Sonia Shaikh Travelogue
1015 words سونیہ شیخ 2K18/MC/144
اگہم کوٹ کی خاموش تاریخ
پاکستان بہت ہی تاریخی مقامات، خوبصورت وادیاں، وسیع سحرہ کے سوا مذہبی سورماؤں کی زیارات سے بھی نوازہ ہوا ہے۔ خوصوصاً صوبائے سندھ کو اولیا واوصیاء کی سر زمین کہا جاتا ہے، کیونکہ یہاں بہت سے زیارات کے مقامات مختلف شہروں میں موجود ہیں۔ جہاں ہزاروں کی تعداد میں عقیدتمند آتے ہیں اور کچھ ایسے پاک مقامات بھی ہیں جن کا لوگوں کو اتنا علم تک نہیں۔
پھر میں نے بھی ایک ایسے ہی تاریخی غم نام جگہ کی زیارت کرنے کا مقصد اس کی معلومات لوگوں تک پہنچانے کے لیے کیا۔ حیدرآباد سے تقریباً 49 کلو میٹر دور اگہم کوٹ نامی ایک جگہ ہے،جہاں تاریخی قبرستان واقع ہے۔ہم نے وہاں جانے کا راستہ ٹنڈوقیصر سے لیا جو شیخ بھرکیو کی طرف جاتا ہے، جسے ہم نے فور ویلز پر ڈھائی گھنٹوں میں طے کیا، یہ راستہ گھنے درختوں سے بھرا تھا جہاں جگہ جگہ فصلیں اور بڑے بڑے باغات تھے۔
اگہم کوٹ کو پہلے اگہا ماٹو کہا جاتا تھا، اگہم کوٹ راجہ اگہم لوہانہ کے نام سے منسوب ہے اور اب گلاب لغاری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اگہم کوٹ پہنچتے ہی میری نظر ایک کھنڈر پر پڑی، جس کی دیواروں کا ایک کونا بلند تھا باقی پوری عمارت زمین میں پست تھی۔ یہ کھنڈر درحقیقت محل کا داخلی دروازہ تھا، جو کئی سو سال پہلے حکمرانوں نے بنوایاتھا۔ اس دو سو ایکڑ پھیلی زمین پر صرف تاریخ کے آثار موجود ہیں، جن میں کھنڈرات،قلعے اور سادات کے مدفن موجود ہیں۔اس داخلی دروازے کے بعدقبرستان شروع ہوتاہے۔ تھوڑا آگے چلتے ہی کچھ مقبرے دیکھے جو وہاں کے بزرگان دین کے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ زمین مخدوم محمد اسماعیل نے خرید کی تھی، جن کا مقبرہ یہاں موجود ہے اور ان کے ہی نام سے ایک مسجد بھی بنی ہوئی ہے۔ ان کا مقبرہ بہت قدیم اور خوبصورت ہے۔ مخدوم محمد اسماعیل کے مقبرے کے پیچھے بھی ایک ا لگ قبرستان تھا، جہاں متولیوں کے مزار اور کچھ شہیدوں کی قبور ہیں۔وقت مغرب وہ جگہ بہت حسین منظر پیش کر رہی تھی، ہر طرف خاموشی اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔
در حقیقت مخدوم محمد اسماعیل ایک متولی ہیں، یہی وہ شخصیت ہیں جن کی وجہ سے یہ جگہ آج موجود ہے۔انہوں نے مدینے والی بیبیوں کی مزار تعمیر کی اور اس ہی مقصد سے یہ زمین سات لوگوں سے خرید کی۔ مخدوم محمد اسماعیل کے برابر میں مدینے والی بیبیوں کا حرم ہے۔یہ حرم باقی تمام زیارات سے الگ تھا، جہاں نہ کوئی جھومر تھا نہ بڑے بڑے ستون پر کھڑی عمارت تھی،یہ صرف ایک کمرے جتنا حرم تھا۔کہتے ہیں کہ بی بی کی لحد کے دونوں طرف موجود تعزیے ان کی کنیزوں کے ہیں اور ہجرے سے باہر چار تربتیں ان کے غلاموں کی ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا یہی ماننا ہے کہ اندر مدفوں بیبیاں سندھ کی نہیں بلکہ مدینے سے تعلق رکھنے والی پاک ہیستاں ہیں۔
اگر تاریخ پر ایک بار نظر ڈالیں، تو یہ بات بلکل صحیح ہے کہ سادات نے اپنا وطن چھوڑ کر جگہ جگہ نکل مکانی کی تھی۔ کچھ نے سندھ کا رخ کیاکیونکہ یہاں کے لوگ صلح پسند اور پناہ دینے والے تھے۔ لوگوں کا یہی ماننا ہے کہ یہ بی بی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی صحابزادی اور امام علی رضاعلیہ السلام کی ہمشیرہ ہیں۔ اس بات کی مستند دلیل تختہء تربت ہے۔ جس پر صاف فارسی زبان میں بی بی کا نام، ولدیت،وقت وفات اور دن تحریر ہے۔ کچھ مستند علمائے دین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بی بی کا نام خدیجہ بنت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہے اور ماہم ان کا لقب ہے۔ آپ سلامللہ علیہا اس سرزمین پر ماہم کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔
بی بی کے حرم کے بائیں جانب زمین، قلعے کے کھنڈرات سے بھری ہے اور یہیں پر ایک سیاہ زمین کا ٹکڑا ہے، جو باقی کی زمین سے جدا ہے۔ اس سیاہ زمین کے متعلق دو روایات ہیں۔ پہلی روایت کے مطابق ایک غیر ملکی لشکر نے اس جگہ آکر حملہ کیا، جس کے سپہ ء سالار نے اگہم کوٹ سے لے کر ٹھٹھ تک تاراجی کی۔ لشکر نے جب اس جگہ حملہ کیا تو گولہ بازی کر کہ پناہ پذیر لوگوں کو نشانہ بنایا۔ لوگوں کا قتل عام ہوا کچھ لوگوں کو گھروں میں جلایا گیا تو کچھ کو گھوڑوں کی تاپوں تلے کچل دیاگیا۔ ایسے ہی سادات نے جام شہادت نوش کیا۔ کہتے ہیں کہ جب یہ لشکرقلعوں کی طرف آرام کرنے کے لیے رکا، تو اس جگہ پر ان پر بجلی کا قہر نازل ہوا اور وہ تمام کے تمام جل کر مرگئے۔ دوسری روایت کے مطابق اس لشکر کے سپہ ء سالار نے بڑے پیمانے پر آگ جلائی اور یہاں کے لوگوں کو جلا دیا، جو آگ کچھ دن تک نہ بھجی۔ جس کی وجہ سے لوگ دفنائے نہ جاسکے ان کی لاشیں باہر رہ گئیں۔ جس کے بعد یہ سرزمین پھر کبھی آباد نہ ہوئی۔
میں نے خود اپنی آنکھوں سے وہ سیاہ زمین، انسانوں کی ہڈیاں اور خستہ ساخت میں مسجدیں دیکھیں۔ وہاں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کسی نے یہاں آکر کوئلے بکھر دیے ہوں،حالانکہ یہ کوئلے نہیں پر سیاہ زمین ہے جو پہلے بڑے بڑے ٹیلے ہوا کرتے تھے۔ اس ہی علاقے میں قلعے کے کھنڈرات دیکھے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ سادات پر مظالم کرنے والے یہاں رہائش پذیر تھے۔ اس قبرستان کی باہر کی طرف ایک سبیل کا چھوٹا مرکز تھا،جہاں پر ایک بزرگ درخت کے سایے میں سب کو پانی دے رہا تھا۔ اور اس سے تھوڑاہی دور ایک مسافر خانہ بھی تھا، جو بہت ہی سادہ بنا ہوا تھا۔اس کے علاوہ یہاں کوئی اورقریبی ہوٹل یا رہائش گاہ موجود نہیں تھا۔
اگہم کوٹ تاریخ کاایک بڑا ذخیرہ رکھتا ہے، یہاں کی زمین قابل تحقیق ہے۔ کیونکہ اس جگہ پر کئی تاریخ کے راز پوشیدہ ہیں۔ یہاں کے لوگوں کے مطابق اگہم کوٹ کی تہذیبکئی سوسال پرانی ہے۔ اگہم کوٹ تحقیق کے ماہرین کا منتظر ہے کہ وہ یہاں آئیں اور تحقیق کریں۔حکومت کو چاہیے کہ اس جگہ کی ترمیم کرے کیونکہ یہ جگہ لوگوں کے دیکھنے اور معلومات حاصل کرنے کا ذریعا ہے۔
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Media & Communication Studies, University of Sindh
Comments
Post a Comment