Migration phenomena in Thar - Sonia Shaikh IR

Most of the part of your report is plagiarized. 
Your major point was migration. You are talking about drought in general.
No mention of recent past droughts and their effects
Nawaz Soho is DC now, since then there is no drought, no migration. questions and answers regarding it from him are irrelevant 

Migration phenomena in Thar not properly described and no figures and fatc 

To be checked 

3525 words 

انویسٹیگیٹو رپورٹ۔ سونیہ شیخ۔ بی ایس 3۔رول نمبر۔144۔اردو

تھرواسیوں کی نکل مکانی



قحط کیا ہے؟

قحط، ایک ایسا دورانیہ ہے جس میں برسات نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی شدید قلت ہوجا تی ہے، اس کے باعث وہاں جاندار کا زندہ رہنا نہ ممکن ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ زندگی کی تمام ضروریات اور قل وسائل ختم ہوجاتے ہیں۔ قحط کی صورتحال عام طور پر کچھ مہینے یا ایک سال رہتی ہے، مگر کبھی کبھی ایک قحط کے ساتھ مسلسل دوسرا قحط بھی آسکتا ہے جو اپنے ساتھ بڑی تباہی لاسکتا ہے۔ اس ہی طرح تھرپارکرضلع(تھر) سندھ کا صحرائی علاقہ ہے، جو ہر سال کئی قدرتی مصیبتیں برداشت کرتا ہے،ان قدرتی آفات میں سب سے بڑی آفت قحط کی صورتحال ہے۔

قحط کے اہم اسباب

تھر پارکر میں قحط آنے کی تین بنیادی وجوہات ہیں: پہلی برسات میں کمی،دوسری آبادی کا بڑھنااور تیسری تھرکول پروجیکٹ۔

۱)برسات کی کمی 

موسم میں غیر معمولی تبدیلیاں آنے کے وجہ سے تھرپارکر میں بارش بہت کم ہوتی ہے۔ نتیجتاً یہ صحرا خشک سالی کا شکار ہوتا ہے۔ جس کے سبب زمین خشک ہوتی ہے، فصلیں تباہ ہوتی ہیں، بچوں میں غذائیت کی کمی پیدا ہو تی ہے،اموات کی شرح میں اضافہ ہو تا ہے اور اس مخصوص خطے کے ماحولی نظام و زراعت پر گہرامنفی اثر پڑتاہے۔ اگرمزید کچھ عرصہ برسات نہیں ہوتی تو وہ صورتحال قحط سالی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

۲)آبادی کا بڑھنا

 قحط کی دوسری وجہ آبادی میں اضافہ ہونا ہے، کیوں کہ جیسے آبادی بڑھی ہے ویسے ہی گھر اور روڈ بنانے کے لیے درخت کی کٹائی میں اوستاً اضافہ ہوا ہے۔ صحرائی علاقے میں درخت ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہیں پر ان کی کٹائی سے قحط کی صورتحال بڑھنے لگتی ہیں۔نتیجے میں گرمی کے درجہء حرارت میں اضافہ ہوتا ہے، زمین خشک ہونے لگتی ہے اور ہوا میں نمی ختم ہوجاتی ہے۔ یہ تمام چیزیں مل کر قحط کی سازگار حالت پیدا کرتی ہیں۔

۳) تھر کول پروجیکٹ

تھر کول پروجیکٹ صحرائی لوگوں کو بجلی فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ ہے،پراس سے 50 فیصد لوگوں پر منفی ماحولیاتی اثرات پڑتے ہیں۔ دی نیوز کے مطابق تھر کول کی زہریلی گئسوں سے تقریباً 30 ہزار اموات ہو سکتی ہیں اور اس پروجیکٹ سے زمین کے اندر کا پانی بہت تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ جس کے باعث آنے والی چند نسلوں کو پانی کی شدید قلتدرپیش ہو سکتی ہے۔ اس پروجیکٹ سے ماحول میں آلودگی بڑھ رہی ہے، زہریلی گئسوں کی وجہ سے سانس کی بیماریاں ہورہی ہیں اور  قحط کی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔  

قحط کے اثرات

قحط کے اثرات غیر معمولی طور پر اس خطے کی ہر ایک شے پر پڑھتے ہیں۔ قحط سالی کی وجہ سے سب سے پہلے اس علاقے کی فصل تباہ ہوجاتی ہے،  بچوں میں غذائیت کی کمی ہوتی ہے، شیرخوار بچوں کی اموات میں اضافہ ہوتا ہے، حاملہ عورت کا حمل یا کبھی کبھار حاملہ عورتیں بھی موت کا شکار بنتی ہیں۔ مطلب ان کے جان و مال کا بڑا نقصان ہوتا ہے۔تو یہ لوگ اپنی جان بچانے کی خاطر نکل مکانی کرتے ہیں۔

نکل مکانی

تھرپارکر میں عام طور پر نکل مکانی مستقل اور عارضی طور پر ہوتی ہے۔ مستقل نکل مکانی وہ لوگ کرتے ہیں جو مالی طور پر بہتر ہوں اور ایک جگہ سے دوسری جگہ مستقل رہنے کے قابل ہوں۔ عارضی نکل مکانی وہ لوگ کرتے ہیں جو اپنی زندگی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ قیام کرتے ہیں۔ عارضی نکل مکانی کے بھی دو قسم ہیں ایک موسمیاتی نکل مکانی اور دوسری قحط سالی کی صورتحال میں نکل مکانی۔

موسمیاتی نکل مکانی 

تھرپارکر میں بئریج ایریا کے قریب بسنے والے لوگ موسمیاتی نکل مقانی کرتے ہیں۔ تھرواسی موسمیاتی نکل مکانی مارچ۔اپریل کے دوران کرتے ہیں جب گندم کی کاشت کاری کا وقت آتا ہے۔ اس نکل مکانی میں صرف گھر کے مرد یا وہ لوگ سفر کرتے ہیں جو اپنے اہل وعیال کے لیے کھانے کاکچھ بندوبست کرسکیں۔

نکل مکانی قحط سالی کی صورت میں 

 تھرواسی قحط سالی میں اپنا گھر چھوڑ کر، اپنی عورتوں، بچوں اور مال مویشی کے ساتھ نکل مکانی کرکے اس جگہ جاتے ہیں جہاں ان کی زندگی کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔پھر قحط کی صورتحال ختم ہونے کے بعد واپس تھرپارکر چلے آتے ہیں۔ اس پورے مرحلے کے دوران لوگوں کا بہت نقصان ہوتا ہے اور کئی مشکلات کا سامنہ کرنا پڑتا ہے۔ 

نکل مکانی کے دوران کیا مشکلات آتی ہیں اور کیسے انکا سامنہ کرتے ہیں؟

نکل مکانی کے دوران تھرواسیوں کو  بہتمالی نقصان ہوتا ہے، ان کے پاس سفر کے لیے کرایہ بھی نہیں ہوتا۔ وہ اپنا مال مویشی کم دام میں فروخت کرکے یا پھر اپنے زیورات گروی رکھ کر کچھ پئسے اور خوراک اپنے سفر کے لیے رکھتے ہیں۔تھرواسینکل مکانی کر کے نہری علاقے میں قیام کرتے ہیں اور وہیں پر کھیتی باڑی کرتے ہیں،جس میں گندم کی کاشتکاری اور گننے کی کٹائی کرتے ہیں۔ اس طرح محنت مزدوری کرکے اپنا گزر سفر کرتے ہیں جب تک قحط کی صورتحال قائم ہوتی ہیں۔

نکل مکانی کے نتیجے میں کیا نقصان ہوتاہے؟

۱)نکل مکانی کے دوران تھرواسیوں کا بہت جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے، ایک مٹی کے برتن سے لے کر مال مویشی تک ان کو بڑا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس مشکل وقت میں سب سے بڑا نقصان ان کے مویشی کا ہوتا ہے، جن پر 70 فیصد ان کی زندگی کا انحصار ہوتا ہے۔ ایک پروفیسردسرت کے مطابق تھرواسی اپنے مال میں بھیڑ(دنبے)کو زیادہ پالتے ہیں کیوں کہ یہ جانور سال میں دو مرتبہ بچے پیدا کرتا ہے۔حالانکہ ایک ریسرچ کے مطابق بھیڑ صحرا کا جانور نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھیڑ مصیبت آنے سے پہلے اس کے خوف میں مرجاتا ہے،اس لیے تھرواسیوں کامویشی میں زیادہ نقصان ہوتا ہے۔

۲)نکل مکانی کے دوران جو لوگ اپنے زیورات گروی رکھتے ہیں، وہ کبھی کبھی حاصل نہیں کر پاتے۔ کیوں کہ ان کا نقصان اتنا ہو چکا ہوتا ہے کہ وہ کچھ پئسوں سے اپنا پیٹ پالیں یا زیورات اٹھائیں۔

۳) بچوں کی تعلیم مکمل طور پر تباہ ہوجاتی ہے۔ جنتا وقت قحط کی صورتحال قائم ہوتی ہے اتنا وقت بچے تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔

۴) نکل مکانی کی وجہ سے لوگوں پر موسمیاتی تبدیلیاں اثر انداز کرتی ہیں اور پانی تبدیل ہونے کی وجہ سے وہ متفرق بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جو کچھ بڑی مشکلوں سے کماتے ہیں وہ بیماریوں کے علاج میں خرچ ہوجاتا ہے۔ اس وجہ سے لوگ خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، جس میں خواتین کی شرح زیادہ پائی جاتی ہے۔

۵)نکل مکانی کی وجہ سے لوگوں کے کچے گھر تباہ ہوجاتے ہیں۔ جنہیں وہ واپس آکر دوبارہ تعمیر کرتے ہیں۔

۶) بارش کم ہونے کی وجہ  سے میٹھے پانی کے کنوئے کھارے پانی میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کو پینے کا پانی حاصل کرنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ اور کھارا پانی پینے سے ان کے دانت خراب ہوجاتے ہیں کیونکہ اس پانی میں نمکیات بڑی مقدار میں موجود ہوتی ہے۔

تھرواسی ایک جگہ قیام کیوں نہیں کرتے؟اور کون سے قبیلے یا ذات سے وابستا لوگ   نکل مکانی کرتے ہیں؟ 

تھرواسی ایک جگہ قیام نہیں کرتے کیونکہ جب کمانے کے ذرائع نہیں رہتے، فصل نہیں ہوتی تولوگ مکمل بیروزگار ہونے کی صورت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنا پیٹ پالنے کے لیے دربدر ہوتے رہتے ہیں۔ تھر میں ہندو برادری میں کولہی، بھیل، میگواٹ اور مسلمانوں میں راہیموں، سمیجو، راجڑ اور مگریا رہتے ہیں، جن میں اکثریت ہندو برادری کی ہے۔لوگوں کی نکل مکانی کا تعلق ان کے حسب نسب سے نہیں بلکہ ان کی کلاس یعنی ان کے طبقے سے ہے۔تھر میں تین غریب طبقیبستے ہیں، ۱)ہائر کلاس کے مفلس ۲) مڈل کلاس کے مفلس ۳) لوئر کلاس کے مفلس۔ ہائر کلاس کے مفلس وہ لوگ ہیں جن کے پاس ہنر ہوتا ہے، جیسے تعمیر کا کام، رنگ کرنا یاسلائی و کڑاہی وغیرہ۔ جن لوگوں کے پاس ہنر ہوتا وہ نکل مکانی بہت کم کرتے ہیں۔ ایسے ہنر مند لوگ این جی اوز سے ملتے ریلیف میں رہ کر اپنا گزر کر لیتے ہیں۔مڈل اور لوئر کلاس کے مفلس وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس کوئی ہنر نہیں ہوتا اور انکی زندگی کا مکمل دارومدار کھیتی باڑی اور مال مویشی پر ہوتا ہے تو وہ لوگ سب سے زیادہ نکل مکانی کرتے ہیں۔

تھرواسی سفر کیسے کرتے ہیں؟

 جب تھر میں روڈ رستے نہیں بنے ہوئے ہوتے تھے اور ٹرانسپورٹ کی سہولیت نہیں ہوتی تھی،تو تھرواسی پیدل سفر کرتے تھے۔جس سفر میں ان کو دو تین مہینے گزر جاتے تھے،اس سفرکے دوران ان کا جانی نقصان بہت زیادہ ہوتا تھا۔سفر کی سختیاں برداشت کر کے ان کے معصوم بچے، حاملہ عورتیں اور جانور مر جاتے تھے۔ ٹرانسپورٹ کی سہولیت کے بعد سفر کچھ قدر آسان ہوا ہے، لیکن اس صورت میں جب ان کے مالی حالات کچھ بہتر ہوں تاکہ وہ سفر کرنے کا کرایہ ادا کر سکیں۔ 

برادری کے سربرہ اورمعروف شخشصیات کا کردار

تھرپارکر میں برادری کے سربراہ اپنی طرف سے لوگوں کو سہولیات مہیا کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ نکل مکانی کرنے والوں کی تعداد کی فہرست بنا کر حکومت سے مدد لینے کی جدوجہدکرتے ہیں اور این جی اوز سے اجلاس رکھ کر انکی مدد کے لیے کچھ اقدامات اٹھانے کے اہتمام کرتے ہیں۔

تھر میں مسکین جان خان کوسو جیسے سوشل ورکرز بھی گزرے ہیں،جو خود اپنا مال خرچ کرکے لوگوں کی مدد کرتے تھے۔ ان میں سائین سچل جنجی اور ان کا بیٹا جام ساقی بھی نامور سوشل ورکرز رہیں ہیں۔جام ساقی نے تھر میں بچوں کے لیے اسکول اور ہاسٹل بنوائیے تھے، اپنی فصلیں لوگوں کودیں تاکہ وہ اپنا پیٹ پال سکیں اوراپنے گھر میں اسکول کے بچوں کو مفت کھانا کھلاتے تھے۔ آج وہ اسکول کالیج میں تبدیل ہو چکا ہے۔ پر اب تھرپارکر میں نہ وہ باہمی تعاون جیسا معاشرہ رہا جو ایک دوسرے کی اتنی مدد کریں اور نہ ہی کوئی معروف شخشصیات ان کی مدد کو آتی ہیں۔ جیسے معاشرہ بڑا ہے ترقی کی ہے ویسے ہی اخلاقیات ختم ہوتی جا رہی ہے۔

نکل مکانی کے دوران حکومت کا کردار

تھرپارکر کے ڈپٹی کمیشنر محمدنواز سوہوسے جب تھرواسیوں کی نکل مکانی کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنا کردار پوری طرح سے ادا کرنے کی بھرپور کاوشیں کرتے ہیں۔حکومت کی طرف سے قحط سالی کاا علان ہوتے ہی ہم فوری طور پر لوگوں کی امداد کرتے ہیں۔ ان کے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرتے ہیں اور ان کے مال مویشی کو بچانے کے تمام احتیاطی اقدام فوری طور پر اٹھاتے ہیں۔ مختلف دیہاتوں میں سروے کرتے ہیں۔جہاں بھی کوئی وباء پھیل جاتی ہے وہاں پر فری میڈیکل کیمپس لگا کر لوگوں کا علاج کرتے ہیں اور جانوروں کی فری ویکسینشن کرتے ہیں، تاکہ ان کا مال بچایا جا سکے اور اس قحط کی صورتحال میں ان کا کم سے کم نقصان ہو۔ انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اسسٹنٹ کمیشنر بھی اپنا بہتر کردار ادا کرتے ہیں۔ جو  ڈپٹی کمیشنرکی ہدایات پر چل کر لوگوں میں حکومت کی طرف سے گندم تقسیم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ  حکومت کی طرف سے دال، آئل اور چاکلیٹس تقسیم ہوئے ہیں، معزور لوگوں کے لیے ویلچیئرز اور حاملہ عورتوں کے لیے ایک غذائی فلیوڈ بھی تقسیم کیا گیا ہے تا کہ ان کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں۔

جب ڈپٹی کمیشنر سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آج تک حکومت نے اپنے پلانز کے مطابق کتنی حد تک  تھرواسیوں کے لییسہولیات مہیا کی ہیں،تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ سندھ حکومت کی طرف سے کئی پروجیکٹس مکمل ہوئے ہیں اور کچھ ابھی تک جاری ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے تھر کول پروجیکٹ کے متعلق بات کی کہ اس کے ذریعے سے ہم نے تھر کا انفراسٹرکچر بہتر کیا ہے، روڈ تعمیر کر ٹرانسپورٹ کو بہتر کیا ہے اور لوگوں کو انٹرنیٹ کی سہولیات سے آراستہ کیا ہے۔ آر اوز پلانٹس کی مدد سے کھارے پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کر کے ان کو پینے کا پانی فراہم کرتے ہیں۔ ہر تعلقے کے ہیڈ کواٹر میں فری آئی کیمپ اور میڈیکل کیمپس لگائے ہیں۔ فیڈرل گورنمنٹ نے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ساتھ پورے ملک میں 12 ہزار کیش گرانٹ دی تھی اور تھر پارکرمیں ہر گھر میں 16ہزار کی کیش گرانٹ دی گئی ہے۔اس کے علاوہ حکومت نے تعلیم کو عام کرنے کی کوشش میں گورنمنٹ اسکولوں میں ہر طالبہ کو ایک ہزار سے دو ہزار کی کیش گرانٹ دی جاتی ہے تاکہ اسکولوں میں لڑکیوں کی داخلا کی شرح کو بڑھایا جا سکے۔
 جب ڈپٹی کمیشنر سے تھرواسیوں کی نکل مکانی کے مسئلے کا حل جاننا چاہا تو انہوں نے کہا کے اس مسئلے کا مکمل طور پر کوئی حل نہیں نکل سکتا۔پر ہم اپنی طرف سے بھرپور کوششیں کر رہیں ہیں کہ نئے پروجیکٹس لائیں اور اس مسئلے کو حل کریں۔ تھرپارکر کو بھی سندھ کے دوسرے ضلعوں کی طرح بنائیں اور لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔
نکل مکانی کے دوران این جی اوز کا کردار
تھرپارکر میں 54 این جی اوز لوگوں کے ویلفیئر کے لیے کام کرتی ہیں، ان این جی اوز کا دارومدار ڈونرز پر ہوتا ہے۔ جب ڈونرز کی طرف سے کوئی پروجیکٹ ملتا ہے اور سپورٹ ملتی ہے تو یہ ادارہ ان پروجیکٹس پر کام کرتا ہے۔ تھرپارکر میں سب سے پہلے بانہں بیلی این جی او بنی، جس نے سب سے پہلے تھرپارکر میں قحط کی صورتحال پر کام کیا۔ اس کے بعد ایکشن ایڈ، تھردیپ رورل ڈیولپمنٹ پروگرام اور ایسوسی ایشن فار واٹر، اپلائڈ ایجوکیشن اینڈ رینیوئبل انرجی جیسی مختلف آرگنائیزیشنز تھر میں کام کرتی ہیں۔ یہ تمام آرگنائیزیشنز مختلف کامپیٹیٹو سیمینارز کرتی ہیں، لوگوں کے اسکلز بڑھانے کے لیے مختلف ٹرنینگ سینٹرز کا انتظام کرتی ہیں اور پینے کے پانی کے لیے آر اوز پلان بھی نسب کیے ہیں۔
ایسوسی ایشن فار واٹر، اپلائڈ ایجوکیشن اینڈ رینیوئبل انرجی نے تھرپارکر میں مختلف پولٹری فارمز کھولیں تاکہ ان کا ذریعہء معاش بن سکے، مختلف دیہاتوں میں 30-20ہنرمند عورتوں کو سلائی میشنز، کپڑا، قینچیاں اوردھاگا تقسیم کیاگیا، حکومت کے ساتھ 27 لاکھ جانوروں کو فری ویکسینیشن دی گئی، لوگوں کو فصل کی کاشت کاری کے لیے بیج تقسیم کیے گئے،میٹھے پانی کی سہولیات دی گئی اور لوگوں کو موبائل ریپئرنگ اور ڈرائیونگ کے کام سکھائے گئے۔ 
اس ہی طرح تھردیپ رورل ڈیولپمنٹ پروگرام نے بھی تھرپارکر میں قحط سالی کی صورتحال میں مختلف دیہاتوں میں 70فری میڈیکل کیمپس لگائے جہاں چار ہزار مریضوں کا علاج ہوا،50-40 دیہاتوں میں جانوروں کی فری ویکسینیشن کیمپس لگائے گئے جو آج تک فنکشنل ہیں، لوگوں کے لیے نرسرزکھولی گئیں،جہاں پر کھارے پانی کے پودے اگائے جا سکتے ہیں،مویشی کو پالنے کے لیے الگ فارم دیے ہیں، بھینس کا دودھ بڑھانے کے لیے حکومت کے ساتھ امریکا اور ساحیوال کے بیج متعارف کیے ہیں،برسات کا پانی جمع کرنے کے لیے رزروائیر کی سہولیت دی۔ بیر اور لیموں کے باغات تھرواسیو کو روزی کمانے کے لیے دیے ہیں۔ اس کے علاوہ تھردیپ این جی او تھرواسیوں کو 60 ہزار گرانٹ کیش کی شکل میں نہیں بلکہ وہ کوئی کاروبار وغیرہ کی شکل میں دے رہیں ہیں۔
جب تھردیپ رورل ڈیولپمنٹ پروگرام اور ایسوسی ایشن فار واٹر، اپلائڈ ایجوکیشن اینڈ رینیوئبل انرجی سے تھرواسیوں کی نکل مکانی کے مسئلے کا حل پوچھا گیا تو دونوں این جی اورز نے تقریباً ایک جیسے جواب دیے کہ تھر میں ہوم بیسڈ انڈسٹری بنائی جائیں، ان کی پراڈکٹس مارکیٹ تک لائیں جائیں،ڈرپ ایریگیشن سسٹم کو عام کیا جائے اور کھارے پانی کو زراعت میں استعمال کرنے کے طریقے اپنائیں جائیں۔
تھرواسیوں کی نکل مکانی کا حل
تھرپارکر کے رہواسیوں کی نکل مکانی کا حل صرف حکومت کے پاس ہے۔این جی اوز کے پاس اچھے پلانز ہیں، اگر حکومت  این جی اوز سے پلانز لیں تو مل کر اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں۔
۱) تھرپارکر میں بڑے پاور پلانٹس لگائے جائیں، جو کھارے پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کریں تاکہ وہ پانی کھیتی باڑی میں بھی استعمال ہو سکے اور موسم کے مطابق فصل اگا ئی جاسکے۔
۲) کارونجل جبل کا پانی اور برسات کا پانی جمع کرنے کے لیے ڈیم بنائیں۔ پھر اس ڈیم سے کینال بنا ئیں جس سے پانی ایک فلو کی شکل میں دیہات تک پہنچے تا کہ لوگ صرف برسات کے پانی پر انحصار نہ کریں۔
۳)عورتوں کی دستکاری اور ان کے ہنر کا نما کیا جائے۔ ان کی بنائی ہوئی چیزیں بیرونے ملک جائیں وہاں تک ان کا کام متعارف ہو اور ان کا کاروبار ہوسکے۔ اس طریقے سے عورتوں کے لیے گھر بیٹھے کمانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ 
۴) تھر میں موجود قیمتی چیزیں جیسے گونداورشہد کے اسٹالز لگائے جائیں اور انکی پروڈکٹس جیسے مکھن، گیھ اور کھیس کی مارکیٹ تک رسائی کے ذرائع بنائے جائیں۔
۵) حکومت ایک ایسی پالیسی بنائے جس میں فصل کی کاشت کے بعد ان کی فصل کم دام میں نہ فروخت ہو،تا کہ ان کو اپنا پورا حق ملے سکے۔
۶)یونیورسٹیز میں تھرپارکر کی سیٹس بڑھائی جائیں۔
۷) حکومت کو چاہیے کہ وہ وکیشنل ٹرینگ سینٹرزکھولیں، جہاں عورتوں کو سلائی کڑاہی اور کپڑے بنانے سکھائے جائیں تاکہ وہ اپنا ذریعہء معاش بنا سکیں۔
کنکلوجن
اس پورے مطالعے سے یہ معلوم ہوا کہ تھرپارکرمیں نکل مکانی کی سب سے بڑی وجہ قحط سالی ہے۔نکل مکانی کے دوران رہواسیوں پر ماحولیات کی تبدیلیاں کس قدر اثرانداز ہو تی ہیں۔لوگ کس طرح سے اپنا رہن سہن تبدیل کر کے اپنا وقت مشکلسے گزارتے ہیں۔اس دوران کیا مشکلاتیں انہیں درپیش آتی ہیں کتنا ان کا نقصان ہوتا ہے۔ اس پورے مرحلے میں حکومت اور این جی اوز کس طرح مدد کرتی ہیں۔ حکومت اور این جی اوز اپنے پلانز کے مطابق کتنی حد تک تبدیلیاں لاچکی ہیں۔ تھر کی اس نکل مکانی کو روکنے کی کتنی کوششیں کی گئیں ہیں۔
نکل مکانی کے اس مرحلے میں لوگوں کیجان ومال کابہت نقصان ہوتا ہے۔ہر بار قحط کی صورتحال میں اپنی جان بچانے کی خاطرنکل مکانی کی جدوجہد کرتے ہیں اور بہت سی تکلیفیں برداشت کرتے ہیں۔ اگر اس مسئلے کے لیے کارآمد منصوبے بنائے جائیں اور اسے حل کرنے کی کوششیں کی جائیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے اور ایسے تھرواسی اپنے جان ومال کے نقصان سے بچ جائیں گے اور ایک ہی جگہ اپنا مستقل قیام کرسکیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تھرواسیوں کے لیے بہتر اقدامات اٹھائیں تاکہ نکل مکانی کو کسی حد تک روکا جا سکے۔
Migration phenomena in Thar - Sonia Shaikh 

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi 

Media & Communication Studies, University of Sindh

Comments

Popular posts from this blog

Season Of Silence Bushra Fatima چُپ کا موسم

Traffic Congestion in Main Qasimabad Komal Qureshi

Waseem Akram Viral memes- Eng