Industries in Latifabad's residential area Jawaria Zia IR
To be checked
Sindh small industries Corporation, Industries department, Sindh Environment Agency, Latifabad Municipal
Counsellors, UC chairman, MNAs, MPAs, are stakeholders.
You have to give proof about evel of noise pollution.
Rangers etc are not stakeholder.
No attribution
No reference of any report
No reference of any such other case in Pakistan, Sindh province etc
Is there any such condition in Paretabad etc
What type of cloth, garment they prepare? Who are traders? Is this item export related
550 words
No document
Industries in Latifabad's residential area
Jawaria Zia BSIII-2K18/MC/71-Urdu
Investigative Report
ْرپوٹ کاموضوع :ہیوی مشینری(کپڑوں پرجدیدڈیزائن چھاپنے والی مشینیں)
تاریخ:۳۲/جنوری/۰۲۰۲
مصنف:جویریہ ضیاء
ہمارے ملک پاکستان کے صوبہء سندھ کے شہرحیدرآبادمیں دیکھاجائے توانڈسٹریل ایریاالگ قائم کیا جاتاہے۔جوبلکل گلی محلوں سے ہٹ کربنایاجاتاہے۔ ساری ملیں،فیکڑیاں ایک مخصوص ایریامیں چلائی جاتی ہیں ناکہ رہائشی ایریا میں۔لیکن شہرحیدرآبادکے علاقے یونٹ نمبر۸لطیف آبادتحصیل۰۱کے رہائش پذیر ایریا میں یہ غیرقانونی طریقے سے لباس بنانے والی (کیا یہ گارمنٹ فیکٹریز ہیں؟ ) مشینیں چلائی جارہی ہیں۔جوکہ گورنمنٹ نے انکوایک مخصوص جگہ دی ہوئی ہیں۔ کیا حکومت نے یہ جہ دی ہوئی ہے؟ جوانہوں نے کرایہ پردی رکھی ہے اور اس رہائشی ایریا میں غیرقانونی طریقے سے چلائی جانے والی یہ مشینیں ان کے گھرکے نِچلے حصے میں لگی ہوئی ہیں جس کے اُوپروالے حصے میں یہ خود رہائش پذیرہیں۔جس سے ماحول میں شوراور آلودگی پیداہورہی ہے۔جوکہ لوگوں کے لیے پریشانی کاباعث ہے۔
پہلے کتنے لومز تھے؟ اب کتنی مشینیں ہیں؟
کب سے کون سے سال سے؟
کیا پہلے پاور لومز تھے؟
۰۴سالوں سے چلائی جانے والی یہ مشینیں اب بھی انہیں جگہ پرقائم ہیں۔کپڑابُننایہ انکاوراثتی کام ہے۔پہلے صرف ان کے پاس کپڑابُننے والی مشینیں ہواکرتی تھیں۔جنہیں لوم بھی کہاجاتاہے۔حالیہ میں ہی جدیدٹیکنالوجی والی مشینوں کاانتخاب کیااورپُرانی مشینوں کوبیچ کرانہوں نے نئی دورکی جدیدمشین لگالی۔اس مشین کولگانے کے لیے ایک کرین کااستعمال کیاگیاجوکہ انتہائی خطرناک تھا۔۰۵فِٹ کایہ روڈجولوگوں نے اپنے گھروں کی حدودسے آگے باؤنڈریوں سے گھیرکراسے اورتنگ بنادیاہے۔اس روڈپرایک بڑی کرین کاداخل ہونااورپھراس کرین کی مددسے اس ڈیجیٹل مشین کوگھرمیں داخل کرناانتہائی مشکل اوررِسک والاکام تھا۔اس مشینوں کے چلنے سے ان کے پڑوسی اور آس پاس کے لوگ۰۸فیصدمتاثرہیں اوراسی کے ساتھ اس کالونی میں رہنے والے لوگ اس مشین کے شوروغُل اورگیس کی کمی کی وجہ سے کافی پریشان رہتے ہیں۔ان مشینوں کی کُل تعداد۴ہیں جوکہ اس رہائشی ایریا کے تین گھروں میں لگائی ہوئی ہیں۔
بہت دفعہ ان کے پڑوسی نے ان کے خلاف قانونی کاروائی کی لیکن ہرباریہ پیسے دے کراپنی جان چھوڑالیتے ہیں۔۷۰۰۲ میں ان پر سب سے پہلی قانونی کاروائی ان کے پڑوسی نے کی تھی۔بہت سی درخواستوں کے ذریعے ان کونوٹس بھیجوایااوریہ آگاہ کیاگیاتھاکہ یہ مشینیں اس رہائشی ایریا میں غیرقانونی طریقے سے چلائی جارہی ہیں۔ ان مشینوں کوہٹانے اوردوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے بھی کئی درخواستیں کچھ اداروں کودی گئی تھیں۔عبدالقدیرجاوید(ایسسٹینٹ کمیشنرتعلقہ لطیف آباد حیدرآباد)،علی محمدبابر(ایڈیشنل ڈپٹی کمیشنر حیدرآباد)،محمداکرم بیگ(ڈپٹی کنڑولرسِول ڈیفینس حیدرآباد)۔جس کی کاپیاں ڈاریکٹررینجرزسندھ،ضلع ناظم حیدرآباد،ٹی۔ایم۔او لطیف آباد،حلقہ بلاکF یونٹ نمبر۸،تعلقہ آفیسرریگولیشن لطیف آباد وغیرہ۔جسے دینے کے بعدبھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی اوریہی وجہ ہے کہ ان سے ماہانہ رقم وصول کی جاتی ہیں۔جس کی بناء پرآج بھی یہ غیرقانونی مشینیں اس رہائشی ایریا میں چل رہی ہیں۔جسے کوئی پوچھنے والانہیں ہے۔ یہ اپنے کاروبارکوچلانے کے لیے کچھ اداروں کوماہانہ رقم دیتے ہیں۔ان مشینیوں کوبندکروانے کے لیے پڑوسی نے ہرناممکن کوشش کی لیکن یہ مشینیں ناتوبندہوئی نہ ہی یہاں سے کئی اور منتقل ہوئی۔لوگوں کاکہناہے کہ یہ مشینیں ۰۴سال سے چل رہی ہیں۔جس کابندہوناناممکن ہے۔یہ ان کاجدی پُشتی کام ہے۔اسے ہم بندنہیں کراسکتے۔ان مشینوں سے تیارکردہ کپڑاصرف حیدرآبادمیں ہی نہیں بلکہ کراچی کی بڑی مارکیٹوں میں بھی بھیجاجاتاہے جوکہ بڑے پیمانے پران کاکاروبارچل رہاہے۔
ان مشینوں سے ان کے گھرچل رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کوکم تعلیم دلواتے ہیں تاکہ کم عمری میں ہی یہ بچوں کواس کام کی طرف مائل کرتے ہیں تاکہ ان کاکاروبارزیادہ سے زیادہ چلے۔ان کی آنے والی نسلیں بھی اسی کام کوآگے سراہتیں ہیں جس کی اصل وجہ یہی ہے کہ یہ مشین آج تک اس علاقے میں موجودہیں۔حیرت کُن بات یہ ہے کہ اس علاقے کے علاوہ ایک اورعلاقے میں بھی یہی مشینیں چلائی جارہی ہے۔جسے کوئی روکنے والانہیں ہے۔
ِبدقسمتی کی بات تویہ ہے کہ ہمارے پاکستان جیسے ملک میں کرپشن کا بازارعروج پرہے۔ہرادارارشوت سے سرگرم ہے اورکوئی بھی شخص اس ادارے یاغیرقانونی کام کوروکنے کی کوشش کرتاہے۔تواسے ڈرادھمکاکرخاموش کرادیاجاتاہے۔ہمارے پاکستان جیسے ملک کے اداروں میں جب تک رشوت لینے والی کالی بھیڑیں موجودہیں۔تواس ملک میں کوئی ترقی یاکوئی نظام بہترنہیں ہوسکتاجس کی وجہ سے لوگ اپنے حقوق سے ناآشنارہیں گے۔
Jawaria Zia BSIII-2K18/MC/71-Urdu
Investigative Report
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Media & Communication Studies, University of Sindh
Comments
Post a Comment