Migration phenomena in Thar - Sonia Shaikh IR
Migration phenomena in Thar not properly described and no figures and fatc
To be checked
3525 words
انویسٹیگیٹو رپورٹ۔ سونیہ شیخ۔ بی ایس 3۔رول نمبر۔144۔اردو
تھرواسیوں کی نکل مکانی
قحط کیا ہے؟
قحط، ایک ایسا دورانیہ ہے جس میں برسات نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی شدید قلت ہوجا تی ہے، اس کے باعث وہاں جاندار کا زندہ رہنا نہ ممکن ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ زندگی کی تمام ضروریات اور قل وسائل ختم ہوجاتے ہیں۔ قحط کی صورتحال عام طور پر کچھ مہینے یا ایک سال رہتی ہے، مگر کبھی کبھی ایک قحط کے ساتھ مسلسل دوسرا قحط بھی آسکتا ہے جو اپنے ساتھ بڑی تباہی لاسکتا ہے۔ اس ہی طرح تھرپارکرضلع(تھر) سندھ کا صحرائی علاقہ ہے، جو ہر سال کئی قدرتی مصیبتیں برداشت کرتا ہے،ان قدرتی آفات میں سب سے بڑی آفت قحط کی صورتحال ہے۔
قحط کے اہم اسباب
تھر پارکر میں قحط آنے کی تین بنیادی وجوہات ہیں: پہلی برسات میں کمی،دوسری آبادی کا بڑھنااور تیسری تھرکول پروجیکٹ۔
۱)برسات کی کمی
موسم میں غیر معمولی تبدیلیاں آنے کے وجہ سے تھرپارکر میں بارش بہت کم ہوتی ہے۔ نتیجتاً یہ صحرا خشک سالی کا شکار ہوتا ہے۔ جس کے سبب زمین خشک ہوتی ہے، فصلیں تباہ ہوتی ہیں، بچوں میں غذائیت کی کمی پیدا ہو تی ہے،اموات کی شرح میں اضافہ ہو تا ہے اور اس مخصوص خطے کے ماحولی نظام و زراعت پر گہرامنفی اثر پڑتاہے۔ اگرمزید کچھ عرصہ برسات نہیں ہوتی تو وہ صورتحال قحط سالی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
۲)آبادی کا بڑھنا
قحط کی دوسری وجہ آبادی میں اضافہ ہونا ہے، کیوں کہ جیسے آبادی بڑھی ہے ویسے ہی گھر اور روڈ بنانے کے لیے درخت کی کٹائی میں اوستاً اضافہ ہوا ہے۔ صحرائی علاقے میں درخت ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہیں پر ان کی کٹائی سے قحط کی صورتحال بڑھنے لگتی ہیں۔نتیجے میں گرمی کے درجہء حرارت میں اضافہ ہوتا ہے، زمین خشک ہونے لگتی ہے اور ہوا میں نمی ختم ہوجاتی ہے۔ یہ تمام چیزیں مل کر قحط کی سازگار حالت پیدا کرتی ہیں۔
۳) تھر کول پروجیکٹ
تھر کول پروجیکٹ صحرائی لوگوں کو بجلی فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ ہے،پراس سے 50 فیصد لوگوں پر منفی ماحولیاتی اثرات پڑتے ہیں۔ دی نیوز کے مطابق تھر کول کی زہریلی گئسوں سے تقریباً 30 ہزار اموات ہو سکتی ہیں اور اس پروجیکٹ سے زمین کے اندر کا پانی بہت تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ جس کے باعث آنے والی چند نسلوں کو پانی کی شدید قلتدرپیش ہو سکتی ہے۔ اس پروجیکٹ سے ماحول میں آلودگی بڑھ رہی ہے، زہریلی گئسوں کی وجہ سے سانس کی بیماریاں ہورہی ہیں اور قحط کی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔
قحط کے اثرات
قحط کے اثرات غیر معمولی طور پر اس خطے کی ہر ایک شے پر پڑھتے ہیں۔ قحط سالی کی وجہ سے سب سے پہلے اس علاقے کی فصل تباہ ہوجاتی ہے، بچوں میں غذائیت کی کمی ہوتی ہے، شیرخوار بچوں کی اموات میں اضافہ ہوتا ہے، حاملہ عورت کا حمل یا کبھی کبھار حاملہ عورتیں بھی موت کا شکار بنتی ہیں۔ مطلب ان کے جان و مال کا بڑا نقصان ہوتا ہے۔تو یہ لوگ اپنی جان بچانے کی خاطر نکل مکانی کرتے ہیں۔
نکل مکانی
تھرپارکر میں عام طور پر نکل مکانی مستقل اور عارضی طور پر ہوتی ہے۔ مستقل نکل مکانی وہ لوگ کرتے ہیں جو مالی طور پر بہتر ہوں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ مستقل رہنے کے قابل ہوں۔ عارضی نکل مکانی وہ لوگ کرتے ہیں جو اپنی زندگی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ قیام کرتے ہیں۔ عارضی نکل مکانی کے بھی دو قسم ہیں ایک موسمیاتی نکل مکانی اور دوسری قحط سالی کی صورتحال میں نکل مکانی۔
موسمیاتی نکل مکانی
تھرپارکر میں بئریج ایریا کے قریب بسنے والے لوگ موسمیاتی نکل مقانی کرتے ہیں۔ تھرواسی موسمیاتی نکل مکانی مارچ۔اپریل کے دوران کرتے ہیں جب گندم کی کاشت کاری کا وقت آتا ہے۔ اس نکل مکانی میں صرف گھر کے مرد یا وہ لوگ سفر کرتے ہیں جو اپنے اہل وعیال کے لیے کھانے کاکچھ بندوبست کرسکیں۔
نکل مکانی قحط سالی کی صورت میں
تھرواسی قحط سالی میں اپنا گھر چھوڑ کر، اپنی عورتوں، بچوں اور مال مویشی کے ساتھ نکل مکانی کرکے اس جگہ جاتے ہیں جہاں ان کی زندگی کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔پھر قحط کی صورتحال ختم ہونے کے بعد واپس تھرپارکر چلے آتے ہیں۔ اس پورے مرحلے کے دوران لوگوں کا بہت نقصان ہوتا ہے اور کئی مشکلات کا سامنہ کرنا پڑتا ہے۔
نکل مکانی کے دوران کیا مشکلات آتی ہیں اور کیسے انکا سامنہ کرتے ہیں؟
نکل مکانی کے دوران تھرواسیوں کو بہتمالی نقصان ہوتا ہے، ان کے پاس سفر کے لیے کرایہ بھی نہیں ہوتا۔ وہ اپنا مال مویشی کم دام میں فروخت کرکے یا پھر اپنے زیورات گروی رکھ کر کچھ پئسے اور خوراک اپنے سفر کے لیے رکھتے ہیں۔تھرواسینکل مکانی کر کے نہری علاقے میں قیام کرتے ہیں اور وہیں پر کھیتی باڑی کرتے ہیں،جس میں گندم کی کاشتکاری اور گننے کی کٹائی کرتے ہیں۔ اس طرح محنت مزدوری کرکے اپنا گزر سفر کرتے ہیں جب تک قحط کی صورتحال قائم ہوتی ہیں۔
نکل مکانی کے نتیجے میں کیا نقصان ہوتاہے؟
۱)نکل مکانی کے دوران تھرواسیوں کا بہت جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے، ایک مٹی کے برتن سے لے کر مال مویشی تک ان کو بڑا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس مشکل وقت میں سب سے بڑا نقصان ان کے مویشی کا ہوتا ہے، جن پر 70 فیصد ان کی زندگی کا انحصار ہوتا ہے۔ ایک پروفیسردسرت کے مطابق تھرواسی اپنے مال میں بھیڑ(دنبے)کو زیادہ پالتے ہیں کیوں کہ یہ جانور سال میں دو مرتبہ بچے پیدا کرتا ہے۔حالانکہ ایک ریسرچ کے مطابق بھیڑ صحرا کا جانور نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھیڑ مصیبت آنے سے پہلے اس کے خوف میں مرجاتا ہے،اس لیے تھرواسیوں کامویشی میں زیادہ نقصان ہوتا ہے۔
۲)نکل مکانی کے دوران جو لوگ اپنے زیورات گروی رکھتے ہیں، وہ کبھی کبھی حاصل نہیں کر پاتے۔ کیوں کہ ان کا نقصان اتنا ہو چکا ہوتا ہے کہ وہ کچھ پئسوں سے اپنا پیٹ پالیں یا زیورات اٹھائیں۔
۳) بچوں کی تعلیم مکمل طور پر تباہ ہوجاتی ہے۔ جنتا وقت قحط کی صورتحال قائم ہوتی ہے اتنا وقت بچے تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔
۴) نکل مکانی کی وجہ سے لوگوں پر موسمیاتی تبدیلیاں اثر انداز کرتی ہیں اور پانی تبدیل ہونے کی وجہ سے وہ متفرق بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جو کچھ بڑی مشکلوں سے کماتے ہیں وہ بیماریوں کے علاج میں خرچ ہوجاتا ہے۔ اس وجہ سے لوگ خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، جس میں خواتین کی شرح زیادہ پائی جاتی ہے۔
۵)نکل مکانی کی وجہ سے لوگوں کے کچے گھر تباہ ہوجاتے ہیں۔ جنہیں وہ واپس آکر دوبارہ تعمیر کرتے ہیں۔
۶) بارش کم ہونے کی وجہ سے میٹھے پانی کے کنوئے کھارے پانی میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کو پینے کا پانی حاصل کرنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ اور کھارا پانی پینے سے ان کے دانت خراب ہوجاتے ہیں کیونکہ اس پانی میں نمکیات بڑی مقدار میں موجود ہوتی ہے۔
تھرواسی ایک جگہ قیام کیوں نہیں کرتے؟اور کون سے قبیلے یا ذات سے وابستا لوگ نکل مکانی کرتے ہیں؟
تھرواسی ایک جگہ قیام نہیں کرتے کیونکہ جب کمانے کے ذرائع نہیں رہتے، فصل نہیں ہوتی تولوگ مکمل بیروزگار ہونے کی صورت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنا پیٹ پالنے کے لیے دربدر ہوتے رہتے ہیں۔ تھر میں ہندو برادری میں کولہی، بھیل، میگواٹ اور مسلمانوں میں راہیموں، سمیجو، راجڑ اور مگریا رہتے ہیں، جن میں اکثریت ہندو برادری کی ہے۔لوگوں کی نکل مکانی کا تعلق ان کے حسب نسب سے نہیں بلکہ ان کی کلاس یعنی ان کے طبقے سے ہے۔تھر میں تین غریب طبقیبستے ہیں، ۱)ہائر کلاس کے مفلس ۲) مڈل کلاس کے مفلس ۳) لوئر کلاس کے مفلس۔ ہائر کلاس کے مفلس وہ لوگ ہیں جن کے پاس ہنر ہوتا ہے، جیسے تعمیر کا کام، رنگ کرنا یاسلائی و کڑاہی وغیرہ۔ جن لوگوں کے پاس ہنر ہوتا وہ نکل مکانی بہت کم کرتے ہیں۔ ایسے ہنر مند لوگ این جی اوز سے ملتے ریلیف میں رہ کر اپنا گزر کر لیتے ہیں۔مڈل اور لوئر کلاس کے مفلس وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس کوئی ہنر نہیں ہوتا اور انکی زندگی کا مکمل دارومدار کھیتی باڑی اور مال مویشی پر ہوتا ہے تو وہ لوگ سب سے زیادہ نکل مکانی کرتے ہیں۔
تھرواسی سفر کیسے کرتے ہیں؟
جب تھر میں روڈ رستے نہیں بنے ہوئے ہوتے تھے اور ٹرانسپورٹ کی سہولیت نہیں ہوتی تھی،تو تھرواسی پیدل سفر کرتے تھے۔جس سفر میں ان کو دو تین مہینے گزر جاتے تھے،اس سفرکے دوران ان کا جانی نقصان بہت زیادہ ہوتا تھا۔سفر کی سختیاں برداشت کر کے ان کے معصوم بچے، حاملہ عورتیں اور جانور مر جاتے تھے۔ ٹرانسپورٹ کی سہولیت کے بعد سفر کچھ قدر آسان ہوا ہے، لیکن اس صورت میں جب ان کے مالی حالات کچھ بہتر ہوں تاکہ وہ سفر کرنے کا کرایہ ادا کر سکیں۔
برادری کے سربرہ اورمعروف شخشصیات کا کردار
تھرپارکر میں برادری کے سربراہ اپنی طرف سے لوگوں کو سہولیات مہیا کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ نکل مکانی کرنے والوں کی تعداد کی فہرست بنا کر حکومت سے مدد لینے کی جدوجہدکرتے ہیں اور این جی اوز سے اجلاس رکھ کر انکی مدد کے لیے کچھ اقدامات اٹھانے کے اہتمام کرتے ہیں۔
تھر میں مسکین جان خان کوسو جیسے سوشل ورکرز بھی گزرے ہیں،جو خود اپنا مال خرچ کرکے لوگوں کی مدد کرتے تھے۔ ان میں سائین سچل جنجی اور ان کا بیٹا جام ساقی بھی نامور سوشل ورکرز رہیں ہیں۔جام ساقی نے تھر میں بچوں کے لیے اسکول اور ہاسٹل بنوائیے تھے، اپنی فصلیں لوگوں کودیں تاکہ وہ اپنا پیٹ پال سکیں اوراپنے گھر میں اسکول کے بچوں کو مفت کھانا کھلاتے تھے۔ آج وہ اسکول کالیج میں تبدیل ہو چکا ہے۔ پر اب تھرپارکر میں نہ وہ باہمی تعاون جیسا معاشرہ رہا جو ایک دوسرے کی اتنی مدد کریں اور نہ ہی کوئی معروف شخشصیات ان کی مدد کو آتی ہیں۔ جیسے معاشرہ بڑا ہے ترقی کی ہے ویسے ہی اخلاقیات ختم ہوتی جا رہی ہے۔
نکل مکانی کے دوران حکومت کا کردار
تھرپارکر کے ڈپٹی کمیشنر محمدنواز سوہوسے جب تھرواسیوں کی نکل مکانی کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنا کردار پوری طرح سے ادا کرنے کی بھرپور کاوشیں کرتے ہیں۔حکومت کی طرف سے قحط سالی کاا علان ہوتے ہی ہم فوری طور پر لوگوں کی امداد کرتے ہیں۔ ان کے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرتے ہیں اور ان کے مال مویشی کو بچانے کے تمام احتیاطی اقدام فوری طور پر اٹھاتے ہیں۔ مختلف دیہاتوں میں سروے کرتے ہیں۔جہاں بھی کوئی وباء پھیل جاتی ہے وہاں پر فری میڈیکل کیمپس لگا کر لوگوں کا علاج کرتے ہیں اور جانوروں کی فری ویکسینشن کرتے ہیں، تاکہ ان کا مال بچایا جا سکے اور اس قحط کی صورتحال میں ان کا کم سے کم نقصان ہو۔ انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اسسٹنٹ کمیشنر بھی اپنا بہتر کردار ادا کرتے ہیں۔ جو ڈپٹی کمیشنرکی ہدایات پر چل کر لوگوں میں حکومت کی طرف سے گندم تقسیم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے دال، آئل اور چاکلیٹس تقسیم ہوئے ہیں، معزور لوگوں کے لیے ویلچیئرز اور حاملہ عورتوں کے لیے ایک غذائی فلیوڈ بھی تقسیم کیا گیا ہے تا کہ ان کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Media & Communication Studies, University of Sindh

Comments
Post a Comment