Tuba Rizvi Travelogue
ٹیکسٹ فائیل کے اندر آپ کا نام رول نمبر وغیرہ ہونا چاہئے۔
جس فارمیٹ میں ااپ نے بھیجا ہے وہ ان پیج کا ٹیمپلیٹ ہے۔ صحیح فائل نہیں۔ ایڈیٹنگ میں مسئلہ کرے گی۔
اس پورے مضمون میں معلاومتی، انوکھا، دلچسپ کیا ہے؟ جو پڑھنے والے کو یہ سفر دیکھنے پر مجبور کرے؟
فوٹوز؟؟
سفرنامہ
شام کا وقت تھا.سب عصر کی نماز پڑھ کر اکھٹے بیٹھے چائے کا انتظار کر رہے تھے.گھر میں خالہ کی بیٹی کی شادی کی تیاریاں زوروشورو سے چل رہی ہیں تو زیادہ ترہم سب انکے گھر ہوتے ہیں یہی شادی بیاہ کے مواقع ہوتے ہیں جو تمام خاندان والے ایک جگہ اکھٹے ہوتے ہیں۔
ہم تمام کزنس شام کی چائے کے ساتھ اِدھر اُدھر کی گفتگو میں مصروف تھے تو یوں ہی میرے بھائی نے تجویز دی کہ کیوں نہ صبح صبح ساحلِ سمندر کی سیر کو جایا جائے لیکن موسمِ سرماہ کی ٹھنڈی ہواؤں کی وجہ سے بڑوں نے کوئی دل چسپی ظاہر نا کی، بہر حال آپس کی میلی بھگت اور طویل گفتگو کے بعد یہ طے پایا کے ہم تمام کزنس صبح سورج نکلنے سے پہلے ہی گھر سے روانہ ہو جائیں گے.یوں تو سب کے پاس اپنی اپنی گاڑیاں ہیں تو کنوینس کا مسئلہ نہیں ہوا۔
رات گفتگو، گیمز اور مووی دیکھنے میں گزار دی۔ رات کے تین بجتے ہی افراہ تفریح مچ گئی سب نے چینج کیا کھانے پینے کی کچھ چیزیں گاڑی میں رکھیں اور پھر دو الگ الگ گاڑیوں میں ساحلِ سمندر کی طرف روانہ ہوگئے۔ رات کا پچھلا پہر سڑکوں پہ خاموشی اتمینان اور بے حد سکون تھا. لگ ہی نہیں رہا تھا یہ وہی شور شرابے والا کراچی ہے مانو لگ رہا تھا ہمارے علاوہ کوئی شہر میں ہے ہی نہیں نا کوئی گاڑی نا کوئی ٹریفک کا شور صرف ہم اور ہماری گاڑی ۱۲۰ کی اسپیڈ سے روڈ پرگشت کر رہی تھی۔
یوں تو میری خالہ کی رہائش کراچی کے علاقے شادمان ٹاؤن میں ہے تو وہاں سے ہم نے سوہراب گوٹھ لیاری اکسپریس وے کا رخ کیا۔ لیاری اکسپریس وے ۳۸ کلو میٹر پل ہے جو بلکل صاف ستھرا گاندگی اور گھڈوں سے مہفوظ ہے۔ لیاری ایکسپریس وے پر چڑھنے کے بعد ہم نے چار جگہ ٹول ٹیکس ادا کیا۔سوہراب گوٹھ انٹر چارج اسٹارٹنگپ پوا ئنٹ ہے۔اس کے بعدسر شاہ سلیمان انٹرچارج پھر منگومیرانچارج اور اس کے بعد ماری پور انٹرچارج جو کہ اس کا اینڈنگ پوائنٹ ہے۔
سوراب گوٹھ سے ماڑی پور انٹرچارج تک کا سفر بے ہد پر سکون اور آرام دہ گذرہ عمدہ سڑک،تیذرفتار،مانو جیسے روڈ پر سرف ہماری ہی گاڑی دوڑ رہی ہو۔جس گاڑی میں میں تھی وہ میرے منگیتر شہذر ڈراؤکر رہے تھے اور ہمارے ہمراہ میری خالہ کی بیٹیاں ماہرخ،انوشاہ میری چھوٹی بہن تمکین اورمیرے ماموں کا بیٹا شاہمیر موجود رتھا۔باتیں کرتے گانے گاتے اندھیرے آسمان کے نیچے سن سان سڑک پر صرف ہماری ہی گاری گشت کر رہی تھی۔ہماری گاڑی کبھی آگے اور کبھی پیچھے میری خالہ کے بیٹے کی گاڑی بھی موجود تھی۔لیکن اس گاڑی مین تمام لڑکے موجود تھے تو وہ کافی تیذ رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم سے کافی آگے جا چکی تھی۔جیسے ہی ہم نے ماری پور روڈ کا رخ کیا تو انتہائی بوسیدہ اور خطرناک گڈھوں والے روڈ کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری طرف اتنے سارے ٹڑک اور ٹرولر اس دوڑ پر موجود تھے۔ماری پور کر ٹرک اڈا بھی کہا جاتا ہے۔اس وگہ سے ٹرک ہی ٹرک دیکھنے کو ملے۔گڈھوں اور ٹرک سے بچ کر بیچ میں آبادی بھی آئی چھوٹی سی فوڈ اسٹریٹ اور پٹھان کے ہوٹل چیذ اور بچوں کے کھلونوں کی دکانیں بھی موجود تھں۔ہما ری گاڑی کے ساتھ ساتھ چار لڑکے سائیکلنگ بھی کرتے نظر آرہے تھے۔
ابھی آسمان پر سورج کی پہلی کرن نکلی ہی تھی ہم لوگ ماری پورسائٹ ایریا کی طرف تھے۔جو ہاکس بے سے کچھ ہی دور ہے وہاں آکر اچانک ہماری گاڑی بند ہوگئی۔کافی دیر تک ہم وہاں کھڑے سوچتے رہے کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ سن سان سڑک تھی ڈر بھی لگ رہا تھا کیوں کے دو لڑکوں کے علاوہ ہم لڑکیاں ہی تھیں سگنلز کا جس کی وجہ سے کسی کو فون بھی نہیں کر سکتے تھے۔ لہذاہ خود ہی آدھے گھنٹے کی جدوجہد کے بعد شہزر نے گاڑی کو ٹھیک کیا گاڑی اسٹارٹ ہوئی تو جان میں جان آئی۔گاڑی اسٹارٹ کرتے ہی ہم نے دوبارا سے ہلکی آواز میں میوزک لگایا اور ہاکس بے کی طرف روانہ ہوگئے۔ سائٹ ایریا کروس کرنے کے بعد الٹے ہاتھ پر کٹ لیا تو سیدھے ہاتھ کی طرف بڑے بڑے فارم ہاؤس جو کے فیملی پکنک کے لیے بک کئے جاتے ہیں۔ لیکن ان فارم ہاؤس کی وجہ سے ساہل سمندر کی طرف جانے میں کافی دشواری ہوئی۔کیونکہ روڈ کے ایک طرف فارم ہاؤس کا مین گیٹ اور اگلی طرف دوسرا گیٹ جو کہ ساحل کی طرف کھلتا ہے۔چھوٹے بڑے تمام فارم ہاؤس اسی طرح بنے ہوئے ہیں۔بغیر بکنگ کے آپ اندر داخل نہیں ہو سکتے کافی دیر تک تو ہم اندر جانے کا راستہ دیکھتے رہے لیکن تھوڑی دیر بعد ایک کچہ راستہ دکھا تو و ہیں روڈ پر ہم نے اپنی گاڑیاں پارک کی اور ساحل کی طرف چلے گئے۔
ساحل پر جب ہم پہنچے تو اس وقت صبح ۷ بج رہے تھے۔ روشنی تقریبا پورے آسمان پر چھائی ہوئی تھی۔سمندر کا پانی ہلکا نیلا صاف شفاف اور بے حد ٹھنڈا تھا۔ساحل سمندر پر سمندر کی لہرو کے شور کے علاوہ اور کوئی آواز نہ تھی۔دور سے سمندر کو دیکھنے سے ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے زمین اور آسمان ایک ہوں۔صرف پانی اور آسمان کا خوبصورت منظر نظر آرہا تھا۔
ہمارے علاوہ ہمیں وہاں اور بھی فیملیزدکھی اونٹ اور گھوڑے والے باری باری چکر لگا رہے تھے۔
مچھیرے بھی اپنا جال بچھاتے نظر آرہے تھے۔صبح صبح ساحل پر جا کر بے حد سکون محسوس ہوا۔شہر کے بے جا شور سے بہت دور کھلی فضاء اور پرسکون منظر سے بہت عرصے بعد لطف انداز ہوئے۔
وہاں ہم نے فوٹوگرافی کی ٹھوڑی بہت و اک اور بہت سارے گیمز کھیلے۔دو تین گھنٹے گزار نے کے بعد ہم نے واپسی کا ارادہ کیا۔ واپسی پر ہمارا کوئی پلان نہیں تھا۔ہمیں سیدھا گھر جانا تھا لیکن ہم لوگ ناشتے کے لئے بوٹ بیسن چلے گئے۔وہاں ہم سب نے بہار بیٹھ کر حلوہ پوری کا ناشتہ کیا،کافی پی اور گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Media & Communication Studies, University of Sindh
Comments
Post a Comment