Hyderabad to Thatta Jawaria Zia Travelogue
Revised
Hyderabad to Thatta Jawaria Zia Travelogue
Jawaria Zia BS-3-2K18/MC/71-Urdu
سفرنامہ:
ٖٖٖٖحیدرآبادسے ٹھٹھہ تک کا دلچسپ سفر
سفرانسان کونت نئی جگہوں سے روشناس کرواتاہے۔ویسے تومیں نے بہت سے مقامات کی سیرکی ہے لیکن ٹھٹھہ کی ایک مغلیہ دورکی تاریکی مسجداور کئی مزارات کی زیارتیں قابلِ ذکرہے۔پلان تومیراکئی مہینوں سے بن رہاتھالیکن مصروفیات میں پتاہی نہیں چلاغرض سال 2019ختم ہوگیا۔لیکن میری ٹھٹھہ جانے کی جستجوکم نہ ہوئی۔اسی کوپوراکرنے ستمبرکی ایک خوبصورت صبح میں نے اپنی فیملی کے ساتھ ٹھٹھہ کے مزارات اورشاہ جہان مسجدکی زیارت کرنے کی جانب اپنے سفرکاآغازکیا۔راستوں میں بڑی بڑی پہاڑیوں کاسلسلہ نظرآنے لگاجسے دیکھا کرایسالگ رہاتھاکہ یہ چوٹیاں آسمانوں کوچھورہی ہیں۔سفرکاآغازاچھاتھا۔حیدرآبادسے تین گھنٹے کی مسافت کے بعدمکلی کے قدیم قبرستان کے قریب سے گزرے۔ہمیں منزل پرپہنچ کرایک عجیب خوشی تھی کہ ایک جستجوجوکچھ مہینوں پہلے شروع ہوئی آخرکارہم نے اسے پوراکرلیا۔جب ہم اس شہرمیں پہنچے تویہ شہر ہمارے لیے ایک انجان جگہ جیسی تھی اورسونے پرسوہگہ کہ ڈرائیورکوبھی راستوں کاعلم نہیں تھا۔اس سفرنامے میں میں آپکواس مقام کی تاریکی حیثیت بتاؤں گی۔
ٹھٹھہ سندھ کاتاریکی شہرہے۔جسے جام نظام الدین اورجام نندونے بسایاتھا۔جب سندھ پرمغلوں کاقبضہ ہواتواس شہر کی رونق کوچارچاندلگ گئے۔اس زمانے میں ٹھٹھہ کاسنہری دورکہاجاسکتاہے۔اس وقت اسکی آبادی ایک لاکھ سے بھی زیادہ کی تھی لیکن ٹھٹھہ شہرکے اندرتقریبا10کلومیڑایک لمباچوڑاقبرستان اسکی قدیم مُیست اورشان وشوکت کا پتادیتاہے۔مکلی کایہ قدیم قبرستان جوکہ چھ اشعاریہ پانچ کلومیڑتک پھیلاہواہے۔یہ دنیاکے وسیع ترین قبرستانوں میں سے ایک ہے مکلی۔اوریہاں پرعام لوگوں کے علاوہ مغل دورکے شاہی لوگ،صوفی بزرگان اورعالموں کی قبریں اورمقبرے ہیں۔اس جگہ پرزیادہ ترمقبرے مغل دورمیں بنائے گئے تھے۔اس قبرستان کی کئی قبروں پرخوبصورت عربی خطاطی ہیں اوردلکش نقش تراشے گئے ہیں۔جواس وقت کی ثقافت کاحال بیان کرتی ہیں۔کچھ مقبرے اورقبریں جائین درہم کے مندروں سے متاثرہوکرتراشے گئے تھے۔جیسے جیسے وقت آگے بڑھتاگیا۔قبریں صرف اینٹوں کی ہوکررہ گئی اوران پرلگی تختیاں اب شایدان پرنام بھی نہیں۔۱۸۹۱ ء میں یونیسکونے اسے(عالمی ثقافتی ورثہ)کے طورپربھی تحریرکیا۔ہمارے اس سفرمیں توابھی سندھ کی روحانیت کاآغازہواہے آگے عشقِ صوفی قلندرآناباقی ہے۔جونہی ہم آگے بڑے تو مزارکی زیارت کے لیے روکے جس کانام درگاہ شریف حضرت فقیرعبداللہ مسن تھا۔اس درگاہ شریف کے اطراف میں ایک خوبصورت ساباغیچابناہواتھا۔اس درگاہ کے اندرایک اورقبربھی موجودتھی۔جسکانام سا ئیں صوفی فقیرعلی احمد مسن سرکار کے پہلومیں ہی سائیں صوفی فقیرعبداللہ مسن سرکارکی قبرموجودتھی۔پھرہم نے فاتحہ پڑھی اورزیارت کرتے ہوئے وہاں کے رکھوالے سے کچھ معلومات پوچھی۔جب ہم زیارت کر کے باہرکی جانب بڑھے تو ہم نے سوچاکہ اس رکھوالے سے مددلے کرہم اورمزارات کی زیارتیں کرلیں۔کیونکہ یہ شہرہمارے لیے بلکل انجان تھا۔پھرہم نے وہاں کے رکھوالے کوکچھ پیسے دیے اوراسے کہاکہ ہمارے ساتھ چلے اورمزارات کی زیارت کروانے کے لیے۔جیسے ہی پھرسفرشروع ہوادوسرے مزارپرجانے کے لیے تواس رکھوالے کے پیچھے پیچھے ہم نے اپنی گاڑی کورکھتے ہوئے پیچھے چلناشروع کردیاوہ رکھوالاجوہمیں راستہ بتارہاتھااس پربھی یقین کرنامشکل ہورہاتھاکیونکہ جن راستوں سے وہ لے کرجارہاتھا۔وہ راستہ پتھریلااورتنگ ہونے کے ساتھ ساتھ ویران بھی تھا۔جیسے جیسے وہ رکھوالاآگے بڑھتاجارہاتھاویسے ہی ہمارے دلوں میں عجیب طرح کے خیال آتے جارہے تھے اورپھرڈرائیورکی باتیں سُن کراوربھی خوف طاری ہونے لگ گیاتھاکیونکہ ڈرائیوربھی ان راستوں سے خود انجان تھا۔جب تک کوئی مزارنہیں آیاتب تک دل ڈراہواتھاوہ راستے جن پرموٹرسائیکل کاچلنامشکل ہورہاتھاکیونکہ یہ جگہ کّچی تھی اورراستے اونچے نیچے تھے۔وہاں پرگاڑی کاچلنابھی مشکل ہورہاتھا۔جیسے تیسے کرکے آخردودرگاہ شریف کاگنبدنظرآیا۔جب ہمیں تھوڑی تسلی ہوئی پھرہم نے ان درگاہ کی زیارت کی اورفاتح پڑھ کرباہرآگئے۔جیسے ہی ہم نے ساتھ والے درگاہ کی طرف قدم بڑھائے تووہاں کے رکھوالے نے ہمیں جانے سے روک دیااورکہاکہ یہاں جاناآپ کے لیے مناسب نہیں ہے۔کیونکہ وہاں سے عجیب وغریب طرح کی آوازیں آرہی تھیں۔پوچھنے پرپتاچلاکہ کسی شخص پرحاضری آئی ہوئی ہے اور پھرہم واپس گاڑی میں بیٹھے اوراپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔جیسے ہی ان راستوں سے دوبارہ گزرہواتودل میں پھرخوف طاری ہوگیاکہ کئی ہمارے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہ آجائے۔وہ خوفناک راستے جوکبھی نہیں دیکھے وہاں سے ہماراگزرہوا۔اسکے بعدہم نے اس شہرکی دوسری چیزجس سے اس شہرکی گزشتہ عظمت کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔وہ اس کی تاریخی مسجدشاہ جہان مسجدہے۔جسے سوگنبدوں والی مسجدسے بھی جاناجاتاہے۔جیسے ہی ہم اس مسجدمیں داخل ہوئے توسامنے ایک خوبصورت سافوارہ اوراس کے چاروں اطراف میں لمبے اورگھنے درخت جسکی شاخیں نیچیں کی طرف جھکی ہوئی تھی۔جسے دیکھ کرہمیں ایسامحسوس ہواکہ جیسے ہم نے پرُفضاماحول میں سکون کاسانس لیا۔جب ہم اندرپہنچے تووہ مسجدبند تھی۔وہاں کے مقامی لوگوں سے پوچھنے پرپتاچلاکہ یہ ظہرکی نمازمیں کھلے گی۔پھرہم نے اس مسجدکے خوبصورت باغیچے میں کچھ تصاویرلی اورکچھ وقت مسجدکے باہرگزارا۔جیسے ہی مسجدکھلی تو ہم نے وضوکیا۔وضوکرتے ہوئے سورج کی شعائیں ہمارے چہرے پرپڑھ رہی تھی اورمسجدکافرش اتناگرم تھاکہ پاؤں رکھنامشکل ہورہاتھا۔وضوکرنے کے بعدہم نے نمازاداکی۔مسجد کی خاص چیزبرانڈوکے وہ گنبد ہیں۔جن میں سے گونجتی ہوئی مر کزی جائے نماز کی قِرت کی آوازمحراب سے بہت فاصلے پرواقع مشرقی دروازے تک پہنچتی ہے اورصاف سنائی دیتی ہے اورپھراس تاریکی مسجدکانظاراکرتے ہوئے کافی چیزوں کے بارے میں دیکھ کرمزیداورمعلومات ملی۔جونہی ہم اس مسجدکے صحن میں پہنچے تواس مسجدکے مرکزی گنبدکے اندرکامنظرستاروں سے بھرے آسمان جیسے لگ رہاتھااوراس خوبصورت نظارے کوہم نے کیمرے میں قیدکرلیا۔دیواروں پرخوبصورت خطاطی کودیکھ کرایمان تازہ ہوگیا۔مسجدمیں اینٹوں سے بنائے ستون اوردیواروں کوعلمِ ہنساء کابھرپوراستعمال کرتے ہوئے ایسے منفرداندازسے ڈزائین کیاگیاہے کہ دیکھ کرمیری آنکھیں دنگ رہ گئی۔اس مسجدکی صوتیائی بھی کمال کی ہے۔مزے کی بات تویہ ہے کہ اس مسجدمیں مِنارایک بھی نہیں لیکن گنبدکی تعدادسو ہے۔جوکہ پاکستان کی کسی بھی مسجدمیں نہیں ہے۔
شاہ جہان مسجد۷۱ ویں صدی میں شاہ جہان نے ٹھٹھہ کے رہائیشوں کی مہمان نوازی سے خوش ہوکرانکے تحفے میں بنواکردی تھی۔ٹھٹھہ (۶۱)ویں اور(۷۱)ویں صدی میں سندھ کادارالخلافہ اوراسلامی ثقافت کامرکزرہ چکاہے۔اس مسجدکی تعمیر۴۴۶۱ء سے۷۴۶۱ء تک ہوئی اوراس کامشرقی حصہ۹۵۶۱ء میں اورنگزیب نے مکمل کروایا۔اس مسجدکے ڈزائین ایرانی مسجدوں اورمزارات کی کاریگری سے متاثرہوکربنایاگیاہے۔نیلے اورہلکے فیروزی رنگ کے ٹائلوں کاجنوبی ایشیاء کاسب سے منفرداورخوبصورت کام ہے۔جوکہ لگتاہے براہِ راست(طیمورِت دور)کی عمارتوں سے متاثرہوکربھی کیاگیاہے۔ٹھٹھہ شہر سے نکلتے ہوئے راستے میں ہمیں ایک پہاڑکی بلندی پرمزارنظرآیاجوایک جوڑے کاتھا یعنی میاں بیوی کا۔پھرہم نے گاڑی کھڑی کی۔جواُوپرجانے کے لیے پہاڑکاٹ کررستہ بنایاگیاہے۔حیرت کنُ بات تویہ کہ ہواکادباؤاتناتھاکہ ہمارا قدم اُٹھانامشکل ہورہاتھا۔ اسکے ذریعے ہم اُوپرمزارتک پہنچے۔مزارکے اطراف ساراپہاڑی علاقہ تھااورپھرہم نے مزارکی زیارت کی اورکچھ تصاویراورویڈیوزکواپنے کیمرے میں قیدکرلیا۔
پھرہم نے اس مزارکے بعدکینجھر جھیل کی طرف کارُخ کیا۔جوکہ شہرٹھٹھہ کے اندر۵۳کلومیٹرکے فاصلے کی دوری پریہ خوبصورت جھیل واقع ہے۔اس خوبصورت جھیل پرپہنچ کرہم نے بورڈنگ کی اوراس سے خوب لُطف اندوز ہوئے۔کینجھرجھیل پرکئی نئی سہولیات بنادی گئی ہیں۔جس میں ریسٹورینٹ اورگیسٹ ہاؤسس ہیں۔اب ہرکوئی یہاں پررات کورُک بھی سکتاہے۔۔پھرہم اس جھیل کی دوسری طرف گئے۔جہاں پرنوری جام تماچی کامقبراموجودہے۔یہ مقبرااس جھیل کے بلکل درمیان میں ہے۔ہم نے اس مقبرے کوبس دورسے دیکھا۔بہت سے لوگوں نے کشتی میں سوارہوکراس مقبرے کی زیارت کی۔شام کے اس پہرمیں ڈھلتے سورج کامنظرالگ ہی پیش کررہاتھا۔کچھ لوگ جوگھومنے آئے تھے وہ میوزک پررقص کررہے تھے۔اورلُطف اندوزہورہے تھے۔موج مستی اورہلہ گلہ کررہے تھے۔پھر ہم نے یہاں سے نکلنے کے بعدراستے میں ایک ڈھابے پر رُک کرہم سب نے کھانا کھایااور وہاں پر کچھ تصاویر بنائی اورخوب مزہ کیااورہمارے اس یادگارسفرکااختتام اس ڈھابے پر ہوا۔
Jawaria Zia BS-3-2K18/MC/71-Urdu
اپنی میڈیم میں بھی اپنا نام لکھیں۔
فائل کا نام ابھی بھی غلط ہے۔ ”سفر نامہ“ فائل نیم صحیح نہیں۔ اگر بی ایس اور ایم اے کے سب طلباء اپنا یہ اسائنمنٹ اس فائل نام کے ساتھ بھیجییں تو اسے کیسے پہچانا جائے گا؟ آئندہ اس طرح بھیجا گیا اسائنمنٹ مسترد سمجھا جائے گا۔ کیونکہ گزشتہ سیمسٹر سے یہ بات مسلسل کہی جارہی ہے۔
فائل بھیجنے سے پہلے چیک کرلیں کی صحیح فائل جارہی ہے یا نہیں؟ غلط فائل کی صورت میں آئندہ جواب نہیں دیا جائے گا۔ نوٹ کرلیں کہ اس طرح کی غلطیوں کی وجہ سے کبھی آپ کا اسائنمنٹ شمار نہیں بھی ہو سکتا۔
فوٹوز کے کیپشن ضروری ہیں۔ کیا ہے کونسی لوکیشن ہے؟ اگر کیپشن دلچسپ بنا سکو تو اور بھی اچھا ہے۔
Zia is proper noun, its first character should be with cap. it leave bad impression that u can not correctly write ur name
Jawaria zia
BS-3-2K18/MC/71
سفرنامہ: جویرا ضیاء
ٖٖٖٖحیدرآبادسے ٹھٹھہ تک کا دلچسپ سفر
سفرانسان کونت نئی جگہوں سے روشناس کرواتاہے۔ویسے تومیں نے بہت سے مقامات کی سیرکی ہے لیکن ٹھٹھہ کی ایک مغلیہ دورکی تاریکی مسجداور کئی مزارات کی زیارتیں قابلِ ذکرہے۔پلان تومیراکئی مہینوں سے بن رہاتھالیکن مصروفیات میں پتاہی نہیں چلاغرض سال 2019ختم ہوگیا۔لیکن میری ٹھٹھہ جانے کی جستجوکم نہ ہوئی۔اسی کوپوراکرنے ستمبرکی ایک خوبصورت صبح میں نے اپنی فیملی کے ساتھ ٹھٹھہ کے مزارات اورشاہ جہان مسجدکی زیارت کرنے کی جانب اپنے سفرکاآغازکیا۔راستوں میں بڑی بڑی پہاڑیوں کاسلسلہ نظرآنے لگاجسے دیکھا کرایسالگ رہاتھاکہ یہ چوٹیاں آسمانوں کوچھورہی ہیں۔سفرکاآغازاچھاتھا۔حیدرآبادسے تین گھنٹے کی مسافت کے بعدمکلی کے قدیم قبرستان کے قریب سے گزرے۔ہمیں منزل پرپہنچ کرایک عجیب خوشی تھی کہ ایک جستجوجوکچھ مہینوں پہلے شروع ہوئی آخرکارہم نے اسے پوراکرلیا۔جب ہم اس شہرمیں پہنچے تویہ شہر ہمارے لیے ایک انجان جگہ جیسی تھی اورسونے پرسوہگہ کہ ڈرائیورکوبھی راستوں کاعلم نہیں
تھا۔اس سفرنامے میں میں آپکواس مقام کی تاریکی حیثیت بتاؤں گی۔
ٹھٹھہ سندھ کاتاریکی شہرہے۔جسے جام نظام الدین اورجام نندونے بسایاتھا۔جب سندھ پرمغلوں کاقبضہ ہواتواس شہر کی رونق کوچارچاندلگ گئے۔اس زمانے میں ٹھٹھہ کاسنہری دورکہاجاسکتاہے۔اس وقت اسکی آبادی ایک لاکھ سے بھی زیادہ کی تھی لیکن ٹھٹھہ شہرکے اندرتقریبا10کلومیڑایک لمباچوڑاقبرستان اسکی قدیم مُیست اورشان وشوکت کا پتادیتاہے۔مکلی کایہ قدیم قبرستان جوکہ چھ اشعاریہ پانچ کلومیڑتک پھیلاہواہے۔یہ دنیاکے وسیع ترین قبرستانوں میں سے ایک ہے مکلی۔اوریہاں پرعام لوگوں کے علاوہ مغل دورکے شاہی لوگ،صوفی بزرگان اورعالموں کی قبریں اورمقبرے ہیں۔اس جگہ پرزیادہ ترمقبرے مغل دورمیں بنائے گئے تھے۔اس قبرستان کی کئی قبروں پرخوبصورت عربی خطاطی ہیں اوردلکش نقش تراشے گئے ہیں۔جواس وقت کی ثقافت کاحال بیان کرتی ہیں۔کچھ مقبرے اورقبریں جائین درہم کے مندروں سے متاثرہوکرتراشے گئے تھے۔جیسے جیسے وقت آگے بڑھتاگیا۔قبریں صرف اینٹوں کی ہوکررہ گئی اوران پرلگی تختیاں اب شایدان پرنام بھی نہیں۔۱۸۹۱ ء میں یونیسکونے اسے(عالمی ثقافتی ورثہ)کے طورپربھی تحریرکیا۔ہمارے اس سفرمیں توابھی سندھ کی روحانیت کاآغازہواہے آگے عشقِ صوفی قلندرآناباقی ہے۔جونہی ہم آگے بڑے تو مزارکی زیارت کے لیے روکے جس کانام درگاہ شریف حضرت فقیرعبداللہ مسن تھا۔اس درگاہ شریف کے اطراف میں ایک خوبصورت ساباغیچابناہواتھا۔اس درگاہ کے اندرایک اورقبربھی موجودتھی۔جسکانام سا ئیں صوفی فقیرعلی احمد مسن سرکار کے پہلومیں ہی سائیں صوفی فقیرعبداللہ مسن سرکارکی قبرموجودتھی۔پھرہم نے فاتحہ پڑھی اورزیارت کرتے ہوئے وہاں کے رکھوالے سے کچھ معلومات پوچھی۔جب ہم زیارت کر کے باہرکی جانب بڑھے تو ہم نے سوچاکہ اس رکھوالے سے مددلے کرہم اورمزارات کی زیارتیں کرلیں۔کیونکہ یہ شہرہمارے لیے بلکل انجان تھا۔پھرہم نے وہاں کے رکھوالے کوکچھ پیسے دیے اوراسے کہاکہ ہمارے ساتھ چلے اورمزارات کی زیارت کروانے کے لیے۔جیسے ہی پھرسفرشروع ہوادوسرے مزارپرجانے کے لیے تواس رکھوالے کے پیچھے پیچھے ہم نے اپنی گاڑی کورکھتے ہوئے پیچھے چلناشروع کردیاوہ رکھوالاجوہمیں راستہ بتارہاتھااس پربھی یقین کرنامشکل ہورہاتھاکیونکہ جن راستوں سے وہ لے کرجارہاتھا۔وہ راستہ پتھریلااورتنگ ہونے کے ساتھ ساتھ ویران بھی تھا۔جیسے جیسے وہ رکھوالاآگے بڑھتاجارہاتھاویسے ہی ہمارے دلوں میں عجیب طرح کے خیال آتے جارہے تھے اورپھرڈرائیورکی باتیں سُن کراوربھی خوف طاری ہونے لگ گیاتھاکیونکہ ڈرائیوربھی ان راستوں سے خود انجان تھا۔جب تک کوئی مزارنہیں آیاتب تک دل ڈراہواتھاوہ راستے جن پرموٹرسائیکل کاچلنامشکل ہورہاتھاکیونکہ یہ جگہ کّچی تھی اورراستے اونچے نیچے تھے۔وہاں پرگاڑی کاچلنابھی مشکل ہورہاتھا۔جیسے تیسے کرکے آخردودرگاہ شریف کاگنبدنظرآیا۔جب ہمیں تھوڑی تسلی ہوئی پھرہم نے ان درگاہ کی زیارت کی اورفاتح پڑھ کرباہرآگئے۔جیسے ہی ہم نے ساتھ والے درگاہ کی طرف قدم بڑھائے تووہاں کے رکھوالے نے ہمیں جانے سے روک دیااورکہاکہ یہاں جاناآپ کے لیے مناسب نہیں ہے۔کیونکہ وہاں سے عجیب وغریب طرح کی آوازیں آرہی تھیں۔پوچھنے پرپتاچلاکہ کسی شخص پرحاضری آئی ہوئی ہے اور پھرہم واپس گاڑی میں بیٹھے اوراپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔جیسے ہی ان راستوں سے دوبارہ گزرہواتودل میں پھرخوف طاری ہوگیاکہ کئی ہمارے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہ آجائے۔وہ خوفناک راستے جوکبھی نہیں دیکھے وہاں سے ہماراگزرہوا۔اسکے بعدہم نے اس شہرکی دوسری چیزجس سے اس شہرکی گزشتہ عظمت کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔وہ اس کی تاریخی مسجدشاہ جہان مسجدہے۔جسے سوگنبدوں والی مسجدسے بھی جاناجاتاہے۔جیسے ہی ہم اس مسجدمیں داخل ہوئے توسامنے ایک خوبصورت سافوارہ اوراس کے چاروں اطراف میں لمبے اورگھنے درخت جسکی شاخیں نیچیں کی طرف جھکی ہوئی تھی۔جسے دیکھ کرہمیں ایسامحسوس ہواکہ جیسے ہم نے پرُفضاماحول میں سکون کاسانس لیا۔جب ہم اندرپہنچے تووہ مسجدبند تھی۔وہاں کے مقامی لوگوں سے پوچھنے پرپتاچلاکہ یہ ظہرکی نمازمیں کھلے گی۔پھرہم نے اس مسجدکے خوبصورت باغیچے میں کچھ تصاویرلی اورکچھ وقت مسجدکے باہرگزارا۔جیسے ہی مسجدکھلی تو ہم نے وضوکیا۔وضوکرتے ہوئے سورج کی شعائیں ہمارے چہرے پرپڑھ رہی تھی اورمسجدکافرش اتناگرم تھاکہ پاؤں رکھنامشکل ہورہاتھا۔وضوکرنے کے بعدہم نے نمازاداکی۔مسجد کی خاص چیزبرانڈوکے وہ گنبد ہیں۔جن میں سے گونجتی ہوئی مر کزی جائے نماز کی قِرت کی آوازمحراب سے بہت فاصلے پرواقع مشرقی دروازے تک پہنچتی ہے اورصاف سنائی دیتی ہے اورپھراس تاریکی مسجدکانظاراکرتے ہوئے کافی چیزوں کے بارے میں دیکھ کرمزیداورمعلومات ملی۔جونہی ہم اس مسجدکے صحن میں پہنچے تواس مسجدکے مرکزی گنبدکے اندرکامنظرستاروں سے بھرے آسمان جیسے لگ رہاتھااوراس خوبصورت نظارے کوہم نے کیمرے میں قیدکرلیا۔دیواروں پرخوبصورت خطاطی کودیکھ کرایمان تازہ ہوگیا۔مسجدمیں اینٹوں سے بنائے ستون اوردیواروں کوعلمِ ہنساء کابھرپوراستعمال کرتے ہوئے ایسے منفرداندازسے ڈزائین کیاگیاہے کہ دیکھ کرمیری آنکھیں دنگ رہ گئی۔اس مسجدکی صوتیائی بھی کمال کی ہے۔مزے کی بات تویہ ہے کہ اس مسجدمیں مِنارایک بھی نہیں لیکن گنبدکی تعدادسو ہے۔جوکہ پاکستان کی کسی بھی مسجدمیں نہیں ہے۔
شاہ جہان مسجد۷۱ ویں صدی میں شاہ جہان نے ٹھٹھہ کے رہائیشوں کی مہمان نوازی سے خوش ہوکرانکے تحفے میں بنواکردی تھی۔ٹھٹھہ (۶۱)ویں اور(۷۱)ویں صدی میں سندھ کادارالخلافہ اوراسلامی ثقافت کامرکزرہ چکاہے۔اس مسجدکی تعمیر۴۴۶۱ء سے۷۴۶۱ء تک ہوئی اوراس کامشرقی حصہ۹۵۶۱ء میں اورنگزیب نے مکمل کروایا۔اس مسجدکے ڈزائین ایرانی مسجدوں اورمزارات کی کاریگری سے متاثرہوکربنایاگیاہے۔نیلے اورہلکے فیروزی رنگ کے ٹائلوں کاجنوبی ایشیاء کاسب سے منفرداورخوبصورت کام ہے۔جوکہ لگتاہے براہِ راست(طیمورِت دور)کی عمارتوں سے متاثرہوکربھی کیاگیاہے۔ٹھٹھہ شہر سے نکلتے ہوئے راستے میں ہمیں ایک پہاڑکی بلندی پرمزارنظرآیاجوایک جوڑے کاتھا یعنی میاں بیوی کا۔پھرہم نے گاڑی کھڑی کی۔جواُوپرجانے کے لیے پہاڑکاٹ کررستہ بنایاگیاہے۔اسکے ذریعے ہم اُوپرمزارتک پہنچے۔اور مزار کے اطراف ساراپہاڑی علاقہ تھا۔
پھرہم نے اس مسجدکے بعدکینجھر جھیل کی طرف کارُخ کیا۔جوکہ شہرٹھٹھہ کے اندر۵۳کلومیٹرکے فاصلے کی دوری پریہ خوبصورت جھیل واقع ہے۔اس خوبصورت جھیل پرپہنچ کرہم نے بورڈنگ کی اوراس سے خوب لُطف اندوز ہوئے۔کینجھرجھیل پرکئی نئی سہولیات بنادی گئی ہیں۔جس میں ریسٹورینٹ اورگیسٹ ہاؤسس ہیں۔اب ہرکوئی یہاں پررات کورُک بھی سکتاہے۔۔پھرہم اس جھیل کی دوسری طرف گئے۔جہاں پرنوری جام تماچی کامقبراموجودہے۔یہ مقبرااس جھیل کے بلکل درمیان میں ہے۔ہم نے اس مقبرے کوبس دورسے دیکھا۔بہت سے لوگوں نے کشتی میں سوارہوکراس مقبرے کی زیارت کی۔شام کے اس پہرمیں ڈھلتے سورج کامنظرالگ ہی پیش کررہاتھا۔کچھ لوگ جوگھومنے آئے تھے وہ میوزک پررقص کررہے تھے۔اورلُطف اندوزہورہے تھے۔موج مستی اورہلہ گلہ کررہے تھے۔پھر ہم نے یہاں سے نکلنے کے بعدراستے میں ایک ڈھابے پر رُک کرہم سب نے کھانا کھایااور وہاں پر کچھ تصاویر بنائی اورخوب مزہ کیااورہمارے اس یادگارسفرکااختتام اس ڈھابے پر ہوا۔
Jawaria zia
BS-3-2K18/MC/71
Hyderabad to Thatta Jawaria Zia Travelogue
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Media & Communication Studies, University of Sindh

Comments
Post a Comment