Sonia Shaikh social issue
Your assignment was local problem. A major problem of ur area. U are talking abt negative effects of drugs and over all Pakistan.
U should have confined ur self to ur area and its major problem.
Even in revised piece u did not follow the instruction available on FB group, video lecture and also sent detailed note
This is not local problem. u have to localise and was supposed to write on problem of ur area. pls watch video and follow instructions:
Revised
سونیہ شیخ 2 K18/MC/144۔ ریوائیزڈ
منشیات کے منفی اثرات
پاکستان بیشتر معاشی مسائل سے گھرا ہواہے اور ہر مسلئے کی شدت ہرجگہ مختلف ہے۔اگر ہم صوبائے سندھ کی بات کریں، توہمیں یہاں پاکستان کے تمام مسائل غیر معمولی شدت میں نظر آتے ہیں۔جو ان مسائل کے بے قابو حالات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس ہی طرح سے شہر حیدرآباد بھی کئی معاشی بیماریوں سے متاثر ہے۔
ان میں انکروچمنٹ، بچوں کے ساتھ بد سلوکی، تضاد، مرد کی بالادستی، منشیات کے ساتھ اور بھی کئی مسائل ہیں۔ جن میں سب سے بڑی شدت منشیات کے استعمال کی ہے۔ حیدرآباد کے ایک چھوٹے سے علاقے فیقر کے پڑ سے لے کر پھلیلی تک منشیات سے 60% لوگ متاثر ہیں۔ اس چھوٹی سی سطح پر پاکستان کی آزادی سے پہلے، بھنگ، آفیم اور چرس غیر قانونی طور پر فروخت ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ جیسے اس کا زیادہ استعمال ہوا ویسے ہی منشیات مختلف شکل میں آتی رہی۔
عموماً منشیات کا استعمال کسی نقصان یا صدمے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ لوگ اپنے دشوار حالات سے گزرنے کے لیے منشیات کا تناول کرتے ہیں، تو کچھ اپنے موجودہ حالات سے وقتی چھٹکارا پانے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ نشہ نوشی سے لوگوں کو ایک عجیب ذہنی سکون ملتا ہے جن سے وہ اپنی دنیا کی تمام پریشانیوں سے عارضی طور پر دور ہو جاتے ہیں اور دوسری مصیبتوں کو دعوت دیتے ہیں۔
مگر آج کل نوجوان نشہ آور لوگوں کو دیکھ کر ایک تجربے کے شوق میں نشہ نوش کرتے ہیں اورنتیجتاً اس کے عادی بن جاتے ہیں۔ پر یہاں تو نشہ نوشی کا ٹرینڈ سا بن گیا ہے۔ یہاں کے مرد عورت اور بچے سب کسی نہ کسی نشے کے عادی ہیں، جو جس عمر کا ہوتاہے اس لحاظ کا نشہ کرتا ہے۔ کچھ اپنی صحبت کی وجہ سے نشہ نوش کرنا شروع کودیتے ہیں تو کچھ اپنی فٹنیس کی وجہ سے کرتے ہیں۔ کیونکہ نشہ کرنے سے انسانی جسم سکڑتا ہے اور دبلا رہنے کو خوبصورتی کی علامت سمجھاجاتا ہے۔
منشیات کا تناول ایک ایسا غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے، جو نہ صرف انسانی صحت پر اثرانداز کرتاہے بلکہ معاشرے کے مختلف پہلوں کو متاثر کرتا ہے۔ منشیات کے عادی لوگ زومبی سے کم نہیں ہوتے کیونکہ یہ ماحول میں نئی بیماریاں متعارف کر کے ہر جاندار کی زندگی پر گہرا منفی اثر ڈالتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں صرف صحت کی بیماریاں جنم نہیں لیتی بلکہ اخلاقی بیماریوں میں بھی اوسطا اضافہ ہوتا ہے۔
منشیات کا زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے دل، گردہ اور سانس کی بیماریاں ہوتی ہیں۔ صرف یہی نہیں منہ، پھیپھڑے، پیٹ، جگر اور چمڑی کا کینسرہو سکتا ہے۔ جس میں چمڑی کا کینسر اور ھیپائٹس دوسرے لوگوں تک پھیلنے کا خطرہ بھی ہے۔ایسے ماحول میں ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں پر منفی اثرات پڑتے ہیں اور ایسا علاقہ بچوں کے پرورش کے لیے قابل رہائش بھی نہیں سمجھا جاتاہے۔
اس غیر قانونی عمل کو اینٹی نارکوٹس پولیس ڈیپارٹمنٹ اختیار میں لیتا ہے اورنشہ آور لوگوں کی اصلاح کر کے منشیات سے پاک معاشرہ رکھنے کا مقصدبھی رکھتا ہے۔ اس علاقے میں بھی تقریبا دو سال پہلے پولیس نے ایک منشیات فروخت کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر حراست میں لے لیا۔ اسے سخت سزا دینے کے بجائے، کچھ ہی دنوں میں ضمانت سے رہا کر دیا۔ جو اپنا کام آج تک تاریقی میں چلا رہا ہے۔ اس سسٹم کے نا اہل ہونے کی پہلی وجہ سیاسی حکمرانوں کا زور اور دوسری وجہ رشوت ہے۔ سیاسی حکمران پولیس کو طاقت کے زور پر دہمکاتے ہیں، جس کی وجہ سے پولیس مجبوراً مجرم کو رہا کر دیتی ہے۔ رشوت یا پئسے کی چمک دیکھ کر پولیس کی بھی ہمت ٹوٹ جاتی ہے، کیس کو آگے بڑھانے کے بجائے بات کو وہاں ہی دبا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ایسی چیزوں پر حکومت کی طرف سے پابندی بھی عائد ہے، مگر یہاں کے لوگ ایک دوسرے کا ساتھ دیے ہوئے ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر 40% میں سے کوئی منشیات کے خلاف ایسا کچھ ظاہر کرے تو60% لوگ اسے بچانے کے لیے پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔
حکومت اس مسئلے کا حل، منشیات فروخت اور اسے پوشیدہ انداز میں تقسیم کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دے کر حاصل کر سکتی ہے۔ حکومت ان کے خلاف ایسی قانونی کاروائی کرے جو دوسروں کے لیے قابل عبرت ہو۔ حکومت کو چاہیے کہ نشہ آور مریضوں کی اصلاح کریں اور ان کاعلاج کروائیں جیسا کیینٹی نارکوٹس کا عزم ہے۔ ان اقدامات کے ساتھ لوگوں میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پھیلائیں جو صوبائی سطح سے لے کر ایک لوکل انسٹیٹیوٹ تک فراہم کی جائے۔سخت قانونی کاروائی، لوگوں کی اصلاح، اور ان کی سوچ کو تبدیل کر کے حالات بہتر کیے جا سکتے ہیں۔
یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ
مسئلے کی نوعیت کو ٹھیک سے بیان
کریں۔
یہ مسئلہ کب پیدا ہوا؟
کیسے پیدا ہوا؟ کیا شدت رہی؟ کتنے لوگوں
کو متاثر کرتا ہے؟
اتنا شدید مسئلہ ہے تو کچھ نہ کچھ اقدامات یا
تحقیقات یا ریسرچ وغیرہ ہوئی ہوگی؟
میڈیا میں بھی کچھ آیا ہوگا؟ حکومتی سطح
پر کیا اقدامات کئے گئے؟
رکاوٹیں کیا کیا ہیں؟ کوئی رپورٹس مسئلے کے بارے
میں سرکاری سطح پر یا غیر سرکاری سطح پر؟
مختلف گروہوں کے مفادات کیا رہے؟ مین
اسٹیک ہولڈرز کون کون ہیں؟
رکاوٹ کیا ہے؟ لوگوں میں کس حد تک
شدت سے احساس ہے؟ اس کا اظہار کب، کیسے کیا ہے؟
اگر لوگوں کو پتہ ہے لیکن
احساس نہیں تو پھر آپ کس طرح سے مسئلے کو اٹھائیں گے کہ لوگوں میں بھی احساس ہو
اور متعلقہ حکام تک بھی بات پہنچے؟ کوئی زاویہ، وغیرہ
حل کے لئے کیا کیا آپشنز ہیں؟ مختلف لوگوں
کی کیا آراء ہیں؟
پہلے کوئی کوشش کی گئی؟ مسئلہ حل کیوں نہیں ہو
رہا؟
کون مسئلہ حل کر سکتا ہے؟
لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ملک بھر میں ہے۔ آپ کے علاقے
میں اس مسئلے کی خصوصی یا مختلف شکل اور نوعیت کیا ہے؟ اگر آپ اس کو لوکلائیز نہیں
کرسکتے تو پھر یہ ملک گیر مسئلہ ہے۔ اور آپ کو تو لوکل سوشل اشو کے لئے کہا گیا
ہے۔ بیروزگاری کو کیسے کواٹیفائی کریں گے؟ لوکلائیز کیئے بغیر یہ بھی قومی یا ملکی
مسئلہ ہے۔
صحت وغیرہ سے متعلق اگر کوئی چیز ہے تو اس کو
اسپیسیفائی کریں۔ لوکلائیز کریں۔ پہلے سے کیا سولہیات ہیں۔ پرائیویٹ ڈاکٹروں
کے پاس کیا صورتحال ہے؟
تعلیم کے ایک مسئلے کو سمجھنے کے لئے ہم ایک
مثال لیتے ہیں اور ایک چارٹ پیس کرتے ہیں۔
آپ کے نزدیک حل کیا ہے؟
ماہرین کی رائے لوگون کی رائے۔ کیا کیاممکن ہے؟
لکھتے وقت آپ کو کچھ اقدامات پر عمل کرنا پڑے گا:
دانشمندی کے ساتھ اپنے عنوان کا انتخاب کریں
سماجی مسئلے کے موضوع کو منتخب
کرنے پر توجہ دیں۔ ایسی کوئی چیز ہونی چاہئے جو کچھ بحث کا سبب بنے
اور آپ کے سامعین کو دلچسپی بخشے۔
تحقیق کے لئے وقت نکالیں
کچھ ایسا ہونا چاہئے جس کی آپ آسانی سے تحقیق
کرسکیں تاکہ آپ کو اپنے خیالات کی تائید کے لئے کافی ثبوت مل جائیں۔
ہمیشہ ثابت شدہ اور قابل اعتماد
ذرائع تلاش کرنے چاہئے۔ خاطر خواہ منطقی ثبوت استعمال کیے بغیر اپنی رائے درج کرنا
درست نہیں۔
دلائل اور ثبوت دیں
صرف میڈیارپورٹس پر انحصاردرست نہیں۔ کیونکہ میڈیا انڈسٹری کی دنیا سیاسی اثر و رسوخ سے متاثر ہے
اور وہاں تعصب برتا جاسکتا ہے۔۔
this is ur piece
سونیہ شیخ 2K18/MC/144
منشیات کے منفی اثرات
پاکستان بیشتر معاشی مسائل سے گھرا ہواہے اور ہر مسلئے کی شدت ہر علاقے میں مختلف ہے۔اگر ہم صرف حیدرآباد کے چھوٹے علاقے فقیر کے پڑ سے لے کر پھلیلی تک کی بات کریں، تو اس چھوٹی سطح پر پاکستان کے کئی مسائل غیر معمولی شدت میں نظر آئیں گے۔جو ان مسائل کے بے قابو حالات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ان میں انکروچمنٹ، بچوں کے ساتھ بد سلوکی، تضاد، مرد کی بالادستی، منشیات کے ساتھ اور بھی کئی مسائل ہیں۔ جن میں سب سے بڑی شدت منشیات کے استعمال کی ہے۔جس سے یہاں کے 60% لوگ متاثر ہیں۔ پاکستان کی آزادی سے پہلے سندھ کے اس علاقے میں، بھنگ، آفیم اور چرس غیر قانونی طور پر فروخت ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ جیسے اس کا زیادہ استعمال ہوا ویسے ہی منشیات مختلف شکل میں آتی رہی۔
عموماً منشیات کا استعمال کسی نقصان یا صدمے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ لوگ اپنے دشوار حالات سے گزرنے کے لیے منشیات کا تناول کرتے ہیں، تو کچھ اپنے موجودہ حالات سے چھٹکارا پانے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ مگر آج کل نوجوان ایک تجربے کے شوق میں اسے نوش کرکے نتیجے میں اس کے عادی بن جاتے ہیں۔ پر یہاں تو نشہ نوشی کا ٹرینڈ سا بن گیا ہے۔ یہاں کے مرد عورت اور بچے سب کسی نہ کسی نشے کے عادی ہیں، جو جس عمر کا ہوتاہے اس لحاظ کا نشہ کرتا ہے۔
منشیات کا تناول ایک ایسا غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے، جو نہ صرف انسانی صحت پر اثرانداز کرتاہے بلکہ معاشرے کے مختلف پہلوں کو متاثر کرتا ہے۔ منشیات کے عادی لوگ زومبی سے کم نہیں ہوتے کیونکہ یہ ماحول میں نئی بیماریاں متعارف کر کے ہر جاندار کی زندگی پر گھرہ منفی اثر ڈالتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں صرف صحت کی بیماریاں جنم نہیں لیتی بلکہ اخلاقی بیماریوں میں بھی اوسطا اضافہ ہوتا ہے۔
منشیات کا زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے دل، گردہ اور سانس کی بیماریاں ہوتی ہیں۔ صرف یہی نہیں منہ، پھیپھڑے، پیٹ، جگر اور چمڑی کا کینسرہو سکتا ہے۔ جس میں چمڑی کا کینسر اور ھیپائٹس دوسرے لوگوں تک پھیلنے کا خطرہ بھی ہے۔ایسے ماحول میں بچوں کے ذہن پر منفی اثرات پڑتے ہیں اور ایسا علاقہ بچوں کے پرورش کے لیے قابل رہائش بھی نہیں سمجھا جاتا۔
اس غیر قانونی عمل کو اینٹی ناوکوٹس پولیس ڈیپارٹمنٹ اختیار میں لیتا ہے اور اس سے لوگوں کی اصلاح کر کے منشیات سے پاک معاشرہ رکھنے کا مقصد رکھتا ہے۔ اس علاقے میں بھی تقریبا دو سال پہلے پولیس ایک منشیات فروخت کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر حراست میں لے لیا۔ مگر نا اہل سسٹم اور رشوت کے زور کی وجہ سے منشیات فروخت کچھ ہی دن میں جیل سے رہا ہو کر اپنا کام آج تک تاریقی میں چلا رہا ہے۔ حالانکہ ایسی چیزوں پر حکومت کی طرف سے پابندی بھی عائد ہے مگر یہاں کے لوگ ایک دوسرے کا ساتھ دیے ہوئے ہیں۔ کیونکہ اگر 40% میں سے کوئی ایسا کچھ ظاہر کرے تو60% لوگ اسے بچانے کے لیے پہلے سے موجود ہیں۔
حکومت اس مسئلے کا حل صرف قانون کی سختی یا کسی چیز پر پابندی لگا کر حاصل نہیں کرسکتی۔ حکومت کو چاہیے کہ اس کے ساتھ سماجی آگاہی مہم چلائے، لوگوں کی اصلاح کریں،ان کی سوچ کو تبدیل کریں۔ صرف سختی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Media & Communication Studies, University of Sindh
Comments
Post a Comment