Alvina Moeen Travelogue
1030 words
Travelogue
-الوینہ معین -سفرنامہ-بی ایس پارٹ ۳-رول نمبر 22
حیدرآباد سے کراچی کا سفر:
کراچی کی بس میں سوار ہوتے ہی جب مجھے پہلی بار اس بات کا علم ہوا تھا کہ کھڑکی کے ساتھ والی کرسی میری قسمت میں نہیں اپنی زندگی میں جتنی بھی مسافتیں طے کیں ایک اصول لازم و ملزوم تھا جس کا میرے گھر والوں اور یہاں تک کہ دوست احباب کو بھی علم تھا وہ یہ کہ سفر چاہے جیسا بھی ہو۔اور گاڑی چاہے کسی بھی قسم کی ہو‘کھڑکی اور کھڑکی کے ساتھ والی کرسی نے میرے ہی حصے میں آنا تھا۔
تو اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے بجائے اس کے کوئی میری جگہ پر بیٹھنے میں اپنی خواہش ظاہر کرے خاموشی سے اپنی اس خواہش کا گلہ گھونٹ دیتی یا پھر دوسری کھڑکی کی طرف والی جگہ گھیرنے کی کوششیں شروع کردیں۔
کھڑکی کی طرف بیٹھ کر طرح طرح کی خوبصورت وادیوں‘اونچے اونچے پہاڑوں اور المنظر کے دلکش اور حسین مناظر سے لطف اندوز ہوئے سفر کا تو اپنا ہی مزہ تھا اور ایسے سفر کا مزہ چکھنا میری پہلے کبھی میری قسمت میں نہیں تھا بس ایک ہی خواب جو میں نے اپنے سفر سے متعلق ذہن میں پروان چڑہایا تھا وہ صرف یہی تھا کہ بس میں کھڑکی کے ساتھ ڈیرا جما کر اور ساری دنیا سے لا تعلق ہو کر خدا کی شان‘عظمت اور بڑائی کی گواہی دیتے ہوئے بلندو بالا پہاڑوں سے لیکر دور دور تک پھیلے ہرے بھرے میدانوں‘جنگلوں‘دلکش وادیوں غرض کہ قدرت کے ہر طرح کے خوبصورت پر کشش اور پر سکون مناظر میں کھو کر سفر کی تلخ حقیقت‘اوپر سے اپنی منزل تک پہنچنے کی جلدی اور بے چینی اور ان دونوں کے درمیان انتظار کی سختی جیسے ذہنی خیالات اور دلی جذبات فراموش کردوں گی اور ان قدرت کے خاص تاثیر رکھنے والے مناظر سے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل ودماغ کو اطمینان اور سکون پہنچاتی رہونگی مگر سفر سے متعلق یہ خواب خواب ہی رہا اور سفر حقیقت میں اس خواب کے برعکس اختتام پذیر ہوا۔
سفر کے دوران حاصل کردہ تکالیف میں ایک طرف تنگ جگہ کے باعث گھٹنوں کا درد تھا تو دوسری طرف گزرتے وقت کے ساتھ ڈھلتا سورج شام کی آمد اور آہستہ آہستہ ہر شے کو اپنے سیاہ مائل پردے سے ڈھانپتی ہو ئی رات کی تاریخی کے ساتھ اپنے قدم جماتی سخت سردی کے زیر اثر کانپتے ہوئے وجود کی تکلیف بھی تھی میں تو بھول ہی گئی تھی کہ نومبر کی سردی کے احساس میں کافی حدرتک کمی باقاعدہ کراچی پہنچنے کے بعد محسوس ہو گی۔
شکر ہے کہ سفر کے دوران ٹھنڈے موسم سے نمٹنے اور سردی کے توڑ کے لیئے والدین کے اسرار پر گرم چادر کا انتظام کرلیا تھا۔
اوپر سے میں اس سہولت سے بھی محروم تھی کہ اندر کی طرف بیٹھ کر‘کھڑکی کو ذرا کھسکا کر قدرتی اے سی کے مزے لیتی ہاں مگر اس کے باوجود تھوڑے بہت ہوا کے جھونکے کہیں نہ کہیں سے آکر میرے چہرے سے ٹکرا ہی جاتے مگر یہ نازک بے اثر ہوا کی لہریں کھڑکی سے پورے غصے کے ساتھ جھانکتیں پھر ان لمحات میں میرا صرف یہی کام بچتا کہ گھڑی کی طرف نظریں جمائے ایک ایک لمحے کو گنتے ہوئے اس وقت کا انتظار کرنا شروع کرتی کہ جب سورج افق کی سیڑیاں اترتے اترتے اپنے آپ کو منظر سے اوجھل کردیتا اور ساتھ ساتھ اپنے زردی مائل سائے کو ہر شے سے اٹھا کر زمین کو اپنے گرم اثر سے آزاد کردیتا۔بلا آخر جب وہ رقت آتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے ہواؤں میں پھر سے تازگی آگئی ہو۔
ہوا کے جھونکے کھڑکی کے سرے سے اندر جھانکتے اور چہرے ان ہوا کی لہروں کے ٹکرانے کے ساتھ ہی ایک ٹھنڈک کے احساس سے پورا وجود تروتازہ ہوجاتا اور ساتھ ہی ساتھ دل و دماغ کو بھی سکون ملتا۔
اس سفر کے دوران ایک چپس کا پیکٹ ایک بسکٹ اور ان کے ساتھ ایک جوس کا ڈبہ بھوک پیاس کو بھلانے کے لیئے دوا کا کام کرتے رہے تھے یہ بھی وہی چیزیں تھی جنھیں ابو نے بس کے اندر قدم رکھنے سے پہلے بغیر صلاح مشورہ کے اپنی پسند کہ سامنے رکھتے ہوئے خرید کر زبردستی ہاتھ میں تھما دیا تھا۔پھر کراچی پہنچتے ہی کراچی کی خوبصورتی اور روشنیاں دیکھ کر سفر کی ساری تھکن دور ہوگئی۔
کراچی پاکستان کا سب سے نمایاں ساحلی شہر ہے اور ساحل سمندر سے محبت کرنے والوں کو یہاں بحیرہ عرب سے متعلق مختلف ساحل دیکھنے کے بہت سارے مواقع ملتے ہیں۔
کراچی سب سے بڑا شہر‘مرکزی سمندری بندرگاہ‘پاکستان کا مالی دارلحکومت اور صوبہ سندھ کا دارلحکومت ہے جس کی شہری آبادی 18.5ملین ہے اور سی ویو کراچی میں واقع ایک خوبصورت جگہ ہے اور آخر کار ہم سی ویو پہنچ ہی گئے کراچی کے شہری بھی سیرو تفریح کے لیئے یہاں آتے ہیں اتوار کا دن جو کہ چھٹی کا دن ہوتا ہے سی ویو پر شہریوں کی بڑی تعداد آئی ہوئی تھی۔
ساحل سمندر میں اب متعدد مقامی تفریحی سرگرمیوں کا گھر ہے جن میں اونٹ کی سواری‘چھوٹی چھوٹی سواریوں‘گھوڑوں کی سواریاں شامل ہیں۔
ہم نے خوب مزہ کیا وہاں کا ایک الگ ہی منظر تھا چھوٹے چھوٹے بچے چکنی مٹی سے کھیل رہے تھے اور کچھ لوگ اونٹ کی سواری کررہے تھے کراچی کا ساحل سی ویو شہریوں اور دور دراز سے آنے والے لوگوں کے لیئے سب سے زیادہ پسندیدہ تفریح گاہ ہے بادل چھائے ہوئے ہوں یا تیز کڑک دار دھوپ ہو یہاں کے شہریوں کی بڑی تعداد سمندر کے مزے لینے کے لیئے سی ویو کا رخ ضرور کرتی ہے زیادہ تر لوگ اپنی چھٹی کا دن سمندر کے کنارے گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں کیو نکہ یہاں موج مستی اور سمندر کی اونچی اونچی موجیں۔چھٹی کے دن کو انجوائے کرنے کے لیئے سمندر سب سے اچھی جگہ ہے۔
کوئی لہروں سے کھیلتے دکھائی دیا تو کسی نے گھوڑے کی سواری اور موٹر کار کے مزے بھی خوب لیئے سی ویو پر چٹ پٹے کھانے میں بھی بہت مزہ آیا۔ اس طرح ہم نے چھٹی کا دن خوب انجوائے کیا اور واپس اپنے سفر کو روانہ ہوئے۔
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Media & Communication Studies, University of Sindh
Comments
Post a Comment