Jawed Panhwar سندھی صحافت کی تاریخ 1
Pls do not send repeatedly same mail, and assigning no reason.
Every time u are missing one or the other thing.Earlier subject line was missing now file name is in correct. file name is Document. Roll No /???????
Do not send again unless u are asked.
Jawed Panhwar
Sindhi journalism 1
سندھی صحافت نویسی پسمنظر اور تاریخ
صحافت کا علم اور عمل جو پہلے لکھائی اور چھائی تک محدود تھا سائنس اور ٹیکنالوجی
کے ساتھ ترقی کی نہ صرف الیکٹرانک میڈیا ریڈیو اور ٹی وی کے دور میں داخل ہوا پر
اب تو انٹرنیٹ کی ایجاد نے اسکی اہمیت تصور اور رفتار اب اور بھی بڑھا دی ہے
سندھی اخبارات اور رسالے اب آنلائن آگئے ہیں ویب ریڈیو منعقد ہو چکے ہیں
اور تو شوشل میڈیا پہ سندھی میں لکھنے کا سلسلہ جاری ہے
صحافت کی رفتار کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے کسی جگہ تک پہنچے
میں کئی دن اور ہفتے بھی لگ جاتے تھے مثال کے طور پر اٹھارا سو پانچ میں ایڈمرل
لارد نیلسن ٹریفلگر کی جنگ میں ایک بحری جہاز پے مارہ گئے تھے وہ خبر لندن تک
پہنچنے میں دو ہفتے لگ گئے تھے
رائل نیوی کا ایک لیفٹیننٹ وہی خبر لیکر خود ایک بحری جہاز میں سفر کرتا
لندن پہنچا تھا لندن کے علاوہ انگلینڈ کے دوسرے شہروں میں تو وہ خبر اور بھی دیر
سے پہنچی تھی
اسکے بعد ایک سو سال تک مواصلاتی ذریعے ذیادتر نہیں بڑہے سوائے اس کے کہ
ریل گاڑیاں چلنے لگی تتھیں
صحافت کو زیادہ ترقی تب ملی جب انیس سو بیس کو ریڈیو ایجاد ہوا انیس سو
انتالیس سے انیس سو پینتالیس تک دوسری
مھاپاری جنگ کے دوران بی بی سی کی خبروں نے تو دھوم مچادی تھی اور اخباروں کو ریڈیو نشریات کی وجہ سے بہت
خطرہ ہونے لگا تھا اور پھر انیس سو چھپن میں ٹیلیویزن وجود میں آگئی نومبر انیس سو
تریسٹھ میں جب آمر لکی صدر جان ایف کینیڈی دلاس میں قتل ہوا تو خبر کچھ ہی سیکنڈ
میں پوری دنیا میں پھیل گئی جس کا سبب ریڈیو اور ٹیلیویزن تھے
بی بی سی ریڈیو کی نشریات اتنی طاقتور
تھیں کے سندھ میں بھی سنے آتی تھیں
سورھیہ بادشاہ پیر صبغتہ اللہ کے
پاس بھی ایک ریڈیو تھا جس سی وہ بی بی سی کی خبریں سنتا تھا اور برطانوی فوجؤں کی چرپر اور پیش قدمی کے بارے میں نا صرف
خد باخبر رہتا تھا بلکے اپنے ہر مجاہدوں کو معلومات دے لک خالتون کے مطابق تیار
رہنے کی ہدایت کرتا تھا
سندھ میں مواصلاتی ذریعوں کی زیادہ ترقی نہ یونے کے باعث کراچی سے چھپنے
والے علاقوں تک سورج ڈوبنے کے وقت یا دوسرے دن پہنچتی تھیں
اخباروں کے بنڈل ترینوں اور بسوں
میں ڈہیر کئے جاتے تھے اور اخباروں کی
تقسیم بھی اس گاڑیوں کے مختلف شہروں میں پہنچنے کے وقت پے دارومدار رکھتی تھیں
ایکیسوی صدی کی شروعات سے ایک پے فرق پڑا
کے اخباری اداروں نے وہی
اخبار ایک جگہ سے زیادہ جگہؤں سے شائع
کراکے بانٹنے لگے
اس حکمت عملی سے اخباریں بنا دیر کئے صبح سویرے کو ہر جگہ پہچنے لگی
اس وقت کچھ اخباریں ایک ہی وقت
کراچیی حیدرآباد اور سکھر سے شائع ہوتی ہیں
صحافت کی اہمیت کی وجہ سے دنیا کی یونیورسٹیوں کی اندر صحافت کے علم کا نہ
صرف شعبا قائم کیا گیا پر جیسے کی صحافت خبروں تک محدود نہیں تھی جسکی وجہ سے اسکا
نام تبدیل کر کے ماس کمیونیکیشن رکھا گیا جس میں پرنت میڈیا الیکڑانک میڈیا اور
ایڈور تائزنگ کا علم سکھایا جاتا ہے اس طرح پبلک ریلیشنز تعلقاتِ عامہ بھی ماس
کمیونیکیشن کا حصہ ہے جس میں سرکاری اور خانگھ اداروں کے پبلک ریلیشن والے شعبوں
میں جانے کیلئے ہینڈآئون اور پریس نرینر بنانا سکحھائی جاتی ہے
سندھ میں شعبہ ذولفقار علی بھٹو کی حکومت کے دنوں اس سئوسل کی دییائی کے
اوائل میں کراچی یونیورسٹی میں صحافت کا شعبہ قائم ہوا جس کے بعد انیس سو پچھتر کے
دوران سندھ یونیورسٹی جامشورو میں ایسا شعبہ قائم ہوا جہا سے ماسٹرس کی ڈگری دی
جاتی ہے
کتنے ہی شاگرد ان یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں
سندھ میں چھپائی کی شروعات سندھی زبان میں اٹھارا سو اڑتالیس سے شروع ہوئی
اور پہلا سندھی کتاب اٹھارہ سوااٹھاون میں شائع ہوئی
ہسٹری آف انڈین لٹریچر والیم نو حصہ گیارہ
مرجب سن سے پہلے سندھی ٹائپ کا استعمال اٹھارہ سواٹھاون لنڈن میں ہوا جب
ارنست ترمپ کا سندھی ریڈنگ بک شائع ہوا
اس کامیابی کے بعد اٹھارہ سو تریسٹھ میں سسئ پھنول کا داستان شائع کیا گیا
ارنست ٹرمپ شاھ جورسالو میگزین جرمنی میں اٹھارہ سو چھیاسٹھ شائع ہوا جو کہ نا
مکمل تھا
جس میں باب ترتیب سے نہیں تھے تنن سال کے بعد کراچی میں پہلی لیٹرپریس قائم
ہوئی جھا سے پہلی سندھی اخبار شائع کی گئی
انگریزوں نے یہاں پہ کرسچن اسکول
قائم کیئے تھے جہاں پڑھانے کیلئے بائبل کا
سندھی ترجمہ شایع کیا گیا جس سے سندھی نٹر لکھنے اور شایع ہونے کی شروعات ہوئی جو
کہ اس وقت کے چھپائی جی طریقے کار سے سندھی چھپائی کا دور اٹھارہ سو اڑتالیس بتایا
جاتا ہے پر تاریخ کی حقیقتیں بتائی نہیں
کے سندھی چھپائی کی شکلیں اس سے پہلے بھی ہوئی تھیں
انسٹیٹیوٹ آف سندھ ییونیورسٹی جام شورو میں قرآن حدہث تفسیر شاعری تاریخ حلب وغیرہ کے موضوع پے اٹھارہ سو چوراسی کے زمانے کے تین سو سے
زیادہ ہاتھ سے لکھے گئی کتاب اور اخباروں کے نسخے پڑے ہیں اس کے علاوہ تاریخی اخبار الوحید انیس سو بیس سے
انیس سو پچاس انگریزی اخبار سندھ قاصد اٹھارہ سو چوؤں سے اٹھارہ سو ستاون سندھ
سدار اٹھارہ سو آٹھٹھر اور انگریزی اخبار ڈیلی گیزٹ انیس سو اکیس سے انیس سو اکتیس
کے شمار رکھے گئے ہیں
سندھ میں صحافت کی اقدامات کا جائزہ
سندھ میں صحافت کا سلسلہ دسویں صدی سے بھی پہلے کا معلوم ہوتا ہے دسویں صدی سے لیکر انیسویں صدی تک یعنی
انگریزوں کی آمد تک سندھ میں فارسی زبان متعارف ہوئی اگرچہ دسویں صدی کے دوران
سندھی زبان کے مالا مال ہونے کی تصدیق مشہور سیاحوں اور مؤرخوں استخری ابن حوقل اور مقدسی نے کی تھی پر ادبی
اور سرکاری زبان زیادہ تر فارسی تھی ظاہر ہے کہ اس صورتحال میں اخبار نویسی بھی بعد میں وہ جس بھی شکل میں تھی فارسی زبان
میں ہی چلتی ہوگی حکیم محمد سیوھانی کے مطابق مغلوں کے دور میں کم از کم تین
روزانی اخباریں ایک پکرسرکار دوسری سوستان سرکار اور تیسری نٹی سرکار ذریعے نکلتی
تھیں جس میں اکثریت اعلٰی طبقے کی مصروفیات
مشغلے شکار تقرری اور تبادلوں کے احاطے شایع ہوئے تھے انہیں اس وقت کے سرکاری ہینڈآئون کہہ سکتے ہیں
جس سے آج کل کی حکومتوں کے سرکاری ہینڈآئون روزانہ جاری ہوتے ہیں وہ اخباریں یا
ہینڈآئون فلم نگاروں سے لکھوا کے بڑے لوگوں میں تقسیم کئیے جاتے تھے
حکیم صاحب کے مطابق مشہور سرکار
سیوستان کے نام سے نکلنے والی روزنامہ اخبار کی آفس سیوہن میں اٹرل کٹھال کے قریب تھی مغلوں کے دور میں سید
عبدالخلیل بلگرامی اور سید غلام علی آزاد بلگرامی سیوہن میں کافی وقت گزارا اور ان
کے ذمہ پے کام تھا کی یہاں کی حالتوں سے دہلی کی حکومت کو باخبر رکیں یہ دونوں
بڑے تاریخدان تھے واقع نگاروں اور
واقعات کو بھیجنے کے ان دنوں میں بندوبست
سیوہن کے علاوہ بکر اور ٹھٹھہ میں بھی تھا آزاد بلگرامی بڑے محدث اور عالم محمد
حیات سندھ کا شاگرد اور سیوہن میں اکبر بادشاہ کی حکومت کے وقائع سرکار سیوستان
اخبار کے ایڈیٹر تھے ڈاکٹر عبدالمجیید میمن کے مطابق مغلوں کے زمانے میں اخبار
نویسی اور وقائع نویسی نے بڑی ترقی کی ابوالفضل آئین اکبری میں وقائع نگاری کی
اہمیت کے بارے میں لکھتے ہیں سلطان کے واقعات کو قلمبند کرنا نہ صر ف حکومت کی
ترقی اور انتظام کیلئے ضروری ہے جیسا کہ قدیم زمانے کا بھی پتا چلتا ہے ہر اس اصل
حقیقت سےاہیل زمانے کو اس مبارک دور اکبر ک کے دور میں آگاہی ملی کے اس دور میں دراصل وقائع نویسی
نے اخبار نویسی کی بنیاد کا کام کیا اس دور میں خبروں کو پپھیلانےکے بارے میں
ڈاکٹر عبدالسلام خورشید اپنی تصنیف میں
لکھتے ہیں کے اب ہم کو دیکھنا پڑیگا کے سلاملین دہلی اور مغل حکمرانوں کے دور
میں خبروں کو کیسے عام لوگوں تک پہنچایا
جاتا تھا آج کے دور کا مقابلہ چندسوسال پہلے سے کرینگےتو معلوم ہوگا کے اس وقت اب
سے بھی کم لوگوں کو خبروں سے دلچسپی تھی عوام صرف بڑی بڑی فتوحات کی خبروں میں
دلچسپی لیتا تھا خبر پھلانے کا اس وقت طریقہ نغارہ بجا کے شھر میں اس کا اعلان
ہوتا تھا کبھی کبھی مسجدوں میں بھی اعلان ہوتے تھے اور خبروں میں دلچسپی کا سامان
صرف امیروں اور سرداروں کے لئیے موجود تھا اس وقت میں بھی اندرونی امن اور بیرونی
حملوں سے بچنے کیلئے اخبار تنظیم زیادہ
مدد دیتی تھی اخباری تنظیم عوامی شکایتوں کے ازالے کیلئے بہترین ذریعہ تھا اخبار
نویس کو معاشرے میں اعلٰی مقام حاصل تھا اور وہ خبروں کی فراہمی اور پہنچ میں مکمل
آزاد تھا جو خبریں معاشرے کے جس حلقے تک
پہنچانا ضروری تھیں وہ پہنچائی جاتی تھیں سندھ میں ڈھول بجا کے اعلان کرنے رواج قدیمی ہے جو کے پیغام یا خبر کی رسائی کا ایک طریقہ تھا
دنیا میں اخبار نویسی کے پہلے دور کی باقاعدہ مرتب کی گئی تاریخ نہیں ہے پر
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام تک خبریں پہچانے کا آغاز چین ملک میں ہوا اور پہلی
اخبار کا نام سنگ پا تھا جو لکڑی کے ٹکڑوں سے چھپی ہوتی ہے کچھ لوگوں کا رایا ہے کے پہلی اخبار ایکنا
دیورنا تھی جو روم میں جولیس سیزر کے زمانے میں
دو رومن زبان میں نکلتی تھی ایکٹا دیورنا رک معنٰی ہے روز کے واقعات اس کے دو حصے ہوتے تھے ایک ایکٹا سینٹا اور
دوسرا ایکنا پیلیکا پہل حصہ مختصر سرکاری اطلاعات کا مجموعہ ہوتا تھا جس میں جنگوں
کے احوال چنائو کے نتیجے تفریحہ پروگراموں کے اعلان مذہبی رسوموں کے اطلاع اور دی
گئی سزاؤں کے بارے میں خبریں ہوتی تھیں دوسرے حصے ایکٹا پیلیکا میں عوام سے وابسطہ بائیں چھپنی تھیں یہ اخبار سرکار کی مدد سے شایع کی جاتی تھی جس
میں پیدا ہونے والے اور موت کے عدد و شمار خزانوں میں جمع کی گئی رقمیں صوبوں کے
حانے پینے کے تفصیل اور اس سے منسلک دوسری
خبریں شاھی سفر اور قافلوں کے پروگرام
کورٹ سرکیولر اور پارلیمنٹ میں کی گئی تقریریں شائع ہوتی تھیں صبح کے ناشتے کے وقت
روم کے سردار اور جن کی عورتیں ہی قدیم تریم گزیٹ نہایت شوق سے پڑھتے تھے کچھ
روایتوں کے مطابق چین کی اخبار ٹچانو اخباروں میں سے تصور کی جاتی ہے اس اخبار کو
پیکنگ گیزٹ بھی کہا جاتا ہے اس اخبار میں بیس سے چالیس صفحے ہوتے ہے اور ان کی
سرکاری گیزٹ کی حیثیت ہوتی تھی یہ اخبار چھ سو آٹھ سے نو سو پانچ تک نکلتی تھی
یورپ میں تحریرہ صحافت کی شروعات سترویں صدی سے ہوئی
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi
Media & Communication Studies, University of Sindh
Comments
Post a Comment