Maliha Who controls media Urdu
Name roll number and other details missing in text file
Maliha
سندیافتہ ملکیت:
امریکہ کے متحد ریاست میں تقریباً تمام
میڈیا جو وسیع سامعیں تک پہنچتی ہیں, سند یافتہ اداروں کی ملکیت ہیں, جو قانونن
پابند ہیں اپنے سرمایاکاروں کے نفعے کو اپنے غوروفکر میں اگے رکھنے پر, نفعے کو
بڑھانے کا مقصد اکثر زمیدار صحافت کی مشق کے خلاف ہوتا ہے.
نا صرف سب سے اہم میڈیا سند یافتہ
اداروں کی ملکیت ہے, جیسے ہی یہ ادارے اپنے حریف جذب کر رہے ہیں, یہ ادارےوسیع ہو
رہے ہیں اور مقدار میں کم ہو رہے ہیں, ملکیت کا یہ توجہ میڈیا کی آوازکو بدلنے کی
صلاحیت کو کم کرتا ہے, اور کچھ اداروں کے ہاتھ میں عظیم قوت دیتا ہے, جیسے ہی خبروں
کے ابلاغ کافی صنعتوں پر مشتمل ایک بڑی کمپنی کے ہاتھوں میں آتا ہے, اٹل طور پر مفاد
کی لڑائی اور خبروں کی فراق کی مداخلت ہوتی ہے.
فیئر یقین رکھتی ہے کے ایک جمہوری
معاشرے کے لیئے خود مختار میڈیا ضروری ہے, اور اجارہ داری والی میڈیا جماعتوں کو
توڑنے کے لیئے اجارہ داری کے خلاف ایسا جارحانہ عمل لینا ضروری ہے, اور اسی وقت
دونوں حکومت اور غیر منافہ بخش شعبے کو ضروری ہے کے غیر سند یافتہ ادارے کے متبادل
میڈیا ابلاغ کو عام کرے.
تشہیر کرنے والے کے اثر و رسوخ:
میڈیا ابلاغ کا تمام تر نفعہ نہ صرف ان
کے سامعین سے آتا ہے, پر کاروباری تشہیر کرنے والوں سے آتا ہے, جو اپنی پیداوار سامعین
کو بیچنے میں دلچسپی رکھتے ہیں. اگرچہ کبھی کبھار لوگ مباحثہ کرکے کاروباری میڈیا
کا دفاع کرتے ہیں کہ "مارکٹ لوگوں کو جو چاہیئے ہوتا ہے, وہ فراہم کرتی
ہیں". پر حقیقت یہ ہے کے میڈیا کاروبار میں سب سے اہم معاملہ یہ ہے کےوہ
لین دین کا عمل جس میں میڈیاٹی وی یا ریڈیو کی صورت میں نشر کرنے میں میڈیا
کمپنیاں سامعین کو پیداوار نہیں بیچتیبلکہ میڈیا سرپرستوں کو سامعیں بیچتی ہے.
یہ سند یافتہ سرپرستوں کو غیرمتناسب قوت دیتی ہے کہ لوگ کیا دیکھیں یا لوگ
کیا پڑھیں. تقریباً وہ اس میڈیا کی ہمایت نہیں کرتے جو سند یافتہ غلط اعمال پر
مباحثہ کرے یا ان کی پیداوار کی نقتہ چینی کرے. عام طور پر اس میڈیا کی حمایت کرتے
ہیں جو سامعین کو پرامن اور غیر تنقیدی ذہنیت میں ڈال کر آسانی سے انہیں چیزیں بیچ
سکے.
مخضوص طور پر سرپرست غریبوں سے زیادہ پرکششاور
مالدار سامعین ڈھونھتے ہیں اور نوجوان, گورے, مرد صارفین کو منافع دیتے ہیں جو
عوام کو فراہم کئےگئے اجزا کی حد کو ایک طرف سےآڑا کر سکیں.اشتہار کو نشریاتی
اثرات سے بچانا مشکل ہوتا جا رہا ہے.کافی طلباکو چینل ون پر درسگاہ پر مشتمل
اشتہار دیکھنے پر زور دیا جا رہا ہے. یہاں تک کہ پی بی آر اور این پی آر جیسےغیر
کاروباری ابلاغ پر چلائے گئے اشتہاروں کو خوش بختی سے بیماکاری اعلان سمجھا
جاتا ہے. Fair یقین رکھتی ہے کہ کاروباری اشتہار پر منافع ایک طرف کرکے ٹیکس لگایا
جائے تاکے غیر کاروباری میڈیا کو فنڈکی رقم دی جائے.
سرکاری جدول:
اس دعویٰ کے باوجود کے پریس کا حکومت
کے ساتھ اشتہاری تعلق ہے,حقیقت میں آمریکی میڈیا واشنگٹن کی سرکاری لائن کی پیروی
کرتی ہے. یہ مخصوص طور پر غیر ملکی تدبیر کی خبرسازی اور زمانہ جنگ میںاندرونیمباحثوں
واضع ہے. مباحثے کا موضوع اکثر اندرونی اور جمہوری حکومت کی حامی سیاسی جماعتوں کے
بیچ محدود حد تک ہے. غالب میڈیا ابلاغ کی مالک اور نگران اکثر سیاسی ممتاز اشخاص
کے پس منظر, دنیاوی نظرئے اور تنخواہ کا تذکرہ کرتے ہیں. بڑی خبروں کے افسر اعلیٰ
اور مشہور صحافی سرکاری افسروں سے اکثر سماجی بن جاتے ہیں. سب سے طاقتور میڈیا
کمپنیاں معمولاً سیاسی اشتہار چلانے اور اس کے عیوض لاکھوں ڈالر لینے کی صورت میںدونوں
بڑی سیاسی جماعتوں کو امداد دیتی ہیں. اس غیر مہذب ثقافت میں "خبر"کو
"اقتدار میں لوگوں کے اعمال اور بیانوں"کی صورت میں بیاں کیا گیا
کے.صحافیجو سرکاری ذرائع سے فراہم کی گئی خفیہ معلومات پر مشتمل ہوتے ہیں, وہ کبھی
بھی نہیں چاہتے کے ان ذرائع کو حقیقی تشویقناک خبرسازی کے ساتھ خطرے میں ڈالیں اور
ناہی سند یافتہ میڈیا ابلاغ ان چنے ہوئے سرکاری ملازموں کو غصہ دلانے میں دلچسپی
رکھتے ہیں جو ان کے کاروبار کو ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں.
حکومت اور باقی سرکار:
حکومت اور پریس کا تعلق نظریتاً تھورا
بہت جھگڑالو ہوتاہے. جب باتیں منظر عام پر آتی ہیں کے مقامی حکومت کچھ صحافی یا
میڈیا ابلاغ سے بات کرنے سے انکار کر رہی ہے. تو یہی امید کی جا سکتی ہے کے کسی
طریقے میں اس کا مطلب ہے کے میڈیا اپنا کام کر رہی ہے اور ساستدان ان پر غصہ ہیں.
حکومتی ملازموں کو یہبھی پتا ہے کے ہلکا
سا دباؤ ڈالنے سے میڈیا کافی حد تک جا سکتی ہےیہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کے یہی
میڈیا کمپنیاں, وفاق اور حکومت سے مدد لینے کے کوشش میںاکثر اعلیٰ داؤ پر پریشر
لگانے میں ملوث ہیں اور وہ بھی نشر کرنے پر مجبور ہیں. اس لیئے اگر وہ ٹوٹ گئی تو
ان دباؤ ڈالنے والے سرکاری ملازموں کو شرمندگی محسوس کروانے کی شوقین نہیں ہے.
کبھی کبھار حکومت کے دباؤ ڈالنے کی
کوشش کے کچھ مثال کو عوام کے سامنے لایا گیا ہے.
جب مشہور صحافی کٹی کیلی, جورج بش کے خاندان
پر اپنی تنقیدی کتاب کا اشتہار دے رہی تھی.وائیٹ ہاؤس کے ایکنملازم نے این بی سی
نیوز کے صدر کو کال کی تاکے کٹی کیلی سے لیئی جانے والے انٹرویو کو بند کروا سکے. (نیویارک
ٹائمس04/9/9 )
کبھی سب سے زیادہ کی گئی صحافت حکومت
کے دباؤ کے اثرانداز ہوئی ہے, مثلاً پینٹاگون کی گذارش پر سی بی ایس اپریل 28 کو عراق
میں کی ابوغرائبہ جیل میں کی کیئے گئے تشدد اور بدسلوکی اور تشدد کی تفتیش دو ہفتوں
تک رکھی گئی.
فقط یہ نہیں کے پریس اور حکومت کاتعلقاکثر
بے قابو ہے, کبھی کبھار وہ بلکل دوستانہ ہوتے ہیں. جبکیلیفورنیا حکومتارنالڈ
اسکوارزینگر نے قومی جمہوریہ اجتماع کے لیئے نیویارک سفر کیا.جیاو پی نےاس کے ہوٹل
کا بل نہیں دیا, اور نا ہی اس ریاست نے, جس کی وہخدمتکرتا ہے. تب ملک کے کچھ عظیم
میڈیا کمپنیاں جیسا کے فوکس, این بی سی یونیورسل, ٹائم وارنر, ڈزنی اور وایاکوم نے
بل کی ادائگی کی. (نیویارک ٹائمس 04/26/8
)
آسٹن میں, امیرکن اسٹیٹمیں کا مضموں
ایڈیٹوریلارنالڈ گارشیہکو ایک خبر ملی جو شاید دوسرے صحافی بھی سمجھتے کے یہ خبر
سب سے پہلے نشر کی جائے.مقامیکاروبار ٹیمپل انلئنڈ انک اختیاری طور پر اپنے مرکزی
دفتروں کو وسیع کرنے کی منصوبابندی کر رہی تھی, پر اس خبر کو نشر کرنے کے بجائے اس
نے اسے دبا دیا.
گارشیہ نے آسٹن شہر کے منتظم ول وئن سے
ٹپ حاصل کی جب وہ اس کے ساتھ گولف کھیل رہا تھا. جب گارشیہ نے وئن کو ایمیل کی تو اس
نے اس سے مزید معلومات کے لیئے کہا کے یہ معلومات اخبار میں چھپنی نہیں چاہیئے
کیوں کے اسے اپنی کمپنی کے لیئے گئے فیصلے پر سیاسی مدد کے لیئے وقت چاہیئے تھا, جو
کے ماحولیاتی مخالفت کے للیئے انتہائی خراب تھا.
کمپنی کے منصوبون کی خبر دو مہینوں بعد
کھل گئی, اور ایک مقامی گروہ کی تفتیش کی مدد سے گارشیہ کو پہلے پتا چل گیا,اس کے
مزید جانچ کرنے پر خبر اور بھی خراب ہوگئے, پھر گارشیہ نے اپنی اخبار پڑھنے والوں
کو ایک کالم میں بیاں کیا. "خراب ایک چونکا دینے والے فیصلے کے وقفے
میں, تحریر کردا ادارے سے جو بھی نتائج نکلے, اس کے لیئے میں نے وئن کو ایک خاکہ
پیش کیا".
نیو میکسیکو حکومت نے ایک جوش بھری
تقریر کے ساتھ بل رچرڈسنکا بارڈر گورنر کانفرنس میں استقبال کیا, شرکت کرنے والوں
نے جانا کے "رچرڈسن نے نیو میکسیکو میںدو قانون ساز اجلاس میں کیا جو ثابق گورنرکوکرنے
میں سال لگگئے." اورذرائع کو سمجھ کر یہ ایک چھوٹی تعریف نہیں. کی او بی ٹی
وی اسٹیشن نیو میکسیکو کی اینکر, مونیکا آرمینٹا نے امیرکن جرنلزم کو بتایااور کہ
وہ اپنےالفاظ خود نہیں لکھتی, یہ سب گورنر کے عملے پر ہوتا تھا, اس نے مزید کہا کے
اسنے ایسا سو دفعا کیا ہے اور سالوں سے کرتی آئی ہےاور کافی لوگوں نے ایسا کیا ہے.
سیاسی منصوبابندی کوخراب کرنا ایک
صحافی کے کام کا حصہ ہے, پر اس کی قیمت اس کی نوکریبھیہو سکتی ہے.
صحافی نک سمتھ نے جورج بش کے 2003 کے
طبعی دوائی کے منصوبے کے خلاف رائے دینے کا ارادہ کیا جو کے جی او پی کے قانون
بنانے والوں کے مطابق نہیں تھا. سمتھ کا کہنا ہے کے اسے کہا گیا کے,اگر وہ اپنی
رائے بدلے تو اس کے عیوض اس کے بیٹے بریڈ کو تحریکی امداد میں 100,000$ دیں گے,کو
اپنے والد کی کانگریس کی نشست کے لیئے کوشش کر رہا تھا, سمتھ نا صرف اپنی "نا*پر
اٹل رہا, پر اسنے لوگوں کو اس مبینہ رشوت کے بارے میں بتایا, رابرٹ نووک کے کالم
کے ساتھجو اس بات سے کچھ تعلق رکھتا تھا. ( 03/27/11)
بعس میں جلد ہی سمتھ نے پریس بلا کر
اپنی اس 100,000$ کی رشوت کے انکار کے بات دہرائی, وہاںڈبلیو کے ٹونٹی ریڈیو
اسٹیشن کا صحافیکیون وینڈنبروک سمتھ کی انٹرویو کی ٹیپ کے ساتھ آگے آیا, جس ٹیپ
میں سمتھ نے رشوت لینے سے انکار اور اپنے بیٹے کو تحریک میں ملنے والی امداد کا
ذکر کیا تھا, جس پر سمتھ تھوڑا پریشان ہو گیا.
سلیٹ کے متابق وینڈنبروک کی خبر نے
اسٹیشن پر سب کو متاثر تو نہیں کیا, لیکن پھر بھی اسٹیشن کے کچھ ملازم اس پر فخر
کر رہے تھے, وہاں پر کچھ افراد ایسے بھی تھے جو اس پر غیر آرامدہ تھے, کیوں کے اس
کے توجہ کا مرکز حکومت کی حامی سیاسی جماعت تھی. کچھ ہفتے بعد وینڈنبروک نے نشر
کیا کے جورج بش نے این بی سی سے ایک انٹرویو میں کئی مشقوق دعوائیں کی ہیں, جس نے
حکومت کے حامے ملازموں کو اسٹیشن کال کرنے پر آمادہ کیا. وینڈنبروک نے سلیٹ کو
بتایا کےاس واقعہ کے بعد "مجھے اندر بلایاگیا اور سیاست سے دور رہنے کو کہا
گیا".آخرکار وینڈنبروک کو ایمیل تدبیر کی خلاف ورزی کرنے پر اسٹیشن کی ملازمت
سے فارغ کیا گیا, کیوں کے اس نے ایک مصنف سے ذکر کیا تھا, جس نے اسٹیشن آنے پر
انکار کر دیا.
جیسا کے سلیٹ کے ٹموتھی نووا نے پیش
کیا کہوینڈنبروک کے ایک بڑی سیاسی جماعت پر ایسی ابھار والی خبرسازی کرنے پر ڈبلیو
کے ٹونٹی کو فخر ہونا چاہئے, پر اس کے بجاء اس نے بظاہر کلامازو ریڈیواسٹیشن کو
پرشانی میں ڈال دیا.
عوامی تعلق کی صنعت:
نفعے کو بڑہانے کے مقصد نے سندیافتہ
میڈیا ابلاغ پر دباؤ ڈالا کے کم سے کم صحافیوں سے زیادہ خبریں ظہور میں لائیں, کم
وقت میں ہر خبر پر کام کرنے پر صحافیوں کو عوامی تعلقات کی صنعت پر بھروسہ کرنے پر
مجبور گیا کے وہ اپنا زیادہ کام ان کے ساتھ کریں. صحافیوں سے اخبارکے لیئے خبریںدوبارہ
لکھوائی جاتی ہیں. جب کےانہیں اپنی خود مختار تحقیق کرنی چاہیے اور ٹی وی اسٹیشن
سے اشتہاری وڈیو چلائے جاتے ہیں جو خبروں جیسی دکھتی ہیں. خبروں کے ابلاغ اور
صنعتی اداروں کے بیچ ایسا تعلق جو وہ نشر کرتی ہیں, عوام کے لیئے برا ہے.
دباؤوالے گروہ:
جیساکے کافی صحافیوں کو روایتی عقلمندی
سے روکنے کے لیئے صنعتی دباؤکافی ہے, دباؤ کے گروہ اس غیر معمولی صحافی کو کسی سزا
پر عائد کرنے پر تیار ہوتے ہیں جو حکومتی جدول کو للکارے.
فیئر یقین رکھتی ہے کے میڈیا کے مسائل
کی نچلی سطح پر ہونے والی سرگرمیاں یقیناً جائز اور ضروری ہیں.
ایک سرگرم گروہ دباؤوالا گروہ کب بنتا
ہے؟
ایک دباؤ والا گروہ فقط نظریہکو دبانے
میں زیادہ فکرمند ہوتا ہےاور وسیع پیمانے پر دستیاب نقطہ نظر کو پتا لگانے سے
اختلاف رکھتا ہے. جیسا کے دباؤ کہ گروہ اکثر ان کمپنیوں اور صنعتوں سے رقم وصول
کرتے ہیں, جن کے مفاد کا وہ اشتہار کرتے ہیں. یہ گروہ اکثر ایسے خیالات کا اشتہار
دیتے ہیں, جیسا کے میڈیا مباحثوں میں ان کی اچھی طرح سے نمائندگی کی گئی ہو.
مباحثے کی تنگ حد:
جیسا کے تمام میڈیا ابلاغ منافہ بخش
سند یافتہ اداروں کی ملکیت ہیں اور انہیں سند یافتہ نشریات کے لیئے رقم دی جاتی
ہے. یہ حیرت انگیز نہیں کے وہ کبھی کبھی پورے پیمانے پے مباحثہ فراہم کرتے ہیں. مباحثے
کا دایاں حصہ اکثر وہ ظاہر کرتا ہے جو فدامت پسند ہو, کوئی ایسا جا پر معنیٰ انداز
میں صورتحال کو بدلنے کے کیئے قدامت پسند سمت بلاتا ہے. بایاں کنارہ وہظاہر کرتا
ہے کس کو انتظامیہ پر مبنی اعتدال پسند ہو. جو صورتحال برقرار رکھنے کی حمایت کرتا
ہو. نہایت ہی کم ہے کہ سندیافتہ قوت کا تجزیہ نگار, جو ترقی یافتہ جواد اور
تحریکوں کو اسی جذبے سے شناخت کرے جیسے اس کے قدامت پسند ہم منصب اسکو مجموعی
میڈیا مباحثوں میں حصہ لینے کی اجازت دیتے ہیں.
احتساب:
جیسا کے حکومتیں تقریباً معلومات کے خود
مختار بہاؤپر ضابط ہونے میں دلچسپی رکھتی ہیں. حکومتی احتساب کچھ ہے جس کا مسلس
دفاع کیا جائے, ہمارے معاشرے میں حکومت سے زیادہ بڑے سندیافتہ ادارے احتساب کے
ذرائع ہیں. میڈیا ابلاغ خبریں ختم کرتے ہیں, کیوں کی وہ سندیافتہ مفاد کی تخروب
کاری کرتے ہیں. تشہیر کرنے والے منفی تحقیقی دستاویز کو کچلنے کے لیئے اپنے
مالیاتی مکے استعمال کرتے ہیں. طاقتور کاروبار قانونی تفتیش کو روکنے کے لیئے
عدالتی مقدمے کی دھمکی دیتے ہیں. احتساب کا سب سے اچھا قسم خود احتسابی ہے, صحافی
ان باتوں مین ملوث ہونے کا فیصلہ نہیں لیتے جن سے ان کے منتظم غیر مقبول ہوں.
Comments
Post a Comment