شامیانے والی تقریبات by Falak Hafsa
Why people prefer Shmaian Shadi?
Cost of marriage hall?
Attribution, figures facts are missing.
Guideline not followed..
فلک حفصہ
2k18/MC/47
BS part lll
کیا شامیانے والی تقریبات سماجی مسئلہ ہیں؟
کہنے کو تو پاکستان میں لوڈ شیڈنگ،صاف پانی کی سہولت،بے روزگاری اور دیگر کئی بے شمار مسائل موجود ہیں جنہوں نے پاکستانیوں کو اپنے حصار میں گھیر کر رکھا ہوا ہے۔جن سے فوری نجات ناممکن ہے۔ مگر کچھ مسائل ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو ہم اپنی کوششوں اوررویوں سے کم ضرور کر سکتے ہیں۔ جس کی ایک مثال شامیانہ والی تقریب سے ہونے والے مسائل ہیں۔بظاہر تو شامیانے والے تقریبات خوشی کی علامات ہوتی ہیں مگر لوگ اپنی خوشی میں دوسروں کے احساس و خیال کوبری طرح نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اپنا کام بنتا بھاڑ میں جائے جنتا۔ جب بھی یہ کہاوت ذہن میں آتی ہے تو یہ بات بالکل صحیح ثابت ہوتی نظر آتی ہے جب لطیف آباد کے علاقے،محلے اور گلیوں میں شادی یا دوسرے خوشی کی تقریبات کے لیے لگے ہوئے شامیانے اورپھر انکی وجہ سے وہاں کے ارد گرد کے رہائشی لوگ پریشان حال اور مشکلات سے دوچار ہوتے نظر آتے ہیں اکثر لوگ شامیانہ لگاتے وقت اس بات کو بالکل نظر انداز کر جاتے ہیں کہ اس مقام سے گزرتے وقت لوگوں کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا مثلا اپنے شامیانے کوکشادہ کرنے کے چکر میں گزرنے والے راستے کو اتنا تنگ کر دیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ آنے جانے والے بندے کو کتنی مشکلات درپیش آئے گی اور گاڑی والے حضرات کوبھی ا پنے روز مرہ گزرنے والے راستے کا رخ بدلنا پڑے گا۔اور پھر اکثر فنکشن میں پوری پوری رات تیز آواز میں گانے چلا ے جا تے ہیں اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ ہمسائیوں کی نیند خراب ہوگی۔اگر کوئی بیمار ہے تو اس کے آرام میں خلل ہوگا۔ کوئی طالب علم پڑھائی کر رہا ہے تو اسے اپنی پڑھائی کرنے میں کتنی دشواری ہوگی۔ دوسروں کی تکلیف اور خیال کو بالائے طاق رکھ کر صرف اپنے بارے میں سوچنا مذہبی اور اخلاقی غلط بات ہے۔
لطیف آباد میں شادی ہال، بینکیوئٹ، گارڈن کثرت کی تعداد میں موجود ہیں مگر پھر بھی اکثریت کا رجحان شامیانے میں ہونے والی تقریبات کی طرف ہی ہوتا ہے۔ شامیانے والی تقریبات کا نظام ہمارے ملک میں پرانے وقتوں سے چلا آرہا ہے اور آج تک قائم و دائم ہے کیو نکہ بیشتر گھر کے بڑے یا بزرگ حضرات آج بھی اس بات کو فوقیت دیتے ہیں کہ شادیوں کی تقریبات گھر پر ہی ہو تاکہ ہر کام سہولت کے ساتھ انجام ہو، مہمانوں کو زیادہ پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وہ لوگ جوکہ بینکوئٹ، شادی ہال، گارڈن میں اپنی شادی یا دوسری تقریبات کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ان کے لیے شامیانہ ایک بہترین حل ہے۔مگر شامیانہ لگاتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ کیسی دوسرے اور ہمسائیوں کوپریشا نی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔جو کہ اکثر لوگ اس بات کو نہایت خوبصورتی سے نظر انداز کر دیتے ہیں۔
لوگ اس مسئلہ کے حوالے سے بات کیوں نہیں کرتے؟
گلی یا علاقے میں لگے شامیانے سے لوگ پریشان ہوتے ہیں اور رات دیر تک چلنے والے تیز آواز میوزک سے عاجز بھی آجاتے ہیں مگر اپنی بات کو ظاہر کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ لوگوں کا ماننا ہے کہ کسی کی خوشیوں میں روکاوٹ ڈالنااصولا ٖاور اخلاقی غلط بات ہے۔ اور کچھ لوگ اس بات کو رفع دفع کردیتے ہیں کہ محلہ داری ہے اورمحلے میں رہتے ہوئے چھوٹی چھوٹی باتوں کو در گزر کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ اگر کسی کو یہ بات سمجھائی جائے تو کچھ لوگ اس بات کو سمجھ جاتے ہیں مگر اکثر و بیشتر لوگ اس بات کو انا کا مسئلہ بنا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ محلہ داری میں تو یہ سب چلتا ہے۔اور بعض دفعہ یہ بات اتنی بڑھ جاتی ہے کہ لڑائی کی نوبت آجاتی ہے۔اور آپس میں ایک دوسرے سے قطع تعلقی ہوجاتی ہے۔انہی باتوں کی وجہ سے لوگ اس مسئلہ پر بات کرنے سے ڈر تے ہیں اور خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔مگرہر بار خاموشی ہر مسئلہ کابہترین حل ثابت نہیں ہوسکتی۔
اس مسئلہ کو کس طرح حل کیا جا سکتا ہے؟
ہر مسئلہ کا حل موجود ہوتا ہے با شرط اس میں تھوڑی مصلحت اورتدبیر سے کام لینا پڑتا ہے اور خود بھی اس پر عمل پیرا ہوکر لوگوں کے سامنے عملی نمونہ کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔اگر کبھی کبھار شامیانہ اپکی گلی میں لگے تو درگزر کرنا اخلاقی طور پر اچھی بات ہے مگر آئے دن گلی، محلہ اور روڈ پر لگے ہوئے شامیانے کو نظر انداز کرنا بھی غلط ہے۔ اگر ہر کام اپنے مقررہ کردہ اصول کے مطابق انجام دیں تو بغیر کسی ناچاکی اور نا اتفاقی کہ ہر مسئلہ کو باخوشی حل کیا جا سکتاہے۔ ہمسائے حقوق ہونے کے ناطے محلہ کمیٹی کو یہ اصول بنانا چاہیے کہ جب کبھی بھی کسی بھی تقریب کی لیے شامیانہ لگایا جائے تو اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ اس راستہ سے گزرنے والوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اور رات دیر تک فنکشن رکھتے وقت بھی اس بات کو مد نظررکھا جائے کہ میوزک کی آواز تیز کی بجائے دھیمی رکھی جائی جس سے کسی کے آرام میں خلل نہ آئے۔اگر ہر کوئی بذات خود اس بات کا خیال رکھیں کہ ہماری وجہ سے کسی دوسرے کو پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے اور اپنی خوشیوں کے ساتھ ساتھ ہمسائیوں کا بھی احساس کیا جائے تو اس مسئلہ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔کیونکہ باحیثیت مسلمان ہم پر فرض ہے کہ ہم دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں۔
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Media & Communication Studies, University of Sindh
https://d.docs.live.net/682a4f00037bf1ad/Documents/Presentation%20(4).pptx
ReplyDelete