Falak Hafsa Travelogue

  فلک حفصہ 

Travelogue-Falak Hafsa-BS-lll-47-Urdu

2k18/MC/47

                                                سفر نامہ

             کلہوڑو خاندان اور ان کے مقبرے

لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد حیدرآباد کے سیر و تفریح کے مداح لوگوں نے کراچی کا رخ لیا اور بہت سے لوگوں نے تو نئی جگہوں پر جانے کا اور کچھ منفرد، انوکھی ا ور تاریخی مقامات پرجانے فیصلہ کیا۔ مجھے خود بھی تاریخی اور ساحلِ سمندر والی جگہوں پر جانے کا خاصہ شوق ہے۔سردی کی وجہ سے ساحل سمندر والی جگہوں پر جانے سے گریز کیا اور کسی تا ریخی مقام کی زیارت کا سفر طے کرنے کی ٹھانی۔ خیر سے توحیدرآباد میں سیر و تفریح کے لحاظ سے مقامات زیادہ نہیں ہیں اور کچھ ہمارے لوگ بھی حیدرآباد میں موجود ایسے مقامات کو نظر انداز کردیتے ہیں جوکہ اپنی بیش بہا خوبصورتی کے ساتھ ساتھ تاریخ کے ا وراق کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئیں ہیں۔حیدرآباد میں بھی کچھ ایسے تاریخی مقامات جیسا کہ پکا قلعہ، شاہی بازار اور ہیرآباد حیدرآباد میں موجود پرانے طرز کی تعمیر عمارتیں جسے دیکھ کر بندہ کاریگروں کی کاریگری دیکھ کر نہال ہو جائے۔جب حیدرآباد کی عمارتیں ہی اپنی تاریخ کے ساتھ ساتھ ثقافت کو بھی بیاں کرتی ہیں تو بانیِ حیدرآباد کا مقبرہ کیسا ہوگا؟ یہی سوچ مجھے بانیِ حیدرآباد میاں غلام شاہ کلہوڑو کے مقبرے پر جانے کے لیے مجبور کرنے لگی۔ اورا یسی سوچ کو حقیقت کا رخ دینے کے لیے میں نے بانیِ حیدرآباد میاں غلام شاہ کلہوڑو کے مقبرے پرجانے کا فیصلہ کیا۔ میاں غلام شاہ کلہوڑو کو بانیِ حیدرآباد کہا جاتا ہے ایسا نہیں کہ حیدرآباد انہوں نے دریافت کیا بلکہ پہلے پہل حیدرآباد کا نام نیرون کوٹ تھا۔بعد میں غلام شاہ کلہوڑو نے اس خطے کو حیدرآباد کا نام دیا اوریہاں ہی وفات پائی اور دسترسِ خاک ہوئے۔

 بانیِ حیدرآباد میاں غلام شاہ کلہوڑو کا مقبرہ صحافی کالونی حیدرآباد کے روش پوش علاقہ میں واقع ہے۔ اور میاں غلام شاہ کلہوڑو کے مقبرے کے کچھ فاصلہ کی دوری پر ان کے بھائی میاں غلام نبی کلہوڑو کا مقبرہ واقع ہے۔ میاں نور محمد کلہوڑو کے بیٹے میاں غلام شاہ کلہوڑو اصل میں شاہ وردی خان کے نام سے جاننے جاتے ہیں۔ یہ ایک خطاب ہے جو میاں غلام شاہ کلہوڑو کو افغان بادشاہ احمد شاہ درانی نے دیا تھا۔ میاں غلام شاہ کلہوڑو سندھ کے بہترین حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔جنہوں نے کلہوڑا خاندان کی وراثت کا نام روشن کیا اور انہوں نے ہی شاہ عبدلطیف بھٹائی کا مزار بھی تعمیرکروانے کا حکم بھی دیا۔

 تو میں نے اپنی سفر کی شروعات اتوار کی صبح کو کی،کیونکہ یہی عموما چھوٹی کا دن ہوتا ہے۔ خیر سے تو لطیف آباد سے حیدرآباد تک کا سفر تقریبا ایک آدھ گھنٹے کا ہوتا ہے مگر اتوار کے دن رش زیادہ ہونے کی وجہ سے مقررہ قت سے زیادہ وقت لگا۔لطیف آباد سے صحافی کالونی تک کے سفر کے دوران میں نے امید شاہ بابا کا مزار دیکھا۔جنہیں لوگ امید بھرے بابا اور کنوئے والے بابا کے نام سے جانتے ہیں کیونکہ امید بھرے بابا کے مزار پر ان کے فیض سے کراماتی کنواں ہے۔جہاں لوگوں کا ماننا ہے کہ اس کنوئے کے پانی سے لوگ شفا یاب ہوتے ہیں۔ اور کچھ فاصلے پر ہل ٹاپ کی چڑھائی سے گزرتے ہوئے غنی بابا کا مزار دیکھا۔پھر گیریزن(چاندنی) کے ہجوم والے بازار سے گزرتے ہوئے ٹاور مارکیٹ(جس کا ایشیا کے بڑے بازاروں میں نا م آتا ہے۔ اور یہا ں بڑے پیمانے پر تجارت ہوتی ہے) اور لیاقت ہسپتال بھی پار کیا۔ ہڈی کے ہسپتال اور پھر میروں کے مقبرے والے راستے سے ہوتے ہوئے صحافت کالونی کی حدود میں داخل ہوئے۔

 میاں غلام شاہ کلہوڑو کے مقبرے میں داخل ہونے سے پہلے جو منفرد بات لگی وہ یہ کہ مقبرے کے بیرونی حصے کو اونچی دیواروں کے احصار سے گھیر رکھا ہوا ہے۔دیکھنے میں یوں لگے جیسے کے چھوٹا سا قلعہ تعمیر کیا ہوا ہے۔قلعہ جیسی دیواروں کی سرحدوں کو عبور کرنے ک بعد داخلی دروازہ آتا ہے۔ اور دروازے کے پار سے میاں غلام شاہ کا مقبرہ اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ نظر آتا ہے۔ گزرنے والے راستے  کے دائیں اور بائیں طرف باغ بنایا گیا ہے۔ باغ کے ایک طرف بورڈ پر مقبرے کے حوالے سے ضروری اور اہم باتیں لکھی گئی ہیں جہاں مقبرے کی زیارت کر نے والے لوگوں کو میاں غلام شاہ کلہوڑو کے مقبرے کی تاریخ میں اور حال میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں معلومات حاصل ہو جاتی ہے۔ وسیع خوبصورت میدان کے بیچ وبیچ میں میاں غلام شاہ کلہوڑو کا مقبرہ ہے۔ مقبرے کی بیرونی حصے کو خوبصورت کاریگری سے بنایا گیا ہے۔ جس پر مختلف رنگوں کے ٹائلز پر پھولوں کے نقش و نگار کے کام کو ا نتہائی نفاست و خوبصورتی سے کیا گیا ہے۔جبکہ مقبرے کے اندرونی حصے میں خستہ حالی ہونے کی وجہ سے مرمت کا کام کیا جا رہا ہے۔ جو کہ کرونا کی وباء کی آمد کی وجہ سے رک گیا ہے۔مقبرے کی اندرونی حصے کا تقریبا آدھا کام مکمل ہوگیا ہے۔ جہاں سندھ کی ثقافت کو پیش کرتی کاریگری والی ٹائلز اوراس پر عربی میں لکھی آیتیں مقبرے کی شان میں اضافہ کر رہی ہیں۔ خوبصورت گنبد اور گنبد کے عین نیچے میاں غلام شاہ کلہوڑو کی آرام گاہ تک پہنچی تو سب سے پہلے میں نے فاتحہ پڑھی۔

میاں غلام شاہ کلہوڑو کی آرام گاہ کے دائیں طرف نظر دوڑائی تو وہاں پر بھی ایک اور قبر موجود تھی۔جس کے بارے میں وہاں کے باشندے کا کہنا ہے کہ یہ میاں غلام شاہ کلہوڑوکے خاندان والوں میں سے کسی ایک کی بھی قبرہے۔مگر افسوس کہ قبرپر کوئی نشانی اور پہچان موجود نہیں۔ مقبرے کے باہر کی احاطے کے دائیں طرف بھی کلہوڑو خاندان کے افراد مدفون ہیں اور میاں غلام شاہ کلہوڑو کے مقبرے کے بائیں طرف باباِ سندھ کامریڈ حیدر بخت جتوئی کی قبر ہے اور ساتھ میں انکی زوجہ ممتاز جتوئی کی قبر ہے۔وہاں کے باشندے اللہ بخش کا کہنا ہے کہ حیدر بخت جتوئی نے سندھ کے لوگوں کے لیے خاص کر کے کسان بھائیوں کے لیے بے انتہا کام سر انجام دیے۔ میاں غلام شاہ کلہوڑو کے مقبرے کے ایک طرف قبرستان ہے جو وہاں کے حلقے کے لوگوں کے لیے مخصوص ہے۔میاں غلام شاہ کلہوڑو کا مقبرہ اپنی خوبصورتی کی مثال آپ ہے اور وہاں کا پر سکون ماحول فضاء کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔مقبرے کے بارے میں لوگوں سے بات کرتے ہوئے ہمیں یہ بات بھی پتا چلی کہ میاں غلام شاہ کلہوڑوکے مقبرے کے قریب ہی ان کے بھائی میاں غلام شاہ کلہوڑوکا بھی مقبرہ موجود ہے۔تو ہم نے سوچا کہ اب یہاں تک آگئے ہیں تو کیوں نہ میاں غلام شاہ کلہوڑوکے مقبرے کی بھی زیارت کر لیں۔

 میاں غلام شاہ کلہوڑو کے مقبرے سے دس منٹ کے فاصلہ کی دوری پر ان کے بھائی میاں غلام شاہ کلہوڑو کا مقبرہ واقع ہے۔یہاں پہنچ کر ہم نے اندازہ لگایا کہ میاں غلام نبی کلہوڑو کا مقبرہ جو کہ نقش و نگار میں بالکل میاں غلام شاہ کلہوڑو کے مقبرے کی طرح دیکھتا ہے۔ مگر میاں غلام نبی کلہوڑو کے مقبرے کی بناوٹ میاں غلام شاہ کلہوڑو کے مقبرے کی بناوٹ سے مختلف نظر آتی ہے۔ میاں غلام نبی کلہوڑو کا مقبرہ آٹھ کونوں کی طرزِ تعمیر پر پکی اینٹوں سے اور مختلف رنگیں ٹائلزسے بنا ہوا وہ خوبصورت شاہکار ہے جوکہ اپنی اصلی حالت کھو رہا ہے۔ میاں غلام نبی کلہوڑو کا مقبرہ صحافی کالونی کی آبادی کے درمیان میں واقع ہے۔ جہاں داخلی دروازے سے نظر آتاآٹھ ستونوں والا مقبرہ اپنی خوبصورتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ مقبرے کے راستہ کے دائیں بائیں اطراف باغ ہیں اور مقبرے کا دونوں طرف کلہوڑو خاندان اور ان کے حلقہ و احباب کی قبریں ہیں۔میاں غلام نبی کلہوڑو کی آرام گاہ پر جاکر سب سے پہلے فاتحہ پڑھی مقبرے میں دو مزید قبریں موجود تھیں جن پر بھی کوئی نشانی موجود نہیں اور وہاں کے رکھوالے بھی اس بات سے انجان تھے۔مقبرے کے اندرونی حصے کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں اس بات کا اندازہ ہوا کہ اندرونی حصہ خستہ حال ہے اور اپنی شاہکاری کو وقت کی دھول کی تہ میں چھپا گیاہے۔جبکہ بیرونی حصہ ابھی اپنی بوسیدہ حالت کو چھپائے اپنی شان کو سنبھالے ہوئے کھڑا ہے۔ میاں غلام شاہ کلہوڑو کے مقبرے کی بانسبت میاں غلام نبی کلہوڑو کے مقبرے پر ؎ لوگوں کی آمد و رفت بالکل نظرنہیں آئی۔شاید یہی وجہ ہے کہ میاں غلام نبی کلہوڑو کے مقبرے کی بوسیدہ حالت کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ دونوں مقبروں کی خوبصورتی اور کلہوڑا خاندان کے بارے میں سوچتے ہوئے واپسی کا رخ لیا اور پھر یوں ہم نے اپنے سفر کا اختتام کیا۔

کسی بھی قوم کے لیے ان کی تاریخی ثقافت بہت معنی رکھتی ہے۔مگر کلہوڑا خاندان کے مقبرے تاریخ تو رکھتے ہیں مگر شاید اتنی اہمیت نہیں رکھتے۔ یا پھر بہت سے لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ کلہوڑو خاندان کے مقبرے حیدرآباد میں واقع ہیں۔یہ مقبرے اپنی خوبصورتی اورپرانے طرز کی بناوٹ کی بنیاد پر کسی بھی تاریخ کا ذوق رکھنے والے لوگوں کو بے اختیار دیکھنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ یہ تاریخی مقامات اپنی خوبصورتی کی باوجود بھی سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔مقبروں پر محسوس کی جانے والی خاموشی اس بات کا احساس دلارہی ہے کہ یہاں سیاح تو دور مقامی لوگ بھی اس طرف کا رخ کم ہی کرتے ہیں۔روش پوش آبادی کے بیچ وبیچ میں واقع ہونے کہ باوجود یہ مقبرے پرسکون ماحول کا احساس پیش کرتے ہیں۔ میں نے خود جا کر وہاں کی پرسکون فضاء کو محسوس کیا ہے۔ اگر حکومتِ سندھ ان مقامات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے تو بانیِ سندھ میاں غلام شاہ کلہوڑو اور میاں غلام نبی کلہوڑو کے مقبرے ثقافت اور تاریخ کے مداح لوگوں کی زیارت کے لیے بہترین مقامات ثابت ہوسکتے ہیں۔

 Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi 

Media & Communication Studies, University of Sindh


Comments

Popular posts from this blog

Season Of Silence Bushra Fatima چُپ کا موسم

Traffic Congestion in Main Qasimabad Komal Qureshi

Waseem Akram Viral memes- Eng