Urooj Yousuf Travelogue

 1000 words 

 عروج یوسف  Urooj Yousuf      ...Travelogue                                                                       

رول نمبر: Roll number: 2k18/MC/159                                                   2k18/MC/159

BS-Part III                                                                                                         

Assigned by:Sir Sohail Sangi                                                                               

سفرنامہ مری:

مری پا کستان کاسب سے خوبصورت پہاڑی مقام ہے،سردیوں کے موسم میں جب باقی شمالی علاقوں میں پہچنا بہت مشکل ہوتا ہے توپورے ملک  سے لوگ اس خوبصورت پہاڑی کا رخ کرتے ہیں۔خاص طور پر گھنے سبز درخت،سرد موسم،تازہ ہوائیں،خوبصورت وادیاں اور سڑک کے کنارے سفید بادل ایک حسین نظارہ پیش کرتے ہیں،یہ سب کچھ سن کر کس کا دل نہ چاہے گا کہ و ہ اس خوبصورت پہاڑی علاقے کا رخ کرے اور قدرت کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوزہو۔لہذا ہمیں جب موقع ملا مری جانے کا تو ہم نے دیر نہ کی کیونکہ اس سے پہلے ہم نے کبھی کسی پہاڑی علاقے کا سفر نہیں کیا تھا۔

منصوبہ بندی:

یہ ۲دسمبر کی بات ہے،موسم سرد تھا،ہم تین دوستیں بیٹھیں آپس میں گپے لگا رہیں تھیں کہ اچانک ایک دوست نے یوں ہی اپنی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کاش!ہم دوستیں اس موسم میں ساتھ کہیں سرد علاقے میں گھومنے کا مزہ لے پاتیں،جس پر ہم دونوں نے حیرت سے اس کی طر ف دیکھا، اس کی بات پر غور کیا اور کافی دیر تک سوچا ،کافی دیر سوچنے کے بعدہم نے منصوبہ بندی کی کہ اپنے اپنے گھر والوں کو جانے پر راضی کریں گے،کیونکہ موسم سرد تھا اور اس دوران کوئی تعلیمی سرگرمیاں بھی نہ تھیں،ہم نے بہت منت سماجت کرکے آخرکارکچھ ہی دن میں اپنے گھر والوں کوساتھ مری جانے پر راضی کر ہی لیا۔یہ ہم تینوں کا مری ساتھ پہلا سفر تھا،ہم بہت ہی زیادہ پرجوش اور خوش تھے۔  

روانگی:

ہم سب نے ٹرین کے بجائے کار میں حیدرآباد سے مری جانے کا فیصلہ کیا،ہم تینوں ساتھ بیٹھے تھے،سفر کے دوران نہایت ہی دلکش مناظر دیکھنے کو ملے،جیسے ہی ہم نے سندھ کراس کیاموسم خوشگوار ہوگیا،آسمان پرخوب  بادل چھا گئے اور تیز بارش ہونے لگی،ہم سب کچھ دیر قریب ہی ایک ہوٹل پر رکے۔ہم نے یہیں رات کا کھانا کھایا اور بارش رکنے کا انتظار کیا، بارش رکنے کے بعددوبارہ پھر سفر کا آغاز کیا۔بارش کے موسم میں سفر کا مزہ اور دوبالا ہوگیا،پوری رات سفر میں گزری اس کے  بعد صبح کو ہم سب مری پہنچے۔

مری:

صبح کو 7بجے کافی لمبا سفرطے کرنے کے بعد ہم سب آخرکار مری پہنچے،ہم سب بہت تھکے ہوئے تھے،گھر والوں نے گیسٹ ہاؤس میں رکنے کا فیصلہ کیا،ہم نے گیسٹ ہاؤس میں تین کمرے بک کیئے،ہم سب نے وہاں کچھ دیر آرام کیا،آرام کرنے کے بعد ہم باہر نکلے،باہر نکلتے ہی بہت خوبصورت،حیرت انگیز اور دلکش منظر ہمارے سامنے تھا،ہر طرف دھند چھائی ہوئی تھی،ہرے بھرے خوبصورت درخت،تازہ ہوائیں اور خوبصورت  وادیاں نظر آرہی تھیں،ہم نے پہلے مال روڈ جانے کا فیصلہ کیا،مال روڈ مری کا ایک وسیع وعریض دلچسپ اور مشہور بازار ہے،اس بازار میں مری کی ہر انوکھی اشیاء باآسانی مل جاتی ہے،یہاں سے تمام زائرین خوبصورت چیزیں خریدتے ہیں،ہم نے بھی یہاں سے مختلف چیزیں اور ملبوسات خریدے۔اس کے بعد دوسرے دن ہم نتھیا گلی کی سیر کو نکلے،جو کہ مری کا پھاڑی ریزورٹ ہے،نتھیا گلی اپنی قدرتی خوبصورتی اور خوشگوار موسم کی وجہ سے جانی جاتی ہے،زیادہ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے یہاں بہت ٹھنڈ تھی،سرد موسم میں نتھیا گلی کے خوبصورت جنگل برف سے ڈھکے ہوئے تھے،جو کہ حسین منظر پیش کررہے تھے۔اس کے علاوہ میران جانی اور مشکپوری پہاڑجو کہ نتھیا گلی کے قریب ہی موجود ہیں ہم نے یہاں کی بھی سیر کی جہاں بڑے بڑے ابھرے بادل بہت دلکش لگ رہے تھے،اور قدرت کا حسین منظر پیش کررہے تھے۔اس کے بعدہم سب کشمیر پوائنٹ گئے،یہاں سے کشمیر کے پہاڑی مقامات کے حیرت انگیز حسین نظارے باآسانی دکھائی دے رہے تھے۔اس خوبصورت جگہ کو دیکھنے کے لیئے سیاہوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ہمیں گھومتے ہوئے پورا دن گزر چکا تھا اور ہم لوگ کافی تھک بھی چکے تھے، اس لیئے واپس گیسٹ ہاؤس پہنچ کے آرام کیا، اگلے ہی دن دوبارہ گھومنے نکلے۔

اس دفعہ ہم سب سوزو پارک گئے ، جو کہ مری کا ایک بڑا تفریحی مقام ہے،یہاں ہم نے  خوب جھولے جھولے، اس کے بعدہم ایوبیہ نیشنل پارک گئے یہاں ہم نے چئر لفٹ کی سیر کی، پہلے تو ہمیں ڈر لگا پر پھر ہم  چئر لفٹ میں سوار ہوہی گئے،چئر لفٹ میں  اوپر سے مری بہت حسین لگ رہا تھا ہمیں اوپر سے مری کے  خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملے،واپس نیچے آئے تو کچھ بندر نظر آئے لوگ انہیں چیزیں کھلا رہے تھے،یہ بندر بہت ہی شرارتی لگ رہے تھے، ہم بھی قریب گئے تو میری ایک سہیلی نے بندر کو چھیڑا،جس پر  بندر اچانک ڈر گیا،ہم نے انہیں چیزیں کھلائیں،پھرتھوڑی ہی دیر میں جب ہم ایک جگہ آرام کے لیے بیٹھے تو بندر نے اچانک میری سہیلی کو ڈرا کر اپنا بدلہ لے لیا،جس پر ہم سب بندر کی اس چالاکی پر خوب ہسسے اور بہت حیرت ہوئی۔

اس کے بعد ہم  سب پٹریاٹا گئے جسے نیو مری کے نام سے بھی جانا  جاتا ہے،یہاں بڑے بڑے گھنے جنگل اور بہت ہی آرام دہ  اور پرسکون ماحول ملا۔ہم سب اپنے مری آنے کے فیصلے پر بہت خوش تھے۔

ان سب کے علاوہ ہم نے مری کے اور دوسرے مقامات کی بھی سیر کی جن میں بھوربن،پنڈی پوائنٹ،اور گھوڑا گلی وغیرہ شامل ہیں۔ہم نے ایسے دلکش مناظر پہلے کبھی نہ دیکھے تھے،گھومتے گھومتے  تھک بھی چکے تھے، پر بہت مزہ آیا۔ ان سب کے دوران گھر واپس جانے کا کوئی خیال ہی نہیں آیا،ہمیں یہاں پر  ۵۱  دن گزر چکے تھے اور اب واپس گھر جانے کا وقت آگیا تھا،گھر جانے کے خیال سے دل بہت اداس ہورہا تھا،اس خوبصورت جگہ کو چھوڑ کر جانے کا دل ہی نہیں کررہا تھا،اگلے ہی دن سب نے اپنا اپنا سامان رکھا اور ہم سب اپنی گاڑی میں گھر کے لیئے روانہ ہوگئے۔

سرد موسم میں سیر و تفریع کے لیئے مری سے زیادہ کوئی اور خوبصورت جگہ ہو ہی نہیں سکتی۔ہم تینوں کا ساتھ یہ پہلہ لمبا سفر تھا جو کہ بہت  ہی یادگار رہا،جسے ہم کبھی بھی بھولا نہیں سکتے۔

 Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi 

Media & Communication Studies, University of Sindh


Comments

Popular posts from this blog

Season Of Silence Bushra Fatima چُپ کا موسم

Traffic Congestion in Main Qasimabad Komal Qureshi

Waseem Akram Viral memes- Eng