Muhammad Awais Muneer Travelogue
To be checked. Less than 600 words, while 1000 to 2000 words are required
Muhammad Awais Muneer Travelogue
تحریر محمد اویس منیر
کلاس بی ایس پارٹ تھری
رول نمبر 89
سفر نامہ
زندگی کا پہلایاد گارسفر
میرا یہ سفر چھ دن پانچ رات کا تھا،میں پہلی بار جہاز میں سفر کرنے والا ہوں میں بہت ہی خوش تھا،میرا یہ سفرکراچی سے اسلام آباد کاہے،اس سفر پر جا نے کے لیے ہمارا گروپ ایئرپورٹ پر جمع ہوا کیونکہ ہماری فلائیٹ کا ٹائم دن ۲:۰۰بجے کا تھا، ایئرپورٹ پر میرے سارے دوست وقت پر ہی پہنچ گے تھے۔ جہاز کی ٹکٹ ہم سب نے کچھ دن پہلے ہی بک کر والی تھی ائیر پورٹ پر پہنچ کر ہم سب نے بس بوڈائنگ پاس لیااور پھر چیکنگ کرونے کے بعد ہم سب ویئٹنگ ہال میں جا کر انتظار کرنے لگے۔فلائیٹ آڑنے سے آدھا گھنٹہ پہلے ہمیں جہاز میں بیٹھایاہماری روانگی کراچی جناح ایئر پورٹ سے اسلام آبا د ائیرپورٹ کی تھی۔ہمیں جہاز میں کراچی سے اسلام آباد ۴۶:۱ منٹ لگے،اسلام آبا د ائیرپورٹ پر پہنچنے کے بعد ہم نے اپنا سامان ائیر پورٹ سے حاصل کیا اور ائیر پورٹ سے باہر نکلے اور ٹیکسی بک کروائی اور بلیو ایرااسلام آبا د ہوٹل عثمانیہ کے لیے روانہ ہوگے،ہوٹل عثمانیہ پونچھے دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد فیصل مسجد گھومنے گے۔فیصل مسجد گھومنے کے بعد ہم سب وہاں سے بالاکوٹ کی طرف روانہ ہوئے اور رات ہم نے بالا کوٹ کے مشہور ہوٹل ڈی منچی ہوٹل میں اسیٹے کیا رات کا کھانا کھانے کے بعد پھر ہم سب نے مل کر گپ شپ لگائی اور پھر ایک بجے جا کر سوگئے۔پھر اگلی صبح اسی ہوٹل میں ناشتہ کرنے کے بعد ہم سب ناران کے لیے روانہ ہوگے ناران جاتے ہوئے ہم نے راستے میں ایک جگہ چائے بھی پئی ناران پہنچنے کے بعد دوپہر کا کھانا کھایا او ر کچھ دیر بعد ناران سٹی گھومنے چلے گے ناران سٹی سے ناران کی مشہور شال اور ٹوپیاں خریدی واپسی ہم ناران ڈی منچی ہوٹل ا کر رات کا کھانا کھایا۔تیسرے دن کی صبح لوکل جیپ کرایے جھیل سیفل الملوک گھومنے گے اور میں ہم نے جھیل میں کشتی کی سواری بھی کی اور جھیل کے کنارے گھوڑا سواری بھی کی سیفل الملوک جھیل پر سارا دن ایسے گزرا کے وقت کا پتا ہی نہیں چلا اور رات ہوگئی اور رات کو ہم سب گروپ والے ہوٹل واپس آگے اور رات کا کھانا کھایا رات کے کھانے میں وہاں کی مشہور مچلی تھی اورپھر کھانے کے بعدہم سونے چلائے گے۔پھر اگلے دن کی صبح ہم سب پوانٹ بابو سر ٹیپ گھومنے گے اور وہاں ہلکی ہلکی برف باری بھی ہورہی تھی ہمیں بہت مزہ بھی آرہاں تھا اور ہلکی ہلکی سردی بھی ہورہی تھی۔کچھ دیر وہاں گھومنے کے بعد ہم سب بالاکوٹ کے لیے روانہ ہوگے،بالاکوٹ ہوٹل پہنچنے رات ڈی منچی ہوٹل میں گزاری۔پانچوں دن کی صبح ہم سب ناشتہ کر کے کو مری کی طرف روانہ ہوگے کو مری کے مشہور ہوٹل مووین پک ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھایااور کو مری میں پنڈی پوائنٹ میں گے وہاں پنڈی پوائنٹ میں چیئرلفٹ میں بیٹھے پھر وہاں گھوڑا سواری بھی کی اور پھر وہاں سے کومری میں پوائنٹ مال روڈپر گھومنے گے وہاں سے جیکٹ وغیرہ خریدی اور بھی بہت شاپینگ وغیرہ کی پھر واپس ہوٹل چلے گے اور اگلی صبح ہوٹل سے ناشتہ کرنے کے بعد ہم سب ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوگے کیوکہ ہماری فلئٹ ۰۰:۱ بجے دن کی تھی،ہماری واپسی اسلام آباد سے کراچی کی تھی ہم اسلام آباد سے کراچی ۲ گھنٹوں میں پہنچے،ایئرپورٹ پر پہنچے کے بعد سب نے اپنا اپنا سامان جمع کیا اور پھر سب دوستوں سے ملنے کے بعد ہر کوئی اپنی اپنی منزل کو روانہ ہوگیا۔
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Media & Communication Studies, University of Sindh
Comments
Post a Comment