Bushra Naeem Travelogue
ایک ہزار سے کم الفاظ ہیں جب کہ ہزار سے دو ہزار تک چاہئیں
آپ حیدرآباد کے ہیں تو اس کے شاہی بازار پر سفر نامہ نہیں لکھ سکتے۔ یہ فیچر ہوجائے گا۔ اور آپ نے لکھا بھی فیچر یا آرٹیکل کی طرح ہے۔
اس کے بجائے کچھ اس طرح سے لکھتے کہ آئیے ہم آپ کو حیدارآباد کے شاہی بازار کی سیر کراتے ہیں۔ پھر سفر نامے کی طرح کہ دی دیکھیئے یہ فلاں جگہ ہو۔۔۔ اب ہم فلاں جگہ پر ہیں۔ اس جگہ کی تفسیل وغیرہ۔
یہ کسی طور پر سفر نامہ نہیں
فوٹو جو آپ کی موجودگی کو ظاہر کرے۔
شاہی بازار کی کوئی انوکھی، دلچسپ، نئی فوٹو بھی نہیں۔ دیکھیں سفر نامے کے لئے کیا ہدایات تھیں۔ ویڈیو لیکچر دوبارہ دیکھ لیں
ہیڈلائنز کو کوما نہیں دیئے جاتے
This is travelogue not Travel log
file name is wrong. u wrote Safar Nama. if all students are sending with this file name, u can think how difficult it would be
Bushra Naeem BS Part 3 (2k18/MC/169) Travel log
بشریٰ نعیم
کلاس: بی۔ایس۔پارٹ ۳. رول نمبر: ۹۶۱. ً
موضوع: سفرنامہ.
” حیدرآباد کا شاہی بازار“
طویل عرصے سے بازار کا رخ نہیں کیا تھاتو سوچا اس بار قدیم تر ین با ز ار”شاہی بازار“ کا رخ کر لیا جائے۔شاہی بازار کو یوں تو بہت سی خصوصیات حاصل ہیں مگر پہلے اسکی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔شاہی بازار قلعہ حیدرآباد کے سامنے سے شروع ہوتا ہے اور سینٹرل جیل پر اختتام پزیر ہوتا ہے۔بازار کے دونوں طرف پورا حیدرآباد واقع ہے۔یہ بازارکلہوڑوں اور تا لپوروں نے بنوایا تھا۔مگر ڈھائی سو سال گزرنے کے بعد آج بھی قائم ہے۔جب غلام شاہ کلہوڑوں نے حیدرآباد کو قائم کیا تو انہوں نے عوام کو قلعے کے باہر اور خود قرابت داروں اور ا شرفیہ کے ساتھ قلعے میں رہنے لگے اور با ہر انھوں نے پیشوں کے لحاظ سے بستیاں آباد کیں،خداآباد،جو کلہوڑوں کا دارالخلافہ تھا وہاں سے ہنر مند مزدور اور دوسرے لوگوں کو یہاں لاکر آباد کیا۔یہ شہر کلہوڑوں کے دور سے صرف قلعے حیدرآباد تک محدود تھا اوراس وقت اس کا نام ”نیرون کوٹ“تھا۔تالپوروں نے جب ہلانی کی جنگ میں کلہوڑوں کو شکست دے کر قلعے کو فتح کیاتو،میر فتخ علی خان تالپور نے قلعے کے دروازے کے بلکل عین سامنے شاہی رستوں پر ”تالپور بازار“بنوایا تھا پھر کچھ عرصے بعد میران تالپور نے ایک لمبے بازار کا اضافہ کیاجو کہ اب شاہی بازار کے نام سے جانا جاتا ہے۔
شاہی بازار بلکل ایک سیدھی سڑک کی طرح ہے اور اس سڑک کی دونوں طرف دکانیں ہیں۔یہ بازار تقریباً ایک میل لمبا ہے۔شاہی بازار ایک ایسا بازار ہے جہاں ایک ہی جگہ پرہول سیل میں تمام چیزیں با آسانی دستیاب ہوتی ہیں۔اس بازار میں تقریباً ۰۰۵۲ دکانیں ہیں۔بازار میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے حاجی ربڑی والے کی دکان آتی ہے۔یہ دکان تقسیمِ ہند کے و قت سے قائم ہے۔اس کے بعد صرافہ بازار شروع ہوجاتا ہے جہاں سونے کی تجارت ہوتی ہے اس سے تھوڑاآگے چلتے ہیں تو مختلف اشیاء کی دکانیں آجاتی ہیں جہاں پیپر ڈیکوریشن،گھڑیاں،جوتے،چپل،شیشے،کپڑے،بتاشے،سندھی ٹوپی،رومال دھاگے،گرم بسترغرض کہ ضرورت کا ہر سامان ہول سیل میں میسر ہے۔
شاہی بازار میں کچھ مشہور گلیاں ہیں جنکی وجہ سے یہ دوسرے بازاروں سے مختلف ہے۔ شاہی بازار کی بتاشہ گلی بہت مشہور ہے۔یہ گلی ریشم گلی کے سامنے ہے۔اس گلی کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں بتاشے،ریوڑیاں،گجگ اور کھانے کی دیگر اشیاء ملتی ہیں اسی وجہ سے اس گلی کو بتاشہ گلی کہتے ہیں۔ایک مکتی گلی ہے جو کہ فقیر کے پڑ اور سرور قی لین کے درمیان واقع ہے۔اس گلی کا پرانا نام مکھ کی گھٹی تھا۔مگر اب اس کا نام مکتی گلی ہے۔یہ گلی کھلونوں کے کاروبار کے لیے مشہور ہے۔یہاں ہول سیل کے حسا ب سے کھلونے دستیاب ہوتے ہیں اور دوسرے علاقوں کے دکان دار یہاں سے کھلونے خرید کر لے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ایک گلی اڈونی گھٹی کے نام سے مشہور ہے۔ یہ چھوٹی گھٹی سے شروع ہوکر شاہی بازار میں ختم ہوتی ہے اس گلی میں ادوایہ کی دکانیں ہیں۔
معاشرے کی ترقی کی بنیاد اس کے معاشی حالات پر منحصر ہوتی ہے۔بلاشبہ شاہی بازار کا شمار قدیم تر ین بازاروں میں ہوتا ہے،کسی زمانے میں اس کی رونق اورچرچے پورے ہندوستان میں بھی ہوتے تھے۔اسے سندھ کا”معاشی حب“ کہا جاتا ہے۔مگر اب یہاں کے حالات بہت بدل چکے ہیں۔مقامی دکاند اروں کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کے معاشی حالات بہتر ہونے کے بجائے پستی کی طر ف جا رہے ہیں۔چند برس پہلے تک شاہی بازار صبح ۹ بجے کھلا کر تا تھا،سویرے ہی سے لوگ یہاں خریداری کر نے کے لیے آجاتے تھے۔اندرونِ سندھ کے لوگ یہاں سے اپنا مال خر ید کر ٹر انسپورٹ پر بک کر واتے تھے اور یہ سلسلہ دوپہر تک چلتا تھا، دور دراز کے وہ لوگ جن کی اپنے علاقوں میں دکانیں تھیں وہ اپنی دکانوں کے لیے مال لیا کرتے تھے اور دوپہر کے بعد شہری لوگ خر یداری کے لیے آتے تھے اور رات ۹بجے تک یہ سلسلہ جاری رہتا تھا۔اتنا کام ہوتا تھا کہ بیٹھنے کی فر صت نہیں ملتی تھی،مگر اب سارا دن گاہکوں کی راہ تکتے گزر جاتی ہے اور شاہی بازار میں آج بھی دوسرے علاقوں کی مارکٹوں کے مقابلے سامان سستا ملتا ہے۔اس بازار میں دکانوں کی قطار در قطاریں ہیں۔ اگر کوئی گھڑی کی دکان ہے تو آمنے سامنے گھڑی والے ہی بیٹھے ہیں۔اگر کپڑے والے ہیں تو انکا بھی یہی حال ہے،غر ض کے قطار در قطار ایک ہی آئیٹم کی کئی کئی دکانیں موجود ہیں۔شہر میں دوسری بہت سی بڑی بڑی ما رکٹیں بن گئی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں نے یہاں آنا کم کر دیا ہے۔ اب صرف غریب طبقہ ہی اس مارکیٹ کا رخ کر تا ہے۔شاہی بازار میں چلناپھرنا بہت مشکل کا م ہے کیونکہ یہ انتہائی طویل بازار ہے۔اس میں کئی گلیاں اور مکانات ہیں،جن میں رہنے والوں کی گزرگاہ یہ ہی بازار ہے۔ان تمام تر وجوہات کی وجہ سے یہاں کے معاشی حالات بہت متاثر ہوئے ہیں۔یہ تمام وجوہا ت مل کر گاہکوں کا رستہ روکتے ہیں،جس کا براہِ راست نقصان دکان داروں کو ہوتا ہے۔
کسی زمانے میں شاہی بازار آئینے کی طرح چمکتا ہوا نظر آتا تھا،باقاعدگی سے جمعدار آیا کر تے تھے اور صفائی ستھرائی ہوتی تھی،مگر آج یہ عالم ہے کہ مٹی تلے دبے بازار کا فرش نظر نہیں آتا ہے۔ہر چند قدم کے فاصلے پر کچرے کا ڈھیر نظر آتا ہے،جس کی وجہ سے دکا ن دار اور گاہک دونوں ہی پریشان نظر آتے ہیں۔یہ تمام وجوہات اس بازار کی رونقوں کو ماند کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں،مقتدر حلقوں کو چاہیے کہ اس کی مرمت کرآئیں تاکہ اس تاریخی اہمیت کے حامل بازار کی رونقیں ماند نہ پڑیں،کیونکہ یہ ہمارے ورثے کا حصہ #Travelogue #BushraNaeem ہے۔
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Media & Communication Studies, University of Sindh
Comments
Post a Comment