی ایس CBSکی 28 اپریل کوعراق کی ابو غریب جیل میں بد سلوکی اور تشدد کی تحقیقات،مثال کے طور پر، پینٹاگون کی درخواست پر دو ہفتوں تک روکی گئی۔
صرف یہ نہیں ہے کہ پریس - اسٹیٹ تعلقات اکثرطور غیر معمولی یا متصاد ہوتے ہیں، کبھی کبھی وہ الٹا أرام دہ ہوتے ہیں۔ جب کیلی فورنیا کے گورنر أرنلڈ شوارزینگرنیویارک میں ریپبلکن نیشنل کنویشن کے لیے گئے تھے تو ٹیب کو جی او پی GOP نے نہیں لیا، یا یہاں تک کے وہ ریاست جس کی وہ خدمات انجام دیتا ہے، اس کے بجائے، ملک کی مٹھی بھر بڑی میڈیا کمپنیوں - بشمول فاکس، این بی سی،یونیورسل، ٹائم وارنر، ڈزنی اور ویاکوم -نے بل کی ادائیگی کی(نیویارک ٹائمز،8/26/04)۔
أسٹن امریکین اسٹیٹمیں میں،ایڈیٹوریل صفحہ پر  ایڈیٹر أرنولڈ گارسیا جے أرکو وہ بات ملی جس کے بارے میں دوسرے رپورٹرز نے غور کیا ہوگا:مقامی کاروباری ٹیمپل انکارپوریٹ اپنے کارپوریٹ ہیڈ کواٹر میں اہم اور ممکنہ طور پرتنازعات کی توسیع کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ لیکن اس نے خبر دینے کے بجائے اس کو دبا دیا۔
گارسیا کو أسٹن میئر ول وینن کے ساتھ گولف کھیلتے ہوئے کچھ پوشیدہ معلومات حاصل ہوئی۔ بعد میں جب گارسیا نے مزید معلومات کے لیے وینن کو ای میل کیا، میئر نے ایڈیٹر کو بتایا کہ وہ معلومات کو پرنٹ میں ظاہر نہیں کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ کمپنی کے لیے سیاسی حمایت کو لائین اپ کرنے کا وقت چاہتے ہیں، جس میں سخت ماحولیاتی اپوزیشن کا سامنہ کرنا پڑے گا۔
ایک مقامی ماحولیاتی گروپ کی جانب سے ہونے والی تحقیقات کے بدولت دو ماہ بعدکمپنی کے منصوبوں کی خبریں لیک ہو گئیں جن کا گارسیا کو پہلے سے علم تھا۔ ان کی تلاش سے زیادہ بری خبر موصول ہوئی، جیسا کہ گارسیا نے اخبار کے قارائین کو ایک کالم میں وضاحت کی ہے:”اس سے بھی بدتر، فیصلے کے ناقابل یقین خاتمے میں، جو بھی ایڈیٹوریل نتیجہ نکلا اس کا مسودہ(وینن کو) بھجینے کی میں نے پیشکش کی۔
نیومیکسیکو گورنر رچرڈسن نے بلاشبہ پرجوش تقریر کی تعریف کی جس سے ان کا بارڈر گورنرز کانفرنس میں استقبال کیا۔رچرڈسن حاضرین نے سیکھا،کسی بھی پچھلے گورنر نے دیائیوں میں حاصل ہونے والے دو قانون سازی کے سیشن میں نیو میکسیکو کے لیے زیادہ کام کیا ہے۔کوئی چھوٹی تعریف نہیں خاص طور پر ماخذ پر غور کریں: مونیکا ارمینیتا نیو میکسیکو ٹی وی کے او بی(KOB) اسٹیشن کی اینکر۔ معاملات کو مزیدخراب کرنے کے لیے ارمینیتا نے اپنے وہ الفاظ بھی نہیں لکھے جو گورنر کے عملے کے پاس رہ گئے تھے۔ ارمینیتا نے امریکن جرنلیزم ریوو (11/04/10) کو بتایا کہ اس نے اپنا سبق سیکھا، حالانکہ اس نے مزید کہا، میں نے سالوں میں ان میں سے کئی کام کیے ہیں اور اس طرح کے دوسرے لوگ بھی بازار میں بہت ہیں۔

)  سیاسی نظام کو درہم برہم کرنا صحافی کے کام کا حصہ ہے_______ لیکن یہ ان کے کام کو نقصان پہنچتا سکتا ہے۔
نمائندہ نک سمتھ کے، جارج بش کے 2003 کے میڈیکیئرڈرگ پلان کے خلاف ووٹ دینے کا ارادہ  تھا جوطاقتور جی اوپی GOP قانون سازوں کے ساتھ موزوں نہیں تھا،جس نے سمتھ کو ایک پیشکش کی: اگر وہ اپنا ووٹ تبدیل کریں، تو ان کا بیٹا بریڈ، جو اپنے والد کی کانگریس کی نشست کے لیے انتخابات لڑنا چاہتا ہے، اس کو مہم کی حمایت میں ایک لاکھ ڈالر ملیں گے۔سمتھنہ  صرف اپنی  نہیں پر قائم رہے بلکہ اس نے لوگوں کو مبینہ رشوت کی کہانی سنائی جس نے اپنی جگہ خبروں میں بنا لی، جس میں رابرٹ سنڈیکیٹڈ کالم (11/27/03) بھی شامل ہیں۔
اس کے فوراً بعد ہی،سمتھ نے اپنی کہانی پر نظر ثانی کرنے کی کوشش کی،ایک پریس ریلیز (12/4/03)جاری ہوئی، جس میں ایک لا کھ ڈ الر کی پیشکش کا انکار کیا۔ لیکن ریڈیو اسٹیشنWKZO (12/1/05) کے رپورٹر کیون وینڈنبروک اس ثبوت کے ساتھ سامنے أئے، جس میں ایک انٹرویو کی ٹیپ جہاں سمتھ نے اپنے بیٹے کی مہم میں پیش کردہ  ایک لاکھ سے زیادہ ڈالر پر تبادلہ خیال کیا،جس سے سمتھ کے نئے انکار کو نگلنامشکل بنا دیا۔
ویڈنبروک کی خبر، تاہم، اپنے اسٹیشن پر ہر ایک کو خوش نہ کر سکی،سلیٹ کے مطابق(3/24/04)، اسٹیشن کے کچھ عہدیداروں نے اس کے کام پر فخر کیا، جبکہ دیگر ایسے بھی تھے جو شاید بے چین تھے کہ یہ ریپبلکن پارٹی کے کسی کارکن پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے۔ چند ہفتوں کے بعد ویڈنبروک نے اطلاع دی کہ جارج ڈبلیو بش نے این بی سی NBC کے ساتھ انٹرویو میں کئی مشکوک دعوے کیے، جس سے مقامی ری پبلکن حکام کی جانب سے اسٹیشن پر ایک فون کال کی ترغیب دی گئی۔ ویڈنبروک نے سلیٹ کو بتایا کہ اس واقعی کے بعد ”مجھے فون کیا گیا اور سیاست سے دور رہنے کو کہا۔“اسٹیشن نے بلأخر کمپنی کے ای میل پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر ویڈنبروک کو ایک دائیں بازو کے مصنف سے تبادلے کے بعد مسترد کردیا، جس نے اسٹیشن پر پیش ہونے سے انکار کیا۔
جیسا کہ سلیٹ کے تیموتھی نوح نے پیش کیا”ویڈنبروک کینمایا رپورٹنگ  ایک بڑی اہم سیاسی کہانی پر ڈبلیو کے زیڈ او WKZO کو فخر کرنا چاہیے۔ اس کے بجائے، اس نے کالامازو ریڈیو اسٹیشن کو پریشان کیا۔
پی أر انڈسٹری
زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے کارپوریٹ نیوز أوٹ لیٹس کو کم سے کم رپورٹرز کے ساتھ زیادہ سے زیادہ خبریں تیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ہر کہانی پر کم وقت دینے کے ساتھ، صحافیوں پر تیزی سے دباؤ ڈالا جاتا ہے تا کہ وہ پبلک رلیشن انڈسٹری پر انحصار کریں۔رپورٹرز پریس ریلیزکو دوبارہ سے لکھ سکتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ اپنی أزادانہ تحقیق کریں اور ٹی وی اسٹیشنزایسی پروموشنل وڈیوز نشر کریں جو نیوز فوٹیج کی طرح دیکھنے کے لیے ڈزائین کی گئی ہو۔ نیوز أوٹ لیٹس اور ان کی صنعتوں کے مابین یہ علامتی تعلق تاہم عوام کے لیے ایک برا معاملہ ہے۔
پریشر گروپس
جبکہ بیشتر صحافیوں کو روایتی عقل مندی سے باز رکھنے کے لئے اداراجاتی دباؤ کافی ہے، پریشر گروپس سرکاری ایجنڈے کو چیلنج کرنے والے غیر معمولی رپورٹرز کو سزا دینے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔
ایف اے أئی أرFAIR کا مننا ہے کہ میڈیا کے معاملات کی نچلی سطح تک سرگرمی جائز اور ضروری ہے۔ ایک ایکٹوسٹ گروپ پریشر گروپ کب بنتا ہے؟ ایک پریشر گروپ کسی موقف کو دبانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں جس سے وہ متفق نہ ہوں بجائے وسیع پیمانے پر موجود نقطۂ نظرکا یقین دلانے کے لیے۔چونکہ پریشر گروپس اکثر ایسی کمپنیوں یا صنعتوں کی طرف سے فنڈ حاصل کرتے ہیں جن کے مفادات کو یہ فروغ دیتے ہیں، یہ گروپس اکثر ایسے نظریات پر زور دیتے ہیں جن کی مباحثوں میں میڈیا پر اچھی خاصی نمائندگی ہوئی ہو۔
مباحثے کی تنگ حد 
یہ دیکھتے ہوئے کے تقریباً میڈیا أؤٹ لیٹس منافع بخش کارپوریشن کی ملکیت ہیں اور ان کو کارپوریٹ ایڈورٹائزمنٹ کے ذریعے فنڈنگ حاصل ہوتی ہے، اس میں حیرت کی بات نہیں ہے کہ وہ شاذونادر ہی  بحث و مباحثہ پوری طرح سے فراہم کرتے ہیں۔عام طور پر مباحثے کے دائیں حصے کی نمائندگی دائیں بازو کے مرتکب حامی کرتے ہیں، کسی شخص کو قدامت پسندسمت میں موجودہ صورتحال کو نمایا طور پر تبدیل کرنے کا سبب بنتا ہے۔ بائیں کنارے کی نمائندگی، اس کے برعکس، ایک اسٹیبلشمنٹ پر مبنی مرکز سے کی جاتی ہے جو موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے کی حمایت کرتے ہیں، بہت کم ہی کارپورٹ پاور کا نقاد ہوتا ہے جو ترقی پسند اسباب اور حرکات کی اس جذبے کے ساتھ نشاندہی کرتا ہے جسے ان کے قدامت پسند ہم منصبوں نے ماس میڈیا کی بحثوں میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔
سنسرشپ
چونکہ حکومتوں کو تقریباً ہمیشہ سے ہی معلومات کے آزادانہ بہاؤ کو کنٹرول کرنے میں دلچسپی رہتی ہے، اس لیے سرکاری سنسرشپ ایسی چیز ہے جس کے لیے مستقل حفاظت کرنا ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں، تاہم، بڑی کارپوریشنز حکومت کے مقابلے میں سنسرشپ کا ایک زیادہ عام ذریعہ ہیں: ذرائع ابلاغ کی کہانیاں اس لیے حتم ہو رہی ہیں کہ وہ کارپوریٹ کے مفادات کو کمزور کرتی ہیں، مشتہرین اپنی مالی پریشانی کا استعمال کرتے ہوئے منفی رپورٹز پوشیدہ کرتے ہیں۔ جائز تحقیقات کی حوصلہ شکنی کے لیے طاقتور کاروبار مہنگے مقدمے کی دھمکی کا استعمال کرتے ہیں۔ سنسرشپ کی سب سے زیادہ عام شکل سیلف سنسرشپ ہے:صحافی کچھ ایسی کہانیوں کے تعاقب کا فیصلہ نہیں کرتے جن کے بارے میں وہ جانتے ہوں کہ نگران افسر کے ساتھ غیر مقبول ہوگی۔

Comments

Popular posts from this blog

Season Of Silence Bushra Fatima چُپ کا موسم

Traffic Congestion in Main Qasimabad Komal Qureshi

Waseem Akram Viral memes- Eng